فارمل سیکٹر لیبر کی رجسٹریشن کانظام وضع کیاجائے، شمس الرحمن سواتی

  فارمل سیکٹر لیبر کی رجسٹریشن کانظام وضع کیاجائے، شمس الرحمن سواتی

  

ملتان (پ۔ر)نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی نے صدر مملکت اور وزیراعظم کے نام لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ نیشنل لیبر فیڈریشن چونکہ پاکستان میں لیبر کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے، ہم اس تشویشناک صورت حال میں آپ کو تجاویز پیش کرتے ہیں (بقیہ نمبر35صفحہ7پر)

اور امید کرتے ہیں کہ ان پر جنگی بنیادوں پر عمل درآمد کیاجائیگا۔ وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ پاکستان میں 80 فیصد لیبر رجسٹرڈہی نہیں، جبکہ ہیومن رائٹس واچ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انفارمل سیکٹرکے لیبر کی رجسٹریشن کا سرے سے کوئی نظام ہی نہیں ہے، جب کہ فارمل سیکٹر میں بھی ایک کروڑ لیبر رجسٹریشن سے محروم ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ کم از کم اجرت اور سوشل سیکورٹی سے بھی محروم ہیں۔ اگر ان کا ڈیٹا ہی نہیں تو حکومت ان کی امداد کیسے کرے گی لہذافوری اور جنگی بنیادوں پر ان کی رجسٹریشن کا نظام وضح کیا جائے۔ فارمل سیکٹر میں مستقل یا عارضی اور ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والوں کو تنخواہوں کی ادائیگی کویقینی بنایا جائے۔ انفارمل سیکٹر کے دہاڑی دار طبقے کے لیئے مالی امداد اور راشن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ لیبر قوانین کو یکجا اور موثر بنایا جائے، ان کی خامیاں دور کی جائیں، لیبر قوانین کا دائرہ انفارمل سیکٹر تک بڑھایا جائے اور ان پر عمل درآمد کو ئقینی بنایا جائے، اور ان پر عمل درآمد کرنے والی کرپٹ مشینری کا احتساب کیا جائے۔پاکستان میں اس وقت انسانوں کی حفاظت کے لئے لاک ڈاؤن ایک ضروری عمل ہے، لیکن لوک ڈاؤن دو دھاری تلوار کی طرح ہے، اگر یہ کمزور ہوتو عوام وباء کا شکار ہونگے اوراگر مضبوط ہو توبے روزگاری کا شکار ہونگے، پاکستان میں غذائی کمی کی وجہ سے نشونما پہلے ہی کمزور ہے۔،غربت کی وجہ سے لیبر کی جسمانی اور ذھنی صحت انتہائی کمزور ہے، حکومت پاکستان معیشت کو کھڑا کرنے اور ملازمتیں بچانے کی مختلف کوششیں کررہی ہے اور اس غرض کے لیئے انڈسٹری کو معاشی اور ریگولیٹری پیکجز فراہم کررہی ہے، انڈسٹری صرف ایکوپمنٹس، مشینری، بلڈنگزاور سرمائے وغیرہ ہی کا نام نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک بہت اہم حصہ انسانی و سائل ہیں،جس میں ہر ہنرمند اور غیر ہنر مند شامل ہیں، خواہ ان کو بلاواسطہ یا بالواسطہ ٹھیکیڈار یا کسی فرنچائز کے زریعے ملازمت دی گئی ہو۔فیکٹریوں کی پیداوار کے معیار،مقدار اورترقی کا انحصار لیبر کی جسمانی اور ذہنی صحت پر ہے۔ UNکی حالیہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی اور لیبر بحران کی وجہ سے پوری دنیا میں لیبر کلاس بے روزگاری کا شکار ہوگی۔

شمس الرحمن سواتی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -