”وسیم اکرم کو بہت سخت سزا ملنی تھی اگر عطاءالرحمان۔۔۔“ میچ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے جسٹس قیوم کمیشن بنوانے والے سابق پی سی بی چیئرمین نے تہلکہ خیز انکشاف کر دئیے

”وسیم اکرم کو بہت سخت سزا ملنی تھی اگر عطاءالرحمان۔۔۔“ میچ فکسنگ کی تحقیقات ...
”وسیم اکرم کو بہت سخت سزا ملنی تھی اگر عطاءالرحمان۔۔۔“ میچ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے جسٹس قیوم کمیشن بنوانے والے سابق پی سی بی چیئرمین نے تہلکہ خیز انکشاف کر دئیے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) میچ فکسنگ کی تحقیقات کیلئے جسٹس قیوم کمیشن بنوانے والے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے اس حوالے سے چند نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عطاءالرحمان اپنے بیان سے نہ مکرتے تو وسیم اکرم کو بہت سخت سزا ملنی تھی۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود کا کہنا تھا کہ سابق فاسٹ باﺅلر عطاءالرحمن نے حلف نامہ جمع کرایا تھا کہ سابق کپتان وسیم اکرم نے میچ فکسنگ کا کہا اور انہوں نے فکسنگ کے لئے 3 لاکھ روپے بھی دئیے۔ عطاءالرحمن خوفزدہ تھے کہ عدالت میں بیان دینے پر وہ مشکل میں پڑجائیں گے لیکن انہیں یقین دلایا تھا کہ پی سی بی ان کے ساتھ ہے۔

خالد محمود کا کہنا تھا کہ عطاءالرحمن کا وسیم اکرم سے متعلق فکسنگ کا الزام سچ تھا لیکن وہ بعد میں مکرگئے اور اگر وہ اپنا بیان نہ بدلتے تو وسیم اکرم کو سخت سزا ہوتی۔ 21 سال قبل انگلینڈ میں کھیلے گئے ورلڈ کپ سے متعلق خالد محمود نے کہا کہ پاکستان کے 1999ءورلڈکپ کے 3 میچ مشکوک تھے،پاکستان بنگلہ دیش سے کسی صورت ہار ہی نہیں سکتا تھا لیکن شکست کھا گیا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش اور بھارت سے فیئر میچ نہیں کھیلا، فائنل میچ میں ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ بھی مشکوک تھا۔

واضح رہے کہ عطاءالرحمان نے گزشتہ ہفتے سابق چیئرمین پی سی بی پر الزام عائد کیا تھا کہ نجم سیٹھی کوچنگ دینے کا کہہ کر بلواتے اور تین تین گھنٹے باہر بٹھاتے تاہم نجم سیٹھی نے ان کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عطاءالرحمان کو پہچانتے تک نہ تھے اور پارکنگ میں دو مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی جس دوران انہوں نے نوکری کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید :

کھیل -