قہقہے بکھیرنے والا تنویر عباس نقوی۔۔۔!!!

قہقہے بکھیرنے والا تنویر عباس نقوی۔۔۔!!!
قہقہے بکھیرنے والا تنویر عباس نقوی۔۔۔!!!

  

یکم مئی سوگوار کر جاتی  ہے۔۔۔قہقہے بکھیرنے والے تنویر عباس نقوی کو بچھڑے 12برس ہو گئے۔۔۔یوم مزدور پر قلم کے اس سچے مزدور کی جدائی پر دل ابھی تک غم زدہ ہے ۔۔۔پچھلے سال میرے ایک بلاگ پر انتہائی عزیز نوشین نقوی نے لکھا" جب بھی امجد عثمانی کی کوئی تحریر پڑھتی ہوں تنویر عباس نقوی کے بارے میں مذہبی رجحانات کی خبر ملتی ہے۔۔۔میری بچپن اور جوانی کی یادوں میں سوشلسٹ،کمیونسٹ اور اچانک چھاپے پڑنے پر گھر کی دیوار پھلانگ کے کودنےوالا "لینن کا دیوانہ" تنویر عباس نقوی ہے لیکن ہم نے انہیں ہمیشہ دینی و دنیاوی کتابیں پڑھتے بھی بہت دیکھا ۔۔۔آج بھی گھر میں رکھی کتابوں میں نقوی صاحب کی پنسلوں سے نشان کھدے ہیں۔۔۔کئی سوال نوٹ کئے ہوئے ہیں جن کے جواب بھی ڈھونڈے گئے ہوں گے۔۔

سیدہ نوشینہ نذیر نے بجا فرمایا کہ وہ بہن کے ساتھ ساتھ تنویر عباس نقوی صاحب کی سہیلی بھی ہیں۔۔۔بلا شبہ ان سے بہتر انہیں کوئی نہیں جانتا۔۔۔مجھے بھی علم ہے کہ وہ اپنے ہی مزاج کے روشن خیال اخبار نویس تھے ۔۔۔میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ وہ بڑے دیندار تھے مگر سچی بات ہے کہ وہ دنیا دار ہرگز نہ تھے۔۔۔ہر بندے کے دو رخ ہوتے ہیں اور ہر کسی کا کسی کو دیکھنے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔۔۔کچھ لوگ جو دکھائی دیتے ہیں، پس پردہ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔۔۔میں نے دوستی کے "مختصر دورانیے" میں نقوی صاحب کا اسلام پسند چہرہ قریب سے دیکھا۔۔۔میں نے انہیں لینن اور کارل مارکس سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ ۔۔۔اصحابؓ رسولﷺ  اور اہل بیتؓ رسولﷺ کا دیوانہ پایا۔۔۔وہ ناولوں اور افسانوں کی باتیں کرتے تھے مگر انہیں قرآن مجید اور سیرت النبیﷺ سے بھی بے انتہا عقیدت تھی۔۔۔وہ سیرت کی شہرت یافتہ کتاب الرحیق المختوم کے شیدائی تھے۔۔۔۔نوشین کو شاید یاد ہو کہ جب وہ لاہور کے ایک وفد کے ساتھ بھارت گئی تھیں تو میں نے انہیں وہاں سے ایک ہندو پنڈت سوامی لکشمن پرشاد کی سیرت پر لکھی کتاب "عرب کا چاند "لانے کا کہا ۔۔۔وہ مجھے نقوی صاحب نے ہی تجویز کی تھی۔۔۔کتاب تو نہ ملی لیکن وہ میری بیگم کے لئے ساڑھیاں لے آئیں۔۔۔نقوی صاحب شیکسپئیر کے حوالے دیتے تھے مگر ابوالکلام آزاد اور شورش کاشمیری کی اسلامی فکر کے بھی مداح تھے۔۔۔وہ برطانوی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ کے ساتھ ساتھ ترک سکالر ہارون یحی کو بھی پسند کرتے تھے۔ ۔۔ان کی ایک دو کتابیں بھی مجھے تحفہ دیں۔۔۔واقعی وہ قلم اور کتاب کا دیوانہ تھا۔۔۔

مجھے یاد ہے کہ دو ہزار سات میں جناب نجم سیٹھی کی زیر ادارت روزنامہ" آج کل" کا اجرا ہوا تو یہ تجویز آئی کہ جمعہ ایڈیشن کا کیا فائدہ مگر نقوی صاحب نے ایڈیٹر انچیف کو دلیل سے قائل کیا کہ یہ اردو اخبار کا "ناگزیر صفحہ" ہے۔۔۔نجم سیٹھی صاحب نے بھی اتفاق کیا مگراب مسئلہ تھاکہ اسے کون دیکھے گا۔۔۔؟میرے پاس سٹی ایڈیٹر کی ذمہ داریاں تھیں۔۔۔وہ بھاگے بھاگے میرے پاس آئے، بازو پکڑا اور نجم سیٹھی کے کمرے میں جا کر کہنے لگے کہ سر !"ہمارے یہ مولانا" سٹی کے ساتھ ساتھ جمعہ ایڈیشن کے بھی انچارج ہونگے۔۔۔میں نے کہا کہ میں تو نیوز روم کا بندہ ہوں۔۔۔ویسے بھی میں یہ اضافی کام کیسے کر پائوں گا؟؟؟کہا چپ ورنہ یہ جمعہ ایڈیشن نہیں دینگے اور "گناہ" آپ کو ہوگا۔۔۔

قہقہے لگاتے نقوی صاحب کے اندر کی عجیب کیفیات تھیں۔۔۔وہ کمال شوق سے اسلامی ایڈیشن بنواتے اور پھر عشق و مستی میں جھوم جاتے۔۔۔

وہ علما کے بھی بہت قدردان تھے۔۔۔مدینہ منورہ میں مقیم اسلامی سکالر جناب  ڈاکٹر احمد علی سراج آج تک ان کی وہ عقیدت نہیں بھولے کہ جب میری غیر موجودگی میں وہ انہیں لینے خود دفتر سے باہر تک آئے اور ان کا پرتپاک استقبال کیا۔۔۔ڈاکٹر احمد علی سراج ان دنوں ریڈیو کویت پر مقبول عام پروگرام اور کویت ٹائمز کے ساتھ سے ہمارے اخبار کے جمعہ ایڈیشن کیلئے بھی خوب صورت دینی مضامین لکھا کرتے تھے۔۔۔۔وہ ان کے ہر مضمون کی ایک ایک سطر پڑھتے اور داد دیتے۔۔۔ڈاکٹر صاحب سے ایک اور واقعہ بھی یاد آگیا۔۔۔۔ہماری ایک دبنگ خاتون رپورٹر روزانہ کسی نہ کسی دن کی مناسبت سے سپیشل رپورٹ فائل کیا کرتی تھیں۔۔۔ایک روز پتہ نہیں وہ کہاں سے" kiss day" بھی نکال لائیں۔۔۔نقوی صاحب کہنے لگے سٹی پیج پر" اینکر" چھاپیں۔۔۔اینکر سٹوری ہم لوئر ہاف  میں بیس پر بڑی خبر کو کہتے تھے۔۔۔ساتھ ہی بولے اس پر کسی عالم دین کا ردعمل بھی لے لیں کہ کہیں صبح لوگ ہی پیچھے نہ پڑ جائیں۔۔۔میں نے ان دنوں وزارت اوقاف کویت میں خطیب  اعلی ڈاکٹر  احمد علی سراج کو فون ملایا کہ قبلہ کیا کہتے ہیں آپ بیچ اس "مسئلے" کے۔۔پنجاب یونیورسٹی سے اسلامی بینکاری میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر احمد علی سراج کویت اسلامی بینک کے بانی رکن اور معتدل عالم دین ہیں۔۔۔انہوں نے سوال سنا، مسکرائے اور کہا میرے پیارے بھائی کوئی مسئلہ نہیں ہم اسے "یوم بوسہ "کہہ لیتے ہیں۔۔۔تو جہاں تک بوسے کا تعلق ہے تو پیارے آقا کریمﷺ اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہؓ کا ماتھا چومتے....اپنے نواسوں حسنینؓ کریمینؓ کے بوسے لیتے....صحابہؓ کرام بھی اپنے بچوں سے اسی انداز میں پیار کرتے۔۔۔میت کے ماتھے کا بوسہ بھی مسنون ہے۔۔۔رسول کریم ﷺنے حضرت سعد بن معاذؓ  کی پیشانی کو ایسے غمناک طریقے سے چوما کہ آپﷺ کے آنسو مبارک موتیوں کی طرح ان کے رخسار پر گر رہے تھے ۔۔۔شوہر بیوی اور بیوی شوہر کا بوسہ لے سکتی ہے۔۔۔والدین بچوں اور بہن بھائی ایک دوسرے کا منہ ماتھا چوم سکتے ہیں۔۔۔عرب کلچر میں اب بھی معانقہ کرتے گردن کا بوسہ لیا جاتا ہے۔۔۔خلاصہ کلام یہ کہ شرعی حدود کا خیال کرتے ہوئے جائز بوسہ تو بہت ہی مستحسن عمل ہے۔۔میں نے" ورشن" سامنے رکھا تو کہنے لگے یار یہ ہوتا ہے اسلامی سکالر۔۔۔میرے پاس ہوتے تو ان کے ہاتھ چوم لیتا۔۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے  ڈاکٹر سراج نے بھی یہ تعلق خوب نبھایا۔۔۔نوشین کے راجہ ریاض سے رشتہ کے لئے ان کے والد گرامی جناب سید نذیر بخاری کو قائل کرنے میں ڈاکٹر صاحب نے "حتمی کردار" ادا کیا۔۔۔عربی جبے میں ملبوس ڈاکٹر صاحب نے سیدنا حسینؓ اور بی بی شہر بانوؓ کے نکاح مبارک کا واقعہ سنایا ہی تھا کہ بابا جی رضامند ہو گئے۔۔۔ نقوی صاحب کی سب سے چھوٹی ہمشیرہ کی شادی میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر مدینہ منورہ سے آئے جبکہ بیٹے کی شادی پر بھی تہنیتی پیغام بھجوایا۔۔۔

  

بات ہو رہی تھی نقوی صاحب کے دینی رجحان کی۔۔۔روزنامہ آج کل سے علیحدگی کے بعد ہمارا انٹر ایکشن بڑھ گیا۔۔۔ ایک دن عجب ترنگ میں تھے۔۔۔کہنے لگے یار ویسے قرآن مجید بھی کمال فصیح و بلیغ کتاب ہے۔۔۔بنیادی طور پر عاشق مزاج ہوں، میں تو سورہ رحمان کے صوتی حسن کی تاب نہیں لا پاتا۔۔۔دل کرتا ہے اس سورہ کی سحر انگزیوں پر ایک شاہکار کتاب لکھوں۔۔۔مجھے اس ضمن میں اچھا سا لٹریچر درکار ہے۔۔۔مجھے  انہی دنوں شیخ حرم کعبہ مولانا مکی حجازی صاحب نے مکہ مکرمہ سے بیت اللہ شریف میں اپنے دروس پر مبنی کئی جلدوں پر مشتمل   کتاب دروس حرم بھیجی تھی ۔ ۔میں نے سورہ رحمان سے متعلق جلد ان کے حوالے کر دی۔۔۔کچھ اور کتابیں بھی ان کی خدمت میں پیش کیں۔۔خوش قسمتی دیکھئیے کہ زندگی کے آخری دنوں میں وہ سورہ رحمان کے مطالعے میں منہمک تھے کہ رحمان کی طرف سے بلاوا آگیا ۔۔۔

دوستوں کے دوست تنویر عباس نقوی منفرد صحافی اور صاحب طرز کالم نگار تھے۔۔۔بہترین افسانہ اور ڈرامہ نگار تھے۔۔ان کی بعض ادائیں بھی بڑی منفرد تھیں۔۔۔دو ہزار پانچ کی بات ہے وہ اسلام آباد سے لاہور آئے تو پریس کلب میں بیٹھے ،میں نے پوچھا کہ آپ کا آخری کالم ایکسپریس میں دیکھا تھا۔۔۔آج کل کیوں نہیں لکھ رہے۔۔۔؟کمال جملہ کہا کہ بھائی الفاظ بھوک میں اترتے ہیں۔۔۔ان دنوں میرے پاس بھاری تنخواہ والی نوکری ہے۔۔۔کالم لکھا ہی نہیں جاتا۔۔روزنامہ آج کل کی بات ہے کہ میں نے کہا کہ آپ ایڈیٹر ہو گئے۔۔۔رکشے پر آتے ہیں گاڑی لے لیں تو کہنے لگے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔میں پیدل بھی ایڈیٹر ہوں۔۔۔!

میں نے کہا شکرگڑھ سے ڈاکٹر ندیم اختر شاعر ادیب دوست ہیں۔۔۔ان کا انٹر ویو کر کے میگزین میں ایڈجسٹ کر لیں۔۔کہنے لگے شاعروں ادیبوں کے انٹرویو نہیں کرتے۔۔۔نوکری کرنی ہے تو جب دل چاہے آجائیں۔۔۔میں نے ایک دوست کی نوکری کے لئے شاہ جی سے سفارش کا کہا۔۔۔ان کے بازو میں فریکچر تھا۔۔۔ہم پیدل ہی ایکسپریس جا رہے تھے ۔۔۔میں آگے اور وہ پیچھے تھے۔۔۔قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس وقت سٹائل سے واقعی ہم فقیر لگ رہے ہیں۔

وہ سنئیرز کا بہت احترام کرتے۔۔۔جب انہیں پتہ چلا کہ طاہر پرویز بٹ صاحب اے ٹی وی چھوڑ کر اسلام آباد سے لاہور آگئے ہیں تو مجھے،عامر ندیم اور احسن ظہیر کو بھیجا کہ انہیں لیکر آئیں اور پھر ان کو ایڈیٹر کا پروٹوکول دیکر ادارہ جوائن کرایا۔۔آجکل چھوڑنے کے بعد ایک دوست نے خالد چودھری پر پھبتی کسی تو اسے ڈانٹتے ہوئے کہا کہ ہیلو بھائی آپ کون ہیں۔۔۔آج کے بعد یہ غلطی نہ کرنا کہ وہ ہر وقت میرے بڑے ہیں۔۔۔

ایک اور دلچسپ واقعہ سنیے۔۔۔دی نیوز کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن جناب انصار عباسی نے جنگ میں "محاسبہ" کے عنوان سے پہلا کام لکھا تو تنویر عباس نقوی نے انہیں ایک ای میل بھیجی کہ" محاسبہ" کے نام سے تو میں کئی برس سے کالم لکھ رہا ہوں۔۔۔ مہربانی فرما کر یہ لوگو تبدیل کر لیں۔۔۔جناب انصار عباسی کا بڑا پن دیکھئیے کہ انہوں نے تنویر عباس نقوی کے" برقی خط "کا فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ معذرت مجھے علم نہیں تھا لہذا میں آئندہ آپ کا یہ" سرنامہ" استعمال نہیں کروں گا اور تب سے وہ " کس سے منصفی چاہیں" کے نام سے لکھ رہے ہیں۔۔۔۔میری خواہش تھی کہ محاسبہ کا لوگو مجھے مل جاتا مگر مجھ سے پہلے نقوی صاحب کے ایک اور دوست ناصر جمال نے نوشین سے اجازت لیکر اس عنوان سے لکھنا شروع کر دیا۔۔۔ شہر رسول میں مقیم ڈاکٹر احمد علی سراج نقوی صاحب کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔۔۔وہ اکثر فرماتے ہیں کہ نقوی صاحب کی والدہ محترمہ کو میرا سلام کہنا اور بتانا کہ میں روضہ رسول ﷺپر اپنے بھائی کا نام لیکر سلام پیش کرتا رہتا ہوں۔۔۔سنہری جالیوں کے سامنے کسی کا ذکر ہو جائے، اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے۔۔یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔۔۔!!!

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -