ٹرمپ کی محمد بن سلمان کو سب سے بڑی دھمکی

ٹرمپ کی محمد بن سلمان کو سب سے بڑی دھمکی
 ٹرمپ کی محمد بن سلمان کو سب سے بڑی دھمکی

  

واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی پیداوار اور قیمتوں کےحوالے سے اختلافات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو معاملات بہتر نہ بنانے پر سب سے بڑی دھمکی دی تھی۔

برطانوی خبرایجنسی رائٹرز نے دو اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نےکہا کہ اگر تیل کی پیداوار اور قیمتیں کم نہ کی گئیں تو وہ سعودی عرب سے اپنی فوج واپس بلالیں گے۔

رائٹرز کے ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے محمد بن سلمان سے کہا کہ اگر اوپیک ممالک تیل کی پیداوار کی کمی میں نہیں لاتے وہ قانون دانوں کو سعودی مملکت سے امریکی افواج کی واپسی سے روکنے کیلئےقانون منظور کرنے سے نہیں روک سکیں گے۔

امریکا کی جانب سے75سال سے جاری اس سٹریٹجک معاہدے کے خاتمے کی بات اس سے قبل کبھی بھی نہیں کی گئی۔رائٹرزکے مطابق یہ دباو تیل کے تاریخی معاہدے پر اثرانداز ہونے کیلیے ڈالا گیااور اب اس دھمکی کو وائٹ ہاوس کی کامیابی قراردیاجارہاہے۔

رائٹرز کے مطابق اس حوالے سے بریفنگ میں شریک امریکی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو یہ پیغام تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان سے 10 دن قبل دیا تھا اور اس دھمکی کا محمد بن سلمان پر اس حد تک اثر ہوا تھا کہ انہوں نے کمرے میں موجود تمام افراد کو باہر نکلنے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ رازداری کے ساتھ گفتگو کو جاری رکھ سکیں۔

ٹرمپ کی ان کوششوں کا مقصد تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے بحران کے دوران امریکی تیل کی صنعت کو تباہی سے بچانا ہے جہاں کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

یہاں امریکی صدر کے موقف میں بھی واضح طور پر یوٹرن نظر آ رہا ہے جو ماضی میں تیل کی پیداوار کم کر کے تیل کی قیمتیں بڑھانے پر تیل کی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں امریکی عوام کو مہنگی توانائی و بجلی خریدنی پڑ رہی تھی۔

البتہ اب امریکی صدر خود اوپیک ممالک سے تیل کی پیداوار کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو بتا دیا ہے کہ اگر انہوں نے تیل کی پیداوار کم نہ کی تو وہ امریکی کانگریس کو ان پر پابندیاں عائد کرنے سے نہیں روک سکیں گے اور اس کے نتیجے میں امریکی افواج کا سعودی عرب سے انخلا یقینی ہے۔

خیال رہے 

انہوں نے سعودی اور امریکی رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کو واضح طور پر پیغام میں کہا گیا تھا کہ ہم اپنی صنعت کا دفاع کر رہے ہیں جبکہ آپ اسے تباہ کر رہے ہیں۔

جب امریکی صدر سے رائٹرز نے بدھ کو ہونے والی گفتگو میں سوال کیا کہ کیا انہوں نے سعودی ولی عہد کو امریکی افواج کے انخلا کی دھمکی دی ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد سے کیا کہا تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ سعودی عرب اور روس کو معاہدے تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے، میں نے سعودی ولی عہد سے ٹیلی فون پر بات کی اور ہم پیداوار میں کمی کے معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

مزید :

بین الاقوامی -عرب دنیا -بزنس -