معیشت ٹھیک کرنے کے دعویدار عوام کو وینٹی لیٹر پر لے گئے : سراج الحق

معیشت ٹھیک کرنے کے دعویدار عوام کو وینٹی لیٹر پر لے گئے : سراج الحق
معیشت ٹھیک کرنے کے دعویدار عوام کو وینٹی لیٹر پر لے گئے : سراج الحق

  

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفد کے ساتھ سجادہ نشین آستانہ عالیہ گڑھی شریف خواجہ غلام قطب الدین فریدی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔ وفد میں فرید احمد پراچہ، پروفیسر ابراہیم، آصف لقمان قاضی شامل تھے، جبکہ دوسری طرف صاحبزادہ غلام نصیرالدین ولی عہد گڑھی شریف سمیت دیگر علماءو مشائخ بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کو عوامی مشکلات کا ادراک نہیں، معیشت ٹھیک کرنے کے دعویدار عوام کو وینٹی لیٹر پر لے گئے ہیں جبکہ خواجہ غلام قطلب الدین فریدی نے گفتگو کے دوران کہا کہ علماءو مشائخ نےحالیہ دھرنےکےدوران ذمہ داری کامظاہرہ کرکےملک کو ایک بحران سےبچایا لیکن اس کے فوری بعد شعیب سڈل کمیشن کی سفارشات نےاہل ایمان کےرونگٹھے کھڑے کردئیےاس پر ریاست مدینہ کے دعویداروں کی طرف سے سخت ایکشن لیا جانا ابھی تک سامنے نہیں آیا جس پر اہل سنت کو تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں لیکن دینی حلقے ایف اے ٹی ایف کی من مانیاں یہاں نہیں چلنے دیں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ کشمیر اور فلسطین سمیت دنیا بھر میں مسلمان آزمائشوں میں مبتلا ہیں، ان کے حق آزادی کے لئے بھرپور آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے،عالمی ضمیر اسرائیلی قبضہ پر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جبکہ کشمیر میں لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کو بھارتی قابض فورسز نے اجیرن بنا رکھا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود عرصہ ستر برس سے کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں اور اقوام متحدہ خاموش ہے جبکہ پاکستانی حکمرانوں نے بھی مودی سرکار کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے قوم سے اپیل کی کہ کشمیری مسلمانوں کی آزادی کے لیے اس ماہ مبارک میں خصوصی دعا کی جائے، اس وقت امت مسلمہ ایک تلخ دور سے گزر رہی ہے،بے پناہ قدرتی خزانوں کے مالک ہونے کے باوجود مسلم ممالک کو غربت، بے روزگاری، بدامنی اور جہالت کے گھمبیر مسائل نے گھیراہوا ہے،مسلم دنیا کے چند ہی ایسے حکمران ہوں گے جن کو اپنی عوام کی کوئی فکر ہے،یورپی یونین کی توہین رسالت کا قانون ختم کرنے کی قرارداد قابل مذمت ہے، اسلامی ممالک کو توہین رسالت کے حوالے سے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے لیکن اسلامی ممالک کی ترجیحات میں ناموس رسالتﷺ کا مسئلہ شامل نہیں۔

مزید :

قومی -