عظیم شاعر‘ ادیب ومحقق ڈاکٹر اسلم انصاری نے زندگی کی 81بہاریں دیکھ لیں

  عظیم شاعر‘ ادیب ومحقق ڈاکٹر اسلم انصاری نے زندگی کی 81بہاریں دیکھ لیں

  

ملتان (سٹاف رپورٹر)”میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں“ عالمی شہرت کے حامل ملتان سے تعلق رکھنے والے خطے کے عظیم نامور شاعرو ادیب اور محقق ڈاکٹر اسلم انصاری 81 سال کے ہوگئے۔نامورشاعر ناصر کاظمی کے رفیق‘ اردو اور فارسی زبانوں میں شاعری کرنے والے ڈاکٹر اسلم انصاری 30اپریل 1939ء میں ملتان کے علاقے پاک گیٹ میں پیدا ہوئے.ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے (بقیہ نمبر32صفحہ6پر)

سے ہے۔ان کے شعر وفکرپر علامہ اقبالؒ کے گہرے اثرات دکھائی دیتے ہیں (آئینہ خانہ عالم میں کھڑا سوچتاہو ں‘میں نہ ہوتا تو یہاں کون سا چہرہ ہوتا). ڈاکٹر اسلم انصاری نے سرائیکی ناول اور اردو افسانہ بھی لکھا ہے۔ انہوں نے ایمرسن کالج ملتان سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے اردو اعلیٰ نمبروں کے ساتھ مکمل کیا۔ ان کا شمار سید عبد اللہ کے پیارے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ یہیں ان کی ملاقات نامورشاعر ناصر کاظمی سے ہوئی۔ڈاکٹر اسلم انصاری کے مطابق ناصر کاظمی نے پہلی بارش کی غزلوں کا آئیڈیا انہی سے لیا۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی مثال علم ودانش کے ایک منبع کی ہے(جو سوچئے تو سبھی کارواں میں شامل ہیں‘ جو دیکھئے تو سفر میں ہرایک تنہا ہے)۔ڈاکٹراسلم انصاری طویل عرصہ محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے.کچھ عرصہ ملتان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹربھی رہے.انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی شعری وادبی تفہیم کے لئے ڈاکٹر افتخارشفیع اور ڈاکٹر جاوید اصغر کی کتابیں اہم ہیں.ادبی حلقوں کے مطابق آج پورے ملک میں ڈاکٹر اسلم انصاری جیسے لوگ شاید ایسے لوگ نہ ہونے کے برابر ہونگے جنہوں نے تحقیق وتنقید اور تخلیق کا چراغ 81 برس کی عمر میں بھی فروزاں رکھا۔ اس میں شک نہیں کہ اس خطے کی زبان اْردو سے پہلے فارسی تھی، عربی تھی، ملتانی تھی اور شاید سنسکرت بھی ہو۔ مگر ڈاکٹراسلم انصاری نے شعوری طور پر اْردو اور فارسی سے اپنارشتہ جوڑا۔ان زبانوں کے تخلیقی جوہر کو جذب کیا۔ پھر انگریزی زبان پر بھی انہیں دسترس رہی اور وہ جانتے تھے کہ خود پنجاب یونیورسٹی یا لاہور میں فارسی کے نامور اساتذہ انگریزی پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ چنانچہ جب کوئی شخص چار زبانوں میں تخلیقی اظہار کرتا ہوتو اْس کے تخیل کی دنیا میں کوئی نہ کوئی قریب یا دور کا دربار ضرور ہوتا ہے۔اْردو دنیا نے ڈاکٹر اسلم انصاری کو صف ِ اول کے لکھنے والوں میں جگہ دی۔ انہوں نے سرائیکی میں ایک رفیع الشان ناول ’بیڑی وچ دریا‘ لکھا،جس میں اپنے تخیلی ہم زاد،اس ناول کے ہیرو سانول کے بارے میں لکھا‘ ان کے لا تعدادمنتخب کلام بہت مقبول ہوئے جن میں ”دیوار خستگی ہوں مجھے ہاتھ مت لگا‘میں گر پڑوں گا دیکھ مجھے آسرا نہ دے *اب اور چلنے کا اس دل میں حوصلہ ہی نہ تھا‘کہ شہر شب میں اجالے کا شائبہ ہی نہ تھا*کسے کہیں کہ رفاقت کا داغ ہے دل پر*بچھڑنے والا تو کھل کر کبھی ملا ہی نہ تھا*دمک اٹھا تھا وہ چہرہ حیا کی چادر میں‘کہ جیسے جرم وفا اس کا مدعا ہی نہ تھا۔ڈاکٹر اسلم انصاری کی 81ویں سالگرہ پر ان کے چاہنے والوں نے دعائیں کی ہیں کہ اللہ تعالی ٰ ان کو صحت اور تندرستی کے ساتھ لمبی عمر عطا کرے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -