کیا کورونا وائرس کے چین کی لیبارٹری سے پھیلنے کا ثبوت امریکی صدر کو دکھا دیا گیا؟

کیا کورونا وائرس کے چین کی لیبارٹری سے پھیلنے کا ثبوت امریکی صدر کو دکھا دیا ...
کیا کورونا وائرس کے چین کی لیبارٹری سے پھیلنے کا ثبوت امریکی صدر کو دکھا دیا گیا؟

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے بہت پہلے سے الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان میں موجود لیبارٹری ’ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی‘ سے کسی طرح لیک ہو کر پھیلا۔ اب اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے نیا دعویٰ کر دیا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز کہا ہے کہ ”میں نے کورونا وائرس کے ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی سے پھیلنے کے ثبوت دیکھ لیے ہیں اور ان ثبوتوں کو دیکھنے کے بعد میں حتمی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ کورونا وائرس ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی سے آیا۔ تاہم میں نے جو کچھ دیکھا ہے، وہ مجھے آپ کو بتانے کی اجازت نہیں ہے۔“

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔ صحافی نے سوال پوچھا تھا کہ ’آپ کورونا وائرس کا الزام چین پر عائد کرتے ہیں۔ کیا آپ اس کے ثبوت دیکھ چکے ہیں؟‘ اس پر صدر ٹرمپ نے برجستہ کہا ”ہاں، ہاں میں دیکھ چکا ہوں تاہم میں نے جو کچھ دیکھا وہ مجھے آپ کو بتانے کی اجازت نہیں۔“ صدر ٹرمپ کے اس نئے دعوے کو ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی کی طرف سے ایک بار پھر مسترد کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس زیادہ تر سائنسدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ووہان کی گوشت کی مارکیٹ سے انسانوں میں پھیلا۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ وائرس بنیادی طور پر چمگادڑ میں پایا جاتا ہے ، اس سے کسی دوسرے جانور، ممکنہ طور پر سانپ میں منتقل ہوا اور سانپ کا گوشت کھانے سے انسان میں منتقل ہو گیا۔

مزید :

بین الاقوامی -