کیا پیپلزپارٹی معافی مانگ کر اتحاد کا حصہ بنے گی؟

کیا پیپلزپارٹی معافی مانگ کر اتحاد کا حصہ بنے گی؟
کیا پیپلزپارٹی معافی مانگ کر اتحاد کا حصہ بنے گی؟

  

سیاست تو سیاست،اسے اسی طرح جاری رہنا ہے۔ سچ اور جھوٹ میں فرق ایک امتحان ہے۔ اب یہی ملا حظہ فرما لیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ اور آصف علی زرداری کے دوست مولانا فضل الرحمن نے اپنے سابقہ بیان کو آگے بڑھایا اور کہتے ہیں، پیپلزپارٹی پی ڈی ایم میں واپس آنا چاہتی ہے۔ ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ شوکاز نوٹس کا جواب دیں۔ اس سے پہلے یہ اطلاع تھی کہ مولانا نے پیپلزپارٹی اور اے این پی کے استعفے منظور کر لئے ہیں، چنانچہ سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہی مولانا نے میاں افتخار کی جگہ حافظ حمداللہ کو پی ڈی ایم کا سیکرٹری اطلاعات بنایا تھا، اس حوالے سے پیپلزپارٹی اور اے این پی کی طرف سے مثبت یا منفی بات سامنے نہیں آئی، البتہ مولانا سے یہ ہدایت منسوب کی گئی ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں (باقی) بیان بازی ترک کر دیں، اب اگر ذرا غور کیا جائے تو مولانا فضل الرحمن کی حکمت عملی یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کو عوامی سطح پر شرمندہ تو کیا جائے، کیونکہ یہ تو واضح ہے کہ اگر ان دو جماعتوں نے شوکاز منظور کر کے جواب دینا ہوتا تو پی ڈی ایم سے باہر کیوں جاتیں، ان کی طرف سے اس شوکاز کو توہین قرار دیا گیا تھا۔ میں تو مولانا کے بیان کے بعد پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی پر غور کرتا رہا، اس میں اراکین کی اکثریت کا دعویٰ تو یہ تھا کہ پی ڈی ایم بنایا ہی پیپلزپارٹی نے تھا کہ فیصلہ پارٹی کی طرف سے اپوزیشن کی گول میز کانفرنس بلانے کے موقع پر ہوا تھا اور بلاول بھٹو نے مل کر چلنے کی دعوت دی تھی، اس لئے میرے خیال میں پیپلزپارٹی اتنی بھی بے چین اور اکیلی نہیں کہ معافی تلافی پر اثر آئے۔

یوں بھی سیاست میں لچک ہونی ضروری ہے، لیکن ذاتی عزت+توہین پر نہیں، بلاول نے بہت ٹھوس اور زوردار طریقے سے کہا تھا،ہم سیاست عزت کے لئے کرتے ہیں اور اب مولانا پیار بھرے لہجے میں ان کی ”عزت افزائی“ ہی تو کر رہے ہیں۔ ان کا حالیہ بیان دو دھاری تلوار ہے۔ ردعمل میں تلخی ہو سکتی ہے اور پیپلزپارٹی باہر رہ جائے گی۔ اگر پروگرام یہی ہے تو پھر بات واضح ہے کہ حضرت صاحب کو جواب ہی ملے گا، یوں بھی پیپلزپارٹی کے پروگرام میں اتحاد اور تعاون تو شامل ہے لیکن راستے بھی کھلے ہیں۔ تضادات یوں بھی زیادہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) پھر سے متحارب اور اب حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب نے مزید تلخی پیدا کی کہ مفتاح اسماعیل کو پی ڈی ایم کا متفقہ امیدوار ہونا تھا، یہاں اصل مقابلہ ہی ان دونوں جماعتوں میں ہو گیا ہے، لہٰذا ہر ایک کا ”پلڑا بھاری“ ہے، فاصلے کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں، ایسے میں مولانا کے بیانات کو حکمت عملی ہی تصور کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمن سے ہمارے مراسم دیرینہ ہیں، ان کے والد قبلہ مفتی محمود کی خدمت میں ہم چار اخبار نویس دوست حاضر ہوتے تھے تو مولانا ان دنوں صاحبزادے تھے۔ پھر حضرت مفتی محمود کی وفات کے بعد جب صاحبزادوں کے درمیان رزم آرائی ہوئی تو بھی ہم سب کو رپورٹنگ کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہم مولانا کے دیرینہ واقف اور بڑی حد تک مزاج آشنا بھی ہیں اور پھر مجھے تو وہ الیکشن بھی یاد ہے جب غلام اسحاق خان کے مقابلے میں نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) تھے اور ایم این اے ہوسٹل میں مولانا کا کمرہ سرگرمیوں کا مرکز تھا، میں نے وہ ایاّم اسلام آباد میں اس الیکشن کی کوریج میں گزارے تھے، چنانچہ ہر روز نوابزادہ نصراللہ اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقاتیں اور باتیں ہوتیں اور خبریں بھی بنتی تھیں، اس انتخاب کی بڑی بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن اور خود نوابزادہ نصراللہ خان برہم تھے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے وعدہ اور تعاون کی یقین دہانی پر صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا اور اب وہ غلام اسحاق خان کی طرف دار بن گئی ہیں۔ میں نے دبے دبے یہ عرض کیا تھا کہ ایسی صورت میں کامیابی مشکل ہے۔ اس پر نوابزادہ نصراللہ کا جواب تو ان کے مزاج کے مطابق تھا ”ہمارا فیصلہ اصولی ہے۔

ہم کسی حمائت یا مخالفت کے باوجود جمہوری عمل کے طور پر اس الیکشن میں حصہ لیں گے“ تاہم مولانا فضل الرحمن ذرا تپے ہوئے تھے اس دوران مسلم لیگ (ن) سے روابط زیادہ بہتر ہوئے اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے غلام اسحاق کی مخالفت نے مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے تھے لیکن یہ بھی یاد رہے کہ بعدازاں ہر دو حضرات نوابزادہ نصراللہ خان اور مولانا فضل الرحمن قومی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور ان کے آصف علی زرداری کے ساتھ تعلقات مثالی تھے، اس پس منظر کے علاوہ بھی میں بہت سی باتوں کا امین ہوں، جو مولانا اعتماد کے باعث مجھ سے کرتے رہے ہیں کہ ایک وہ دن بھی تھا، جب اسی روزنامہ ”پاکستان“ کی عمارت میں مولانا کو میں نے مدعو کرکے انٹرویو کیا اور بعد میں ہماری آپس میں رازداری کی باتیں ہوئیں اور مولانا نے مجھے بہت بڑے راز سے آگاہ بھی کیا، یہ سب امانت اور میرا بھی اسی نسل سے تعلق ہے جو آف دی ریکارڈ کا حقیقی احترام کرتی ہے، یہ بات سامنے آئی تو یہ بھی عرض کردوں کہ ایک دور وہ بھی آیا تھا، جب بعض دوست ”آف دی ریکارڈ“ پوچھ کر بعد میں خبر بنا دیتے تھے، ان دنوں جب مِسنگ والا سلسلہ شروع ہوا تو جب کبھی کسی رہنما سے ”آف دی ریکارڈ“ کہہ کر بات پوچھنے کی کوشش کی گئی تو میں فوراً ٹوک دیتا تھا کہ میرے لئے آف دی ریکارڈ نہیں، لہٰذا بولنے والے حضرت اپنا بُرا بھلا سوچ کر بولیں۔ یہ بھی عرض کروں، اس دور میں بھی ایسا ہوتا تھاکہ خود سیاسی رہنما جرنلسٹوں (محدود) کو بلا کر ”آف دی ریکارڈ“گفتگو کرتے۔ مقصد یہ ہوتا کہ ان کے حوالے کے بغیر خبر چھپ جائے۔ اس لئے اب اگر کسی ایسی گفتگو کی کوئی خبر کسی طرح شائع یا نشر ہو جائے تو مجھے تعجب نہیں ہوتا کہ یہ تو چلن ہے زمانے کا“

بات دور نکل گئی۔ میں نے کوشش کی ہے کہ قارئین کی الجھن کو دور کر سکوں کہ ہمارے راہنماؤں کا تو طریقہ ہی اور ہے، ویسے آج کل ”یوٹرن“ کی بہت مشہوری ہے۔ اس کے لئے میں آپ کو ایک بڑے لیڈر کی بڑی بات دہرا کر بات ختم کرتا ہوں، ہمارے ایک ساتھی صحافی سجاد کرمانی اپنے پاس ٹیپ ریکارڈر رکھتے تھے اور اکثر پریس کانفرنس یا گفتگو ٹیپ کر لیتے۔ بعد میں ہم تین چار دوست ان کی ٹیپ سن کر اپنے نوٹس کی تصحیح کر لیا کرتے تھے۔ ایک بار مرحوم حسین شہید سہروردی لاہور آئے تو سجاد کرمانی نے ہم دو تین ساتھیوں کو ساتھ لیا اور ان کے ساتھ گفتگو کے لئے چل پڑے۔ ہمارا ساتھ یوں ضروری تھا کہ قومی رہنما ایک فرد سے بات کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ جب نشست جمی اور بات ہونے لگی تو سجاد کرمانی (مرحوم) نے ٹیپ ریکارڈر نکال کر رکھا۔ سابق وزیراعظم نے پوچھا یہ کیا ہے، بتایا ٹیپ ریکارڈر ہے  تو وہ بولے: اسے اٹھا کر بند کریں، آپ میرا "Right of Contradiction" چھیننا چاہتے ہیں تو سو میرے بھائیو! یہاں بھی معاملہ اسی حق کا ہے کہ میں تو کسی بھی راہنما کا یہ حق چھیننا نہیں چاہتا، لہٰذا بہتر ہے کہ آف دی ریکارڈ والی باتیں آف دی ریکارڈ ہی رہیں، اب یہ فیصلہ یا جواب تو پیپلزپارٹی کا فرض ہے کہ جواب دہی کا ذمہ دار اسی جماعت کو بنایا گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی مستقبل کی سیاست کا انحصار بھی ان حالات سے نبردآزما ہونے میں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -