سوشل میڈیا کے مضمرات

سوشل میڈیا کے مضمرات
سوشل میڈیا کے مضمرات

  

کچھ عرصہ قبل ایک محترم دوست نے مجھے وٹس ایپ پر تین منٹ کی ایک ویڈیو بھیجی،جو ایک نامور سیاسی رہنما کے انٹرویو پر مبنی تھی۔ویڈیو دیکھنے کے بعد میرا دل یہ بات ماننے کو تیار نہ ہواکہ اتنا بڑا سیاسی رہنما، اس طرح واشگاف الفاظ میں ایسے کلمات کہہ سکتا تھا،جونہ صرف اس کے سیاسی کیرئیر بلکہ زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتے تھے اور پھر اگر ایسا کوئی انٹرویو ہوتا بھی تو ٹیلی ویژن اور دیگر میڈیا اسے نمایاں کرتا، مگر ایسا چونکہ دیکھنے میں نہیں آیاتھا،لہٰذا اس ویڈیوکی اصلیّت پر شک گزرا۔میں نے اپنی تسلّی کے لئے انٹرویو گوگل پر تلاش کیا تو  اُس کا اصل پرا گہ مل گیا۔پورے انٹر ویو میں ایک جگہ بھی  سیاسی رہنما نے قادیانیوں کی طرف داری یا اُن کی مذہبی ترویج و اشاعت کے تعاون کے بارے میں کوئی بات نہ کی تھی،بلکہ عقیدۂ ختم نبوّت پر اپنے غیر متزلزل ایمان کے سوا کچھ نہ کہا تھا۔ گویا ویڈیو بنا کر پھیلانے والے نے اپنی ذاتی، سیاسی یا مذہبی نفرت کی اشاعت  کے لئے ایک مسلمان کے ایمان کو مشکوک بناکر جعلسازی کا ارتکاب کیا۔آج سوشل میڈیا کی دُنیا جہاں علم و آگاہی،سستی تفریح،پیشہ ورانہ مہارت اور ترسیلِ معلومات کا بہت بڑا منبع ہے، وہاں نفرت پھیلانے،بلیک میل کرنے،دھوکہ دہی، عریانیت پسندی،جنسی تلّذز، ذاتی بے پردگی اور دیگر خُرافات کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بھی ہے۔

اگر ہم فیس بک،ٹویٹر اور انسٹاگرام کی بات کریں تو اِن سے وابستہ مختلف نوع کے کھاتہ داروں سے متعلق آگاہی کا ہوناضروری ہے۔پہلے درجے میں وہ کھاتہ دار آتے ہیں،جو تعلیم یافتہ افراد یاطالب علم ہیں۔وہ اپنے علم میں اضافہ یا مطالعہ میں اِستفادہ کے لئے مواد  کے حصول اور ذاتی رابطوں کے متمنّی ہوتے ہیں۔دوسرے درجے میں مختلف پیشوں سے منسلک احباب ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیاپر گروپ تشکیل دیئے ہوئے ہیں تاکہ باہمی آگہی اور رابطے کی بدولت معاملاتِ ملازمت سمجھنے میں آسانی رہے۔تیسرے درجے میں وہ لوگ آتے ہیں،جو محض تفریح طبع کے لئے رابطے استوار کرتے ہیں۔چوتھے درجے میں وہ لوگ ہیں جن کانصب العین کھاتہ داروں کو اپنے جال میں پھنسا کر رذیل مقاصد کی تکمیل کرناہے۔اگلے درجے میں وہ احباب ہیں جن کے پاس یا تو وقت بہت زیادہ ہے اور کرنے کو کوئی کام نہیں یاپھر شرارت پسند، اور متعصّب طبیعت کے مالک ہیں جو اپنے سیاسی،مذہبی اور سماجی عقائد کی اشاعت چاہتے ہیں۔کسی بھی پوسٹ پر اپنی رائے دیتے وقت ہمیں متو ّ قع ردّعمل کو ذہن میں لازمی رکھنا چاہئے۔متذکرہ آخری طبقہ کے لوگوں کی کسی پوسٹ پر رائے دینا،بسااوقات تکلیف دِہ ردّعمل کا موجب ٹھہرتا ہے۔

راقم کی نظر سے کئی ایسی پوسٹسں روز گزرتی ہیں جن میں صاحب ِ عزیمت لوگوں کی تذلیل،اُن پر کفر کے ”فتوے“اور غلیظ جملے پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اورجواباً، اصلاح کے لئے کوئی بھی دلیل یا خدا لگتی بات کرنے سے،چند تجربوں کے بعد،ڈر لگتا ہے، کیونکہ اختلافی رائے دینے پر کھاتہ داروں کی طرف سے انہی جملوں، کلمات اور فتووں کے ساتھ ساتھ اضافی گالیوں اور دھمکیوں کی موسلا دھاربارش برسنے لگتی ہے۔اسی طرح فرقہ واریت کا شکار لوگ اپنے تعصبات کی جگالی کرتے دِکھائی دیتے ہیں۔کل کی بات ہے میرے ایک جاننے والے کے بینک اکاؤنٹ سے 42لاکھ روپے مکھن میں سے بال کی طرح نکال لئے گئے۔یہ سوشل میڈیا کی  ”کرامات“کا کارنامہ ہے۔سوشل میڈیا نے جہاں طلباء سے کتابیں چھین لی ہیں اور والدین کی عزّت واحترام، خدمت و خاطر کی سوچ سے محروم کر دیا ہے۔وہاں والدین سے بچوں کی تربیّت کا حق بھی چھین لیا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ جذبات، احساسات،وفاداری اور استواری آہستہ آہستہ منزلِ مفقود کی طرف رواں دواں ہے۔

ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ سب سے پہلے ہم اپنی ضروریات اور اُن کی بارآوری کے لئے تعلقات کی سطح کا واضح تعین کرلیں۔ہمیں اپنی علمی، دفتری یا کاروباری ضرورت اور تفریح طبع کے لئے کس طرح کی اَیپس درکار ہیں۔اُس کے مطابق انہیں موبائل فون کی سکرین پر اتار لیں۔فیس بک، ٹویٹر یا رابطے کے دیگر اَیپس پرصرف اپنے ہم مزاج، ہم پیشہ اورہم مرتبہ لوگوں سے وابستگی اختیار کریں۔ دوستی کی درخواستوں کو قبول کرنے سے پہلے یہ تحقیق کر لیں کہ جس شخص کو ہم بطورِ دوست قبول کرنے لگے ہیں۔ اُس کے کھاتے پرکس طرح کے لوگ، کون کون سی تصاویر، مراسلت اور ویڈیوز موجود ہیں؟ہوسکتا ہے، کوئی دو نمبر کھاتہ کھول کر کسی خاص مقصد کے لئے آپ تک رسائی چاہتا ہو اور بعد میں ایسی دوستی یا تعلق، شرمندگی اور رسوائی کے حصول پر متنج ہو۔آج کوئی بھی ایپلی کیشن جب ہم ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں تو مالکان اس کے استعمال کی اجازت دینے سے پہلے اپنی شرائط مکمل طور پر منواتے ہیں،جن میں آپ کی ذاتی معلومات اور موبائل فون میں موجود ہر تصویر،ویڈیو اور دیگر مراسلت تک مکمل، بے دھڑک اور بے روک ٹوک رسائی کی اجازت چاہتے ہیں، جو ہمارے لئے کسی بھی وقت تشویش اور نقصان کا باعث بننے کا پورا سامان رکھتی ہے 

ہمیں اندریں حالات سوشل میڈیاکے جُملہ مُضمرات کو نہ صرف جاننے کی کوشش کرنی چاہئے، بلکہ اُس سے منسلک خُرافات اور مُضِِّلت کے شر سے بچنے کے لئے خود آگاہ بھی رہنا چاہئے۔موصول ہونے والی کسی بھی ویڈیو پریقین کر کے دوسروں کو ارسال کرنے سے اِجتناب کرنا چاہئے، کیونکہ ہو سکتا ہے ہم لا شعوری میں کسی کے گھناؤنے منشور کا حصّہ بن رہے ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -