کراچی میں قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب

کراچی میں قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب

  

حلقہ این اے249 کے ضمنی انتخاب کا جو غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے، اس میں پیپلزپارٹی کے امیدوار قادر خان مندو خیل16156 ووٹ لے کر جیت گئے ہیں،دوسرے نمبر پر مسلم لیگ(ن) کے مفتاح اسماعیل رہے ہیں، جنہوں نے15473 ووٹ حاصل کئے، تیسری پوزیشن ٹی ایل پی کے امیدوار مولانا نذیر احمد کمالوی نے11125 ووٹ لے کر حاصل کی، چوتھے نمبر پر پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفےٰ کمال رہے،جنہوں نے9227 ووٹ حاصل کئے۔ تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی کو8922ووٹ مل سکے، چھٹی پوزیشن ایم کیو ایم(پ) کے امیدوار محمد مرسلین کے حصے میں آئی،جنہوں نے7511 ووٹ حاصل کئے،اس حلقے میں مجموعی طور پر تیس امیدوار الیکشن لڑ رہے تھے،مسلم لیگ(ن)، پاک سرزمین پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم(پ) نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔مسلم لیگ(ن) کا کہنا ہے کہ اس کا امیدوار173پولنگ اسٹیشنوں کے نتیجے میں لیڈ کر رہا تھا، آدھی رات کے بعد تقریباً سحری کے وقت جو نتائج آئے اس میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کی لیڈ دکھائی گئی، الیکشن ہارنے والی چار جماعتوں نے نتائج تسلیم نہیں کئے،البتہ ٹی ایل پی کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس کی الیکشن میں تیسری پوزیشن ہے،الیکشن کوئی بھی جماعت جیتتی بظاہر اسے ایسی ہی کامیابی کی امید تھی۔ یہ نتائج ایک نیوز چینل نے اپنی ویب سائٹ پر ساڑھے چار بجے صبح اپ لوڈ  کئے۔ اخبارات میں البتہ جو خبریں شائع ہوئی ہیں اُن سب میں مسلم لیگ(ن) ہی پہلے نمبر پر ہے۔

یہ نشست حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن اسمبلی فیصل واوڈا کے استعفے کی وجہ سے خالی ہوئی، جن کے خلاف الیکشن کمیشن اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس الزام میں مقدمہ چلتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کاغذات نامزدگی داخل کئے تو انہوں نے دوہری شہریت نہیں چھوڑی تھی، انتخابات کے بعد سے یہ مقدمہ چل رہا تھا، لیکن کبھی ایک اور کبھی دوسری وجہ سے ملتوی ہوتا رہا، 3مارچ کو جب قومی اسمبلی میں سینیٹ کا الیکشن ہو رہا تھا اس روز بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کا مقدمہ زیر سماعت تھا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اس معاملے میں کوئی حکم جاری ہو گا یا سخت ریمارکس آئیں گے،اِس لئے وہ قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی ایوان میں آئے اور ووٹ ڈالنے کے بعد استعفا دے دیا،استعفے کی اطلاع اِن کے وکیل نے فاضل عدالت کو دی،جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں تو مقدمے کی سماعت رُک گئی،البتہ کیس الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا کہ وہ ”غلط بیانی“ کا جائزہ لے کر کیس کا فیصلہ کرے یہ کیس وہاں اب بھی زیر سماعت ہے،جس کے خلاف فیصل واوڈا سندھ ہائی کورٹ میں چلے گئے ہیں تاہم کیس کی سماعت رُک نہیں سکی۔اب وہ سینیٹ کے رکن ہیں۔

ایک ایم این اے نے طویل عرصے تک اپنی دوہری شہریت کے معاملے کو کیوں لٹکایا اور اگر انہوں نے دوسرے ملک کی شہریت چھوڑ دی تھی تو عدالتوں میں صاف اور واضح موقف کیوں نہیں اپنایا،اُن کی اس ”لُکن میٹی“ کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر وہ قومی اسمبلی کی نشست چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ضمنی الیکشن میں حکمران جماعت کو ایک نشست کے نقصان کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ ان حالات میں جب ایک گروپ جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑا ہے اور امکان ہے کہ حکومت کا ساتھ چھوڑ دے گا، قومی اسمبلی کی ایک نشست ہار جانا معمولی بات نہیں ہے، وزیراعظم کو محض چار ووٹوں کی اکثریت سے اقتدار ملا، جن میں اتحادی جماعتیں بھی شامل ہیں،جو کبھی کبھار ڈانواں ڈول بھی ہو جاتی ہیں۔اختر مینگل کی جماعت حکومت کا ساتھ چھوڑ چکی اور ایم کیو ایم(پ) حکومت کو جتاتی رہتی ہے کہ وہ اس کے سات ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے، فیصل واوڈا کی غیر سنجیدہ حرکتوں ہی کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو یہ دن دیکھنا پڑے،وہ تو دوستی کا فائدہ اٹھا کر آرام سے سینیٹر بن گئے، شکست اور سُبکی تو حکومت کا مقدر ٹھہری اور اب اسے شکست کے عذر تراشنے پڑ رہے ہیں۔ایک صاحب نے فرمایا کہ سترہ ہزار سے زیادہ لوگ ہمارے کیمپ سے ووٹوں کی ”پرچیاں“ لے کر گئے،لیکن اتنے ووٹ نہیں نکلے یہ سادہ لوحی کی انتہا ہے، کیونکہ پرچیاں تو ووٹرز لسٹ میں سے ووٹ تلاش کرنے کے لئے ہوتی ہیں، ان کا یہ مقصد کبھی نہیں ہوتا کہ جس نے جس پارٹی کے کیمپ سے پرچی لی ہے وہ اس کے امیدوار کے حق میں ووٹ بھی ڈالے گا،لیکن جب حکومت کا امیدوار بری طرح ہار گیا تو پھر ایسے عذر ہائے لنگ تلاش کرنے کے  سوا کیا چارہ تھا۔

اِس وقت جو تنازعہ ہے وہ پہلے اور دوسرے نمبر پر رہنے والے امیدواروں اور اُن کی پارٹیوں کے درمیان ہے،جو امیدوار اور جو پارٹی پانچویں پوزیشن پر کھڑی ہے اگر کسی وجہ سے کوئی مختلف فیصلہ ہوتا ہے تو پہلی چار پوزیشین چھوڑ کر تحریک انصاف کے امیدوار کو تو کامیاب قرار نہیں دیا جائے گا۔تحریک لبیک(ٹی ایل پی) نے گیارہ ہزار سے زیادہ ووٹ لئے ہیں اور اگر ٹرن آؤٹ زیادہ ہوتا تو شاید ساری ہی پارٹیوں کو اس حساب سے کچھ زیادہ ووٹ مل جاتے،لیکن تحریک لبیک کے امیدوار بھی جانتے ہیں اور اس کی قیادت بھی، کہ اس جماعت کی تخلیق انتخابات میں اوّل  دوم یا سوم پوزیشن کے لئے نہیں ہوئی، اس جماعت کا ہیولیٰ تراشنے والوں نے اسے ایک ایسا پریشر گروپ بنا کر کھڑا کیا ہے،جو خود تو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا البتہ اس کے امیدوار کسی کی جیت اور کسی کی ہار پر اثر انداز ضرور ہو سکتے ہیں اور شاید یہی کردار وہ نبھاتی رہے گی۔2018ء یا اس سے پہلے کے انتخابات میں اسے جو ووٹ ملے اس پر بعض حلقوں کو حیرانی ہوئی کہ ایسا کیسے ہو گیا کہ وہ عشروں سے کام کرنے والی مذہبی سیاسی جماعتوں سے بھی یکایک آگے نکل گئی اور ووٹوں کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آ گئی۔ تحریک لبیک نے2018ء میں بائیس لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کئے تھے،لیکن نشست اسے ایک بھی نہیں ملی، تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ سارے ووٹ کس کام کے؟ اور کیا یہ کسی خاص مقبولیت کا پیمانہ ہے؟ اس کا جواب تو یہ ہے کہ اس سے کم ووٹ لینے والی جماعتیں بھی نشستوں کے حساب سے اگر اس سے آگے بڑھ گئیں تو پھر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ان ووٹوں کی افادیت کیا ہے؟ پارلیمانی الیکشن کوئی متناسب نمائندگی کے تحت تو نہیں ہوتے کہ ووٹوں کے حساب سے نشستیں مل جائیں اگر کوئی پارٹی کسی حلقے میں اپنا امیدوار جتوا نہیں پاتی تو اس کے ہارے ہوئے امیدوار کے ووٹ بھلے سے کتنے بھی زیادہ ہوں وہ بہرحال شکست خوردہ ہی کہلائے گا۔البتہ ہارنے والا دِل کو تسلی دے لیتا ہے کہ اس نے اتنے زیادہ ووٹ لئے۔اس انتخاب سے دو باتیں واضح ہو گئیں کہ کوئی مانے یا نہ مانے تحریک انصاف کا ڈھلوان کا سفر شروع ہو چکا ہے اور حالیہ ضمنی انتخابات کا نتیجہ اس کے ثبوت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ تحریک لبیک،اگر آئندہ الیکشن بھی لڑنے کی قانونی طور پر اہل رہی تو وہ اپنی کامیابی کی بجائے دوسرے امیدواروں کی کامیابی و ناکامی پر زیادہ اثر انداز ہو گی، اور یہی تخلیق کاروں کی تمناّ، خواہش اور ضرورت ہے،اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ہاں البتہ سندھ اسمبلی کی طرح اسے اگلے انتخابات میں کسی دوسری جگہ بھی چند نشستیں مل سکتی ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -