کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون کی بلیک مارکیٹ میں فروخت

کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون کی بلیک مارکیٹ میں فروخت
کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون کی بلیک مارکیٹ میں فروخت

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈارک ویب (خفیہ انٹرنیٹ) پر ہر طرح کی مجرمانہ سرگرمیاں ہوتی ہیں اورآپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ اب وہاں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کا خون بھی بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ دی مرر کے مطابق جب سے ماہرین نے یہ بتایا ہے کہ کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں کے جسم میں اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں جو دیگر لوگوں کے جسم میں داخل کر دی جائیں تو انہیں وائرس لاحق نہیں ہوتا۔ اگر ان کے جسم میں وائرس چلا بھی جائے تو یہ اینٹی باڈیز اس کا خاتمہ کر دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تب سے ڈارک ویب پر کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں کے خون کی فروخت شروع ہو چکی ہے اور اس کی مانگ بھی بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ انکشاف آسٹریلیا نیشنل یونیورسٹی کے ماہرین نے کیا ہے۔ ماہرین ڈارک ویب پر یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ سائبر کریمنلز کس طرح کورونا وائر س کا ناجائز فائدہ اٹھا کر رقم کما رہے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ روب بروڈ ہرسٹ کا کہنا تھا کہ اس دوران ہمیں کئی ایسی ویب سائٹس مل گئیں جہاں کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں کا خون فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ڈارک ویب پر بے شمار پلیٹ فارمز پر کورونا وائرس کی ویکسین اور دیگر طریقہ ہائے علاج فروخت ہو رہے تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ علاج کی قیمت 25ہزار ڈالر بتائی گئی تھی۔ ہمارے خیال میں یہ ویکسینز اور علاج کے طریقے جعلی تھے اور ان کے ذریعے سائبر کریمنلز لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاری رقوم کما رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -