دنیا بھر میں کوروناوائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ مگر ابھی بھی کتنے لوگ متاثر ہیں؟

دنیا بھر میں کوروناوائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ مگر ابھی بھی ...
دنیا بھر میں کوروناوائرس سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ مگر ابھی بھی کتنے لوگ متاثر ہیں؟

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)دنیا بھرمیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں صحتیابی کی شرح ہلاکتوں کی شرح سے بہت بہتر ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دنیابھرمیں کورونا وائرس سے متاثر تیس لاکھ افراد میں سے ایک ملین یعنی دس لاکھ افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ جبکہ بیس لاکھ بتیس ہزار صحتیابی کے منتظر ہیں۔

عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تین لاکھ چھبیس ہزار افراد اس موذی وائرس کا نشانہ بنے تاہم ان میں سے دس لاکھ ایک ہزار صحتیابی کے بعد گھروں کر روانہ ہوچکے ہیں جبکہ دو لاکھ تینتیس ہزار افراد کورونا سے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے۔

بی بی سی کے مطابق کووڈ 19 کے متاثرین میں ہلاکتوں کا تناسب کافی کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تیس لاکھ متاثرین میں سے بیشتر آخر کار صحت یاب ہو ہی جائیں گے، شاید بس کچھ کیسز میں وقت زیادہ لگ جائے۔

مگر کتنے لوگ بچ پائئں گے، اس کا انحصار اس وائرس کے متاثرین میں مہلک ہونے کی شرح پر ہوگا اور اس وقت ہمیں یہ شرح معلوم نہیں ہے۔

ماہرین کے تجزیے کے مطابق کورونا وائرس کے مہلک ہونے کی شرح عام نزلہ اور زکام والے وائرس انفلوئنزا (0.1%) سے زیادہ اور سارز وائرس (9.5%) سے کم ہے۔

 اگر ہم تفریحی بحری جہازوں یعنی کروز شپس کا جائزہ لیں جہاں کوئی باہر سے کیس نہیں آتا اور ٹیسٹنگ کی کمی بھی بہیں ہوتی تو وہاں پر اس کے مہلک ہونے کی شرح ایک فیصد ہے۔

مگر کیونکہ ہر ملک میں ٹیسٹنگ کی صورتحال اس قدر مختلف ہے (اور کسی ملک میں ان بحری جہازوں کے طرح آبادی کے ہر فرد کا ٹیسٹ نہیں ہو سکتا) ہمیں ابھی صرف مصدقہ کیسز اور ہلاک ہونے والوں کا تناسب پتا چلتا ہے۔

جب صرف ان لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں اس کی شدید علامات ہوں، تو ہلاک ہونے والوں کی شرح ایک فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس وائرس سے متاثر ہوں گے مگر ان کا اندراج نہیں کیا جا سکے گا اور اصل میں اس وائرس کے مہلک ہونے کی شرح کم ہی ہوگی۔

مزید :

کورونا وائرس -