چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کورونا سر اٹھانے لگا،نئے کیسز سامنے آگئے

چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کورونا سر اٹھانے لگا،نئے کیسز سامنے آگئے
چین اور جنوبی کوریا میں ایک بار پھر کورونا سر اٹھانے لگا،نئے کیسز سامنے آگئے

  

بیجنگ/سیول(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین اور جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آنے کا سلسلہ تقریبا تھم چکا تھا تاہم اب ایک بار پھر وہاں کورونا وائرس سراٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق چین اور جنوبی کوریا میں نئےکیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ چین میں بارہ کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جو گزشتہ روز رپورٹ ہونے والے چار کیسز سے تین گنا زیادہ ہیں۔ان میں نصف کیسز ایسے ہیں جو کہ بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔ مقامی طور پر وائرس منتقل ہونے کے واقعات میں ہیلونگ جیانگ صوبے میں پانچ کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ روس کے ساتھ سرحدی صوبہ ہے۔ روس میں گذشتہ ہفتے میں متاثرین کی تعداد میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

مجموعی طور پر چین میں کل متاثرین کی تعداد 82874 ہے اور تقریباً 90 فیصد لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جبکہ چینی حکام کے مطابق ایسے 24 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں ٹیسٹ تو پازیٹیو ہے مگر ان مریضوں میں علامات نہیں ہے۔ چین ایسے مریضوں کی گنتی علیحدہ سے کرتا ہے۔

واضح رہے چین میں وائرس سے اب تک کل  4633 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی کوریا آج نو نئے کیسز کی تصدیق کی گئی ہے،اور یہ مسلسل تیسرا دن ہے کہ متاثرین کی تعداد میں ہر روز ایک ایک مریض کا اضافہ ہورہا ہے۔حکام کاکہنا ہے کہ ان نو میں سے آٹھ کیسز ایسے ہیں جو بیرون ملک سے آئے۔ خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 10744 ہے جبکہ 248 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

 جنوبی کوریا کی معیشت بھی اس موذی وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

جنوبی کوریا میں وزیرِ تجارت کا کہنا ہے کہ ملک کی اپریل کے مہینے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات 24.3 کم ہوگئی ہیں جس کی وجہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنا اور گرتی ہوئی تیل کی قیمت ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک سے باہر جانے والی اشیا کی قیمت اس اپریل میں 36.9 ڈالر رہی۔ گذشتہ سال اپریل کے مہینے میں یہ تعداد 48.7 ارب ڈالر تھی۔ 2009 کے بعد سے بدترین کمی ہے۔ درآمدار میں بھی 15.9% کمی دیکھی گئی ہے اور ان کی قیمت 37.8% رہ گئی۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -