کیا سلیم ملک کا بے گناہی کا دعویٰ درست ہے، کیا واقعی وسیم اکرم اور وقار یونس نے کپتان بننے کیلئے ان کیخلاف سازش کی، راشد لطیف کا اس سارے معاملے میں کیا کردار تھا؟ سابق چیئرمین پی سی بی نے کئی راز بتا دئیے

کیا سلیم ملک کا بے گناہی کا دعویٰ درست ہے، کیا واقعی وسیم اکرم اور وقار یونس ...
کیا سلیم ملک کا بے گناہی کا دعویٰ درست ہے، کیا واقعی وسیم اکرم اور وقار یونس نے کپتان بننے کیلئے ان کیخلاف سازش کی، راشد لطیف کا اس سارے معاملے میں کیا کردار تھا؟ سابق چیئرمین پی سی بی نے کئی راز بتا دئیے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کے بے گناہی پر اصرار نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے بے گناہی سے متعلق ان کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کپتانی کے امیدواروں کی جانب سے سلیم ملک کیخلاف سازش کی بات درست نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق چیئرمین پی سی بی خالد محمود نے سلیم ملک کی جانب سے بے گناہی کے دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کپتانی کے امیدواروں کی جانب سے سلیم ملک کیخلاف سازش کی بات درست نہیں، ایسے کھلاڑی تو صرف وسیم اکرم ہی ہوسکتے تھے لیکن انہوں نے تو فکسنگ کا الزام نہیں لگایا بلکہ ان کا اپنا نام بعد میں شکوک و شبہات کی زد میں آیا، بھانڈا تو وکٹ کیپر بیٹسمین راشد لطیف نے پھوڑا جو اس وقت جونیئر تھے اور کپتانی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے، ان کی جانب سے الزامات کے بعد طوفان اٹھا اور تحقیقات کی بات ہوئی۔

خالد محمود نے کہا کہ جسٹس قیوم کمیشن میں سابق کپتان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کئے گئے، آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن اور مارک وا نے گواہی دی کہ سلیم ملک نے انہیں 95-1994ءمیں کراچی میں کھیلا گیا ٹیسٹ میچ ہارنے کیلئے رقم کی پیشکش کی تھی، کرکٹرز اور جواریوں سمیت گواہی دینے والوں کی ایک طویل فہرست تھی،رشید باٹا بکی کے ساتھ چند نام اور بھی تھے، اگر سلیم ملک بے گناہ تھے تو اس وقت عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران سابق کپتان کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کو کچھ نہیں ہوتا تھا، اس وقت بھی وہ رونا دھونا اور اپنے خلاف سازش کئے جانے کی تھیوری پیش کرتے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی، اگر انہیں 8 سال بعد کورٹ نے بری کردیا تو یہ پی سی بی کی کمزوری تھی جو اس وقت حقائق عدالت کے سامنے نہیں رکھ سکا۔ سلیم ملک کا بے گناہ ہونے کا دعویٰ تو تسلیم نہیں کیا جا سکتا لیکن اس معاملے میں ان کا موقف درست ہے کہ جب فکسنگ میں ملوث بیشتر کرکٹرز پی سی بی میں کام کرسکتے ہیں، قومی ٹیموں کی جانب سے کھیل بھی چکے تو صرف ان کو محروم کیوں رکھا جا رہا ہے۔

خالد محمود نے کہا کہ جسٹس قیوم رپورٹ آنے سے 2 ماہ قبل ہی مجھے چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹا کر سیاسی بنیادوں پر مجیب الرحمن کی تقرری کر دی گئی لیکن بعد ازاں جو بھی ہوا افسوسناک ہے، سب کو چھوٹ مل گئی، مشکوک کرکٹرز کی واپسی ہوئی اور ہورہی ہے، پی سی بی کی جانب سے فکسنگ کیخلاف عدم برداشت کی پالیسی کا راگ الاپا جاتا ہے لیکن وسیم اکرم، وقار یونس اور انضمام الحق کو کام کرنے کے مواقع دئیے گئے،کرکٹرز کو قومی ٹیموں کی نمائندگی کا موقع ملا، بھاری تنخواہوں پر عہدے ملے۔

مزید :

کھیل -