"کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے" زلفی بخاری بذریعہ زوم کانفرنس

"کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے" زلفی بخاری بذریعہ زوم کانفرنس

  

"کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے لیکن اتنا بھی نہیں کہ کافر اپنی اداؤں سے باز آجائے"، وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی جناب سید ذوالفقار بخاری المعروف زلفی بخاری نے بالآخر اپنی توجہ سعودی عرب کے کم و بیش 27 لاکھ پاکستانیوں کی جانب کرلی لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ 28 اپریل بروز بدھ دوپہر اپنے منظورِ نظر افراد کو ہی فقط آن لائن زوم کانفرنس میں مدعو کیا، چند ایک مدعوین کے نام اسلام آباد سے ہی بھیج دئیے گئے تھے جن میں حکومتی تحریکِ انصاف کے عہدیداران بھی شامل ہیں، دیگر کسی بھی سیاسی جماعت کے نمائندے کو اس آن لائن کانفرنس سے دور رکھا گیا، کئی ایک افراد کے مائک دورانِ کانفرنس بند کر دیئے گئے، مدعو کئے گئے صحافی محض شو پیس کے طور پر موجود تھے اور انہیں ایک بھی سوال کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، یوں سعودی عرب کی نمائندہ پاکستانی کمیونٹی کو آن لائن شامل ہونے سے محروم رکھا گیا البتہ فیس بک کے ذریعے اس آن لائن کانفرنس کو لائیو دکھایا گیا جسے دیکھنے والوں کی تعداد ہزار بھر سے تجاوز کرگئی، سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ پاکستانی ان کا یہ احسان کبھی بھلا نہیں پائیں گے، فی الوقت سعودی عرب کی پاکستانی کمیونٹی میں وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار بخاری کے اس رویہ پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، وقت کا تقاضہ ہے کہ تارکینِ وطن کے نمائندہ معاونِ خصوصی سب کو ساتھ لے کر چلیں. 

فکرِ معاش بسلسلہ روزگار اپنے گھر اپنے وطن سے دور سعودی عرب میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے دل اپنے ہموطنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، ان میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں، ان میں محنت کش، مزدور، ڈاکٹر، ملازمت پیشہ، تاجر غرضیکہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہے جس نے اپنے خونِ جگر سے سعودی عرب کی ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا, بین الاقوامی سطح پر وطنِ عزیز پاکستان کا نام روشن کیا، زرِمبادلہ کی صورت پاکستان کے معاشی حالات کو استحکام مہیا کیا اور اپنی اپنی استطاعت کے مطابق پاکستان میں آنیوالی ہر آفت اور چندہ مہم کا  بھی حصہ رہا.

سعودی عرب میں کورونا وائرس کے باعث جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیشتر پاکستانی تارکینِ وطن مشکلات سے دوچار ہیں ان میں بڑی تعداد روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹیکسی ڈرائیور اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے کئی ایسے بےیارومددگار افراد ہیں جنہیں اس لاک ڈاؤن میں روزمرہ کے راشن کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی نظریں سفارت خانہ پاکستان کی جانب لگائے بیٹھے ہیں کہ حکومتِ پاکستان کے توسط سے ان تک کوئی امداد پہنچ سکے لیکن سفارت خانہ پاکستان نے اپنے فیس بک اور ٹویٹر ہینڈل کے ذریعے پہلے تو یہ اعلان صادر فرمایا کہ ضرورت مند افراد اپنے کوائف ارسال کریں تاکہ انہیں راشن اور امداد مہیا ہوسکے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے سفارتخانہ پاکستان کی رسائی محدود ہے لہذا امداد اور راشن کی فراہمی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی، اگلے ہی روز دوسرا اعلان صادر ہوا کہ ضرورت مندوں کو راشن کی فراہمی معطل کردی گئی ہے، یہاں یہ امر قابلِ ذکر ھے کہ پاکستانی کمیونٹی کے ہی مخیر افراد نے راشن فراہمی میں سفارت خانہ سے تعاون کیا ہے اور اس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے کورونا فنڈ سے بھی استفادہ حاصل کیا گیا ہے. 

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کی اس وقت دوسری اہم مصیبت یہ ہے کہ بیشتر افراد وطنِ عزیز واپس جانا چاہتے ہیں، وفات پا جانیوالے کئی پاکستانیوں کی میتیں بھی سرد خانوں میں پڑی ہیں، اس دوران کئی افراد کے پیارے پاکستان میں جاں بحق ہوگئے، کئی افراد کے اہم معاملات التواء کا شکار ہیں، لیکن فلائٹس دستیاب نہیں ہیں اور تاحال حکومتِ پاکستان نے ان کے لئے سپیشل فلائٹس کا بندوبست نہیں کیا حالانکہ متحدہ عرب امارات، قطر، یورپ اور دیگر ممالک میں موجود پاکستانیوں کے لئے حکومتِ پاکستان یہ بندوبست کرچکی ہے لیکن سعودی عرب میں موجود پاکستانیوں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے. 

خوشخبری یہ ہے کہ یکم مئی کو پی آئی اے کی دو خصوصی پروازیں سعودی عرب سے پانچ سو پاکستانیوں کو لے کر پاکستان روانہ ہوگئیں، امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا، دوسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان پہنچنے پر اوورسیز پاکستانیوں سے ناروا سلوک برتا جا رہا ہے، ہوٹل انتظامیہ سے جھگڑے ہونے کی اطلاعات ہیں، کورونا ٹیسٹ کے ضمن میں مسافروں کو حکومتی اداروں سے تعاون کرنا چاہئے اور حکومت کو اس سلسلے میں بہتر حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہئے، خدا خیر کرے. 

سعودی عرب میں پاکبانوں کی مشکلات اور مسائل تو بہت ہیں جن میں سے کئی ایک کی ذمہ داری او پی ایف پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں اوورسیز فنڈ کی مد میں تارکینِ وطن کے پاکستان میں موجود خاندانوں کی مدد کریں، فی الحال مذکورہ بالا اہم معاملات پر حکومتی و سفارتی توجہ وقت کی انتہائی ضرورت ہے. 

محترم معاونِ خصوصی نے آن لائن ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سعودی عرب سے ہفتہ وار دو فلائٹس چلانے کا اعلان کیا جو کہ خوش آئند ہے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بے روزگار ہونے والے ورکرز اور فیملیز کا ڈیٹا اکٹھا کر رہے ہیں تاکہ ان کو سفارت خانہ پاکستان کے ذریعے راشن پہنچایا جاسکے، ناجانے ڈیٹا کب اکٹھا ہوگا، ضرورت مندوں تک راشن کب پہنچے گا، خدانخواستہ کہیں بہت دیر نہ ہوجائے. 

سعودی عرب میں سفیرِ پاکستان راجہ علی اعجاز اور دیگر سفارتی عملہ اپنے تئیں ان مسائل خاص طور پر راشن کے لئے کیمونٹی  کے مخیر حضرات کے ساتھ ملکر ضرورت مندوں کی مدد کر رہے ہیں علاوہ ازیں پاکستانی ڈاکٹرز بھی ہم وطنوں کو ہرممکنہ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں. 

سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ پاکستانی محترم معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی جناب زلفی بخاری کے احسان مند رہیں گے کہ وہ ان توجہ طلب امور پر محض زوم کانفرنس اور بیان بازی کی بجائے ان ضرورت مند پاکستانیوں کے لئے عملی طور پر اقدامات کریں اور ان کے دل میں گھر کر جائیں. 

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -