یوم مزدور: کورونا وباء اور سی پیک منصوبے

یوم مزدور: کورونا وباء اور سی پیک منصوبے
یوم مزدور: کورونا وباء اور سی پیک منصوبے

  

آج دنیا  بھر میں یوم مزدور منایا جارہا ہے۔  کورونا وائرس کووڈ-19 کی وبا کے تناظر میں اس دن کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ لاکھوں کی تعداد میں مزدوروں سے روزگار چھن گیا ہے۔ دنیا کی معیشت زوال پذیر ہے اور آنے والے دنوں میں   اس تنزلی کے مزید امکانات ظاہر کئے جار ہے ہیں۔ اس  مشکل صورت حال کے باوجود سی پیک منصوبوں سے وابستہ کارکنوں نے خصوصی حفاظتی انتظامات میں کام شروع کر رکھا ہے جو خوش آئند ہے۔

آپ جانتے ہیں ،چین کے  تعاون سے پاکستان میں  سی پیک کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔  ان منصوبوں پر کام کرنے والے  عملے کو چینی کمپنیوں کی جانب سے متعدد مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان مراعات کے ساتھ ساتھ کی صحت کو یقینی بنانا بھی ان کمپنیوں کی اولین ترجیح ہے۔ حالیہ دنوں دنیا بھر میں کووڈ-19 وبا نے تباہی پھیلا رکھی ہے اور اس وبا نے یقیناً چین پاک اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ تاہم  وبا کے باوجود اب اکثر منصوبوں پر نئی حکمت عملی کے ساتھ دوبارہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ منصوبے بروقت مکمل ہوسکیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی اداروں کے نزدیک کارکن اور ان کی صحت مرکزی اہمیت کی حامل ہے۔ اس حوالے سے وبا کے تناظر میں مختلف منصوبوں پر اہم حفاظتی اقدامات اختیار کئے گئے ہیں۔  ان اقدامات کے ساتھ سی پیک کے اہم منصوبے سوکی کناری پن بجلی گھر کی تعمیر کا کام دن رات جاری ہے ۔ منصوبے کی بطریق احسن تکمیل کے لیے چینی معمار بھر پور محنت کر رہے ہیں ۔پاکستان میں کووڈ-19 کی وبا کے بعد ایک طرف پاکستانی تعمیراتی عملے کی ایک بڑی تعداد اس پروجیکٹ سے الگ ہوگئی تو دوسری طرف جشن بہار منانے کے لیے چین گئے چینی ملازمین پاکستان واپس نہیں آ سکے ۔ لہذا اس منصوبے کی تعمیر میں بہت چیلنجز درپیش ہیں ۔ منصوبے کی تعمیر بطریق احسن جاری رکھنے کے لیے چینی کمیپنی نے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا تاکہ چینی عملے کے جوش و جذبے کو متحرک کیا جائے ۔

شییڈول کے مطابق ، سوکی کناری پن بجلی گھر کی تعمیر کو 2022کے اختتام تک پایہ تکمیل تک پہنچاناہے۔ پروجیکٹ مینیجر جو زے ہاو نے کہا کہ منصوبے اور عملے کی بروقت ترتیب نو کی وجہ سے 700 سے زائد چینی ملازمین نے موجودہ نازک وقت میں مشکلات پر قابو پالیا ہے اور اس منصوبے کی مدت زیادہ متاثر نہیں ہوگی۔ اس پن بجلی گھر کی تکمیل پاکستان کی صنعتی ترقی اور معاشی بحالی کے فروغ میں اہم کردار اداکرے گی ۔

اسی طرح مٹیاری تا لاہور پاور ٹرانسمیشن لائن ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی متوقع تاریخ تکمیل مارچ 2021 ہے۔ اس منصوبے پر نہایت تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں کووڈ-19 کی وبا مسلسل پھیل رہی ہے، منصوبے کی رفتار سخت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری پاکستان کے فریم ورک میں مٹیاری لاہور پاور ٹرانسمیشن لائن بجلی ترسیل کا واحد منصوبہ ہے۔ جس کی کل لمبائی 886 کلو میٹر ہے۔

اسٹیٹ گرڈ چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجی کمپنی کے تیسرے ڈویژن کے ڈپٹی جنرل منیجر اور اس ٹرانسمیشن لائن پروجیکٹ کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر وانگ بو کا کہنا ہے کہ منصوبے پر 26 جنوری سے نہایت سخت اقدامات اختیار کئے گئے ہیں۔ منصوبے پر کام کرنے والے پاکستانی کارکنوں کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے انسداد وبا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کو انگریز ی اور اردو زبان میں ترجمہ کرکے تقسیم کیا گیا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیاں اس مشکل صورت حال میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔

بیجنگ میں چین کی تھری گورجز کارپوریشن کی طرف سے پاکستان کی نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہنگامی طبی سامان عطیہ کرنے کی تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب میں چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ عالمگیر ہا شمی ، چین کے وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل یاو وین ، چائنا تھری گورجز کارپوریشن کے چئرمین لی منگ سن اور چینی حکومت اور کارپوریٹ سیکٹر کے سینئر اہلکاروں نے شرکت کی۔

چائنا تھری گورجز کارپوریشن نے اس موقع پر کووڈ ۔۱۹ کی روک تھام کیلئےدس ملین چینی یوان مالیت کا طبی سامان پاکستان کو عطیہ کیا ۔ اس موقع پر چینی اہکاروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مشکل کی گھڑی میں چین پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گا۔

پاکستان کی سفیر نغمانہ ہاشمی نے چینی شرکاء کا پاکستان کیلئے والہانہ جذبات کے اظہار پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حالیہ دنوں چین کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے دل کھول کر پاکستان کی مدد کی ہے اور بڑی مقدار میں عطیات دیے ہیں۔

سی پیک منصوبوں کے تحت پورٹ قاسم تھرمل بجلی گھر پاکستان میں جدید تریں ٹیکنالوجی کا حامل سب سے بڑا گرین پاور اسٹیشن ہے ۔یہ بجلی گھر کووڈ ۔۱۹ سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی معاشی ترقی اور عوام کو بجلی کی فراہمی میں اہم کردار اداکرہا ہے۔ قاسم تھرمل بجلی گھر کراچی کے نزدیک پورٹ قاسم میں واقع ہے ۔

قاسم پاور کمپنی کے ڈپٹی جنرل منیجر فونگ کھہ فنگ نے بتایا کہ پاور اسٹیشن میں کام کرنے والے چینی اور پاکستانی عملے کو وبا سے محفوظ رکھنے لیے تین مارچ سے سخت اقدامات اختیار کئے گئے ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں تاحال تمام عملہ محفوظ ہے ۔

قاسم تھرمل بجلی گھر کو رواں دواں رکھنے کیلئے قاسم پاور کمپنی نے تین سو سے زائد ٹھوس اقدامات اختیار کیے جن میں کوئلے کے وافر ذخیرے کو یقینی بنانا اور جنریٹر سیٹ کی بہتریں کارگردگی کو برقرار رکھنے کیلئے تکنیکی ترتیب نو شامل ہے ۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے ۔

ہم دعا گو ہیں کہ وبا پر قابو پاتے ہوئے اور کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے چین پاک اقتصادی راہدری کے منصوبے بروقت مکمل ہوں اور خطے میں خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -