آسیب زدہ گھر جس کی خوفناک کہانیاں سن کر کوئی اسے مفت میں بھی لینے کو تیار نہیں

آسیب زدہ گھر جس کی خوفناک کہانیاں سن کر کوئی اسے مفت میں بھی لینے کو تیار نہیں
آسیب زدہ گھر جس کی خوفناک کہانیاں سن کر کوئی اسے مفت میں بھی لینے کو تیار نہیں

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست لوئیسیانا میں ایک گھر ایسا ہے جو مفت میں دستیاب ہے لیکن اسے کوئی لینے کو تیار نہیں حالانکہ اس کے اردگرد جائیداد کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے۔ دی مرر کے مطابق اس کی وجہ اس گھر کا آسیب زدہ ہونا ہے۔ اس گھر کے سابق مکین اور مقامی لوگ ایسی ایسی کہانیاں سناتے ہیں کہ جنہیں سن کر کوئی بھی اس گھر کو لینے کی ہمت نہیں کرتا۔ یہ گھر 1930ءکی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

اس گھر کے ایک سابق مکین نے بتایا ہے کہ اس گھر میں ایک بوڑھی اماں کا بھوت رہتا ہے۔ وہ رات کو کچن میں آتی اور کھانا بناتی تھی۔ صبح جب ہم کچن میں جاتے تو برتن بکھرے پڑے ہوتے اور ان میں سے کئی گندے بھی ہوتے جن میں کھانا بنایا اور کھایا گیا ہوتا تھا۔ یہ گھر اب مک لین انویسٹمنٹس نامی فرم کی ملکیت ہے جس کی مالک سیلویا مک لین نے فیس بک پر بھی اس گھر کی تصاویر پوسٹ کی ہیں کہ شاید وہیں سے کوئی شخص مل جائے جو مفت میں یہ گھر لے لے، لیکن وہاں سے بھی اسے مایوسی ہو رہی ہے کیونکہ کمنٹس میں بھی مقامی لوگ اس گھر کے متعلق کئی طرح کی کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔ سیلویا کا کہنا تھا کہ ”میں نے گھر کے متعلق پھیلی ہوئی تمام کہانیاں سنی ہیں اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ پہلے جو فیملی یہاں مقیم رہی اس نے بھوت نکالنے والے بھی بلائے تھے۔ تاہم میں اب بھی پوری کوشش کر رہی ہوں کہ اس گھر کو آباد کیا جا سکے لیکن اب تک کوئی بھی اس میں رہنے کو تیار نہیں ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -