محنت کشوں کے قوانین پر عمل درآمد اور ترامیم کی اشد ضرورت

محنت کشوں کے قوانین پر عمل درآمد اور ترامیم کی اشد ضرورت
محنت کشوں کے قوانین پر عمل درآمد اور ترامیم کی اشد ضرورت

  

آئین جمہوریہ پاکستان میں تحریر ہے کہ سماج سے استحصال کا خاتمہ کیا جائے گا۔ شہریوں اور کارکنوں کوبنیادی ضروریات زندگی مہیا کی جائیں گی۔ آئین پاکستان میں یہ بھی تحریر ہے کہ کمسن بچوں اور کارکنوں سے جبری محنت کرنے اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے اور کارکنوں کو انجمن سازی کا  بنیادی حق حاصل ہوگا۔ ریاست کارکنوں کو صحت مند کام کا ماحول، سماجی انصاف اور سماجی پنشن کی سہولت فراہم کرے گی۔پاکستان عالمی ادارہئ محنت(آئی ایل او) دنیا کے 184 ممبر ممالک میں اہم رکن ہے۔ پاکستان نے  آئی ایل او کنونشن کی توثیق کر رکھی ہے، جس کے تحت حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کی فلاح وبہبود کے لئے قانون سازی پر عمل درآمد کرے۔ پاکستان میں کارکنوں کی بہبود کے 72 سے زائد وفاقی و صوبائی لیبر قوانین نافذ ہیں، لیکن کروڑوں محنت کشوں کے لئے ان قوانین پر عمل درآمد کے لئے صرف 8فیصد کے قریب لیبر آفیسر مقرر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لیبر قوانین کی موجودگی کے باوجود:

٭…… چودہ سال سے کم عمر بچے لاکھوں کی تعداد میں والدین کی غربت کی وجہ سے محنت مزدوری کررہے ہیں۔

٭……آئین میں جبری محنت پر پابندی کے باوجود بے شمار افراد بعض صنعتوں اور جاگیرداروں کے کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔خواتین کے ساتھ کام پر امتیازی سلوک کے خاتمے اور اُنہیں مساوی کام پر مساوی اجرت کی ادائیگی کا فقدان ہے۔

٭…… ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکنوں کو صحت مند کام کا ماحول اور اُنہیں  حادثات و پیشہ ورانہ بیماریوں سے محفوظ کرے، لیکن کارکنوں کے تحفظ ایکٹ 1926ء کے باوجود آئی ایل او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بالخصوص بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں سب سے زیادہ حادثات ہوتے ہیں،اسی طرح بجلی، کیمیکل، انجینئرنگ اور ریلوے میں بھی حادثات کی تعداد زیادہ ہے۔٭…… ملک کے کثیر محنت کشوں کی تعداد زراعت  میں ہے، اُن کے لئے اجرت اور کام پر تحفظ کے لئے کوئی قانون نہیں۔

٭……کم از کم اجرت ایکٹ1965ء میں تحریر ہے کہ حکومت ہر سال مہنگائی کے مطابق کارکنوں کی اجرتوں میں اضافہ کرے گی،لیکن تقریباً دو سال میں مہنگائی میں دو گنا سے زیادہ اضافے کے باوجود کارکنوں کی اجرتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا۔٭…… پاکستان انڈسٹریل و کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس1968ء میں تحریر ہے کہ 9 ماہ کی سروس کے صنعتی اور تجارتی اداروں کے ملازمین کو مستقل  کیا جائے، لیکن سالہا سال سے یہ ملازمین کنٹریکٹ یا عارضی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

٭…… ادائیگی اجرت ایکٹ1936ء میں تحریر ہے کہ کارکنوں کو اجرت بروقت نہ ملنے پر آجر کو صرف 500 روپے جرمانہ کیا جائے گا جو نہ ہونے کے برابر ہے۔٭…… کارکنوں کی بہبود کے دو اہم لیبر قوانین کارکنوں کو کمپنی میں منافع ایکٹ1968ء اور کارکن کی فلاح و بہبود آرڈیننس1971ء نافذ ہے۔اس کے مالی وسائل وفاقی حکومت کے پاس جمع ہیں۔18ویں آئینی ترمیم میں لیبر کے معاملات صوبائی حکومت کو تفویض ہوئے ہیں،لیکن وفاقی و صوبائی حکومتوں کے پاس اس کے مالی وسائل کا تصفیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس میں عملدرآمد رکاوٹ ہے۔٭…… کارکنوں کے حق انجمن سازی اور اجتماعی سودا کاری آئین پاکستان اور آئی ایل او کنونشنوں میں ضمانت دی گئی ہے،لیکن اس پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ان حالات میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کا فرض ہے کہ وہ مروجہ لیبر قوانین پر نہ صرف عمل کرائیں، بلکہ انہیں آئین جمہوریہ پاکستان اور عالمی ادارہئ محنت کی توثیق شدہ کنونشنوں سے ہم آہنگ کریں اور اس سلسلے میں کارکنوں کی سہ فریقی لیبر کانفرنس پر موثر عمل کروائیں۔

مزید :

رائے -کالم -