’تیل کی پیداوار کم کردو ورنہ ہم تمہاری فوج کی مدد بند کردیں گے‘ ٹرمپ کی سعودی ولی عہد کو سنگین ترین دھمکی منظر عام پر آگئی

’تیل کی پیداوار کم کردو ورنہ ہم تمہاری فوج کی مدد بند کردیں گے‘ ٹرمپ کی ...
’تیل کی پیداوار کم کردو ورنہ ہم تمہاری فوج کی مدد بند کردیں گے‘ ٹرمپ کی سعودی ولی عہد کو سنگین ترین دھمکی منظر عام پر آگئی

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک طرف کورونا وائرس اور لاک ڈاﺅن کے اثرات اور دوسری طرف سعودی عرب اور روس کی تیل کی پیداوار اور قیمتوں پر جنگ ، ان دو عوامل کی وجہ سے تیل کی تاریخی بے قدری ہو رہی ہے اور بات مفت تیل بانٹنے تک پہنچ چکی ہے۔ اب اس سنگین صورتحال سے نکلنے کے لیے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سنگین ترین دھمکی دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد بن سلمان کو دھمکی دی ہے کہ یا تو وہ تیل کی پیداوار کم کر دیں تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی انتہائی سطح تک گر چکی قیمتوں کو سنبھالا مل سکے ورنہ امریکہ سعودی عرب کی فوجی امداد بند کر دے گا۔

رائٹرز اس معاملے سے آگاہ چار مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شہزادہ محمد کو یہ دھمکی 2اپریل کو ہونے والی ایک فون کال میں دی۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس ٹیلی فونک گفتگو میں شہزادہ محمد سے کہا کہ اگر اوپیک کے رکن ممالک تیل کی پیداوار میں کمی لانا شروع نہیں کرتے تو میں بے بس ہو جاﺅں گا اور امریکی قانون سازوں کو سعودی عرب سے امریکی افواج نکالنے اور اس کی فوجی امداد بند کرنے کے متعلق قانون سازی کرنے سے نہیں روک پاﺅں گا۔رپورٹ کے مطابق روس کے ساتھ شدید کشمکش کی وجہ سے اگر سعودی عرب تیل کی پیداوار کم نہیں کرتا اور صدر ٹرمپ اپنی اس دھمکی پر عمل کر گزرتے ہیں تو امریکہ اور سعودی عرب کا 75سالہ تژویراتی اتحاد خطرے میں پڑے جائے گا۔ امریکہ اسی اتحاد کو سعودی عرب پر دباﺅ کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اسے تیل کی پیداوار کم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ چند ماہ قبل اوپیک کے اجلاس سے چند گھنٹے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی تھی جس میں تیل کی پیداوار کم کرنے کے معاملے پر بات ہوئی۔ شہزادہ محمد چاہتے تھے کہ روس بھی اوپیک ممالک کے ساتھ مل کر تیل کی پیداوار کم کرنے کے معاہدے پر دستخط کرے لیکن جب صدر پیوٹن نے انکار کر دیا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق شہزادہ محمد غصے میں آ گئے اور دونوں رہنماﺅں میں شدید تلخ کلامی ہو گئی۔ ذرائع کے حوالے سے عالمی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا جا چکا ہے کہ دونوں رہنماﺅں کی یہ فون کال انتہائی ذاتی نوعیت تک گر گئی اوراس کا اختتام انتہائی تلخی پر ہوا۔ اس کے بعد روس اور سعودی عرب نے پوری صلاحیت کے ساتھ تیل پیدا کرنا شروع کر دیا تھا اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آنی شروع ہو گئی تھیں۔ اس کے فوری بعد کورونا وائرس کی وباءآئی، جس نے رہی سہی کسر نکال دی اور تیل کی قیمتیں تاریخ میں پہلی بار منفی 37ڈالر فی بیرل تک گر گئیں۔

مزید :

بین الاقوامی -