پاکستان اور بھارت اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے اشیاءکہاں سے اور کیسے خریدتے ہیں؟ انتہائی خفیہ معلومات پہلی مرتبہ سامنے آگئیں

پاکستان اور بھارت اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے اشیاءکہاں سے اور کیسے خریدتے ...
پاکستان اور بھارت اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے اشیاءکہاں سے اور کیسے خریدتے ہیں؟ انتہائی خفیہ معلومات پہلی مرتبہ سامنے آگئیں

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور بھارت اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے اشیاءکہاں سے اور کیسے خریدتے ہیں؟ پہلی بار امریکی تحقیق کاروں نے انتہائی خفیہ معلومات طشت ازبام کر دیں۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق امریکی ریسرچ گروپ ’سنٹر فار ایڈوانس ڈیفنس سٹڈیز‘ کے ماہرین نے اوپن سورس ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے اپنے ایٹمی پروگرامز کے لیے اشیاءحاصل کرنے کے لیے جو نیٹ ورک بنا رکھے ہیں وہ ماہرین کی سوچ سے بھی زیادہ بڑے اور وسیع ہیں۔ سینکڑوں غیرملکی کمپنیاں پوری تیزی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے نیوکلیئر پروگرامز کے لیے مطلوبہ اشیاءبہم پہنچانے کے لیے سرگرم رہتی ہیں۔ ان کمپنیوں اور پاکستان و بھارت کی سرگرمیاں اس لیے بھی نظروں میں نہیں آتیں کہ اس انڈسٹری کی عالمی سطح پر ریگولیشن کا کوئی خاطرخواہ انتظام نہیں ہے جس کا دونوں ممالک اور یہ سینکڑوں غیرملکی کمپنیاں فائدہ اٹھاتی ہیں۔

گروپ کے تجزیہ کار جیک مارگولین کا کہنا تھا کہ ”عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان میں بہت دراڑیں ہیں، جس کا فائدہ پاکستان اور بھارت اٹھاتے ہیں اور ہر وہ چیز حاصل کر لیتے ہیں جو انہیں اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے درکار ہوتی ہے۔یہ ممالک ان خریداریوں کے لیے جو انفرادی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں انہیں دستیاب ڈیٹا سے پکڑنا کبھی کبھار ہی ممکن ہوپاتا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ دونوں ممالک کی ٹرانزیکشنز غیرقانونی ہوتی ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق اس گروپ نے اپنی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا کہ پاکستان اور بھارت کو سامان مہیا کرنے والی غیرملکی کمپنیاں اپنے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہیں یا نہیں۔

اس گروپ نے اوپن سورس ڈیٹا کے تجزئیے سے جن کمپنیوں کا سراغ لگایا ہے اس کے مطابق پاکستان 159کمپنیوں سے سامان حاصل کر رہا ہے۔ ان میں سے 113کمپنیاں امریکہ اور جاپان میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ 46ہانگ کانگ، سنگاپور اور متحدہ عرب امارات میں ہیں۔بھارت 222بین الاقوامی کمپنیوں سے اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے اشیاءکی خریداری کرتا ہے۔ پاکستان ان خریداریوں پر بہت زیادہ کنٹرول رکھتا ہے اور وہ بین الاقوامی مارکیٹ کی بجائے ٹرانس نیشنل نیٹ ورکس کو بروئے کار لاتے ہوئے اشیاءپاکستان منگواتا ہے۔ چنانچہ اس کی خریداریوں کا سراغ لگانا زیادہ مشکل ہے۔ اس کے برعکس بھارت انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو انٹرنیشنل مارکیٹس سے خریدی گئی ایٹمی ٹیکنالوجی کی بعض چیزوں کی انسپیکشن کی اجازت دیتا ہے لیکن اکثر چیزوں کو وہ بھی خفیہ رکھتا ہے۔ دونوں ممالک نے چونکہ ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے پر دستخط نہیں کر رکھے لہٰذا وہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو ہر چیز کی انسپکشن کرانے کے پابند نہیں ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -