کورونا کی تیسری لہر اور موت کے بڑھتے سائے

کورونا کی تیسری لہر اور موت کے بڑھتے سائے
کورونا کی تیسری لہر اور موت کے بڑھتے سائے

  

محمدارشد عباسی صاحب ہمارے انتہائی باخبر اور اچھے دوستوں میں شمار ہوتے ہیں آپ زیرک ایڈورٹائزر اور باریک بین میڈیا مینجمنٹ ایکسپرٹ ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی 27 اپریل کو ہونے والی ایک میٹنگ کے حوالے سے ایک اہم خبر شیئر کی جس کے مطابق کورونا پھیلنے کے حوالے سے 20 شہروں / اضلاع میں  دو ہفتوں کے لیے مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ لاک ڈاؤن 2/3 مئی سے نافذ العمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کی پہلے ہی سے توقع کی جا رہی تھی کہ حکومت سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے معاملات پر قابو رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ظاھراً یہ پالیسی درست ہے کیونکہ مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں انفرادی معاشی معاملات کے دگر گوں ہونے کے خدشات ہی نہیں،بلکہ معاملات بگڑ جائیں گے۔ لیکن یہ پالیسی کامیاب نہیں ہو سکی۔  

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے اب تک کورونا کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں ہے ہم اس وبا کو آفت ِ سماوی ہی نہیں سمجھ رہے ہیں جن شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن بارے فیصلہ کیا گیا ہے ان میں پاکستان کے زیادہ تر ترقی یافتہ شہر ہی شامل ہیں۔ لاہور، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، حیدر آباد، پشاور، مردان، نوشہرہ، دیرلوئر، چارسدہ، سوات، صوابی، مظفرآباد، پونچھ، باغ  اور سندھنوتی جیسے شہر / اضلاع شامل ہیں یہ علاقے پڑھے لکھے شہریوں پر مشتمل ہیں۔ لیکن یہاں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 

واشنگٹن یونیورسٹی کی انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ نے حال ہی میں کورونا وائرس کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپوٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق یکم اگست 2021ء تک پاکستان میں کورونا متاثرین کی تعداد 2 لاکھ40 ہزاراور اموات 28 ہزار 549 تک پہنچ جائیں گی ان میں سندھ میں 5639 پنجاب میں 12,460 خیبر پختونخوا میں 6978 بلوچستان میں 796 گلگت بلتستان میں 115 آزاد جمو ں و کشمیر میں 1088 اور اسلام آباد میں 1473 اموات وقوع پذیر ہونے کی توقع ہے۔ یہ پیش گوئی انتہائی خطرناک پیش آئند صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہے۔

زیر بحث رپورٹ کے مطابق ہندوستان اور ساؤتھ ایشیاء میں بالعموم وائرس کا پتہ چلنے کی شرح 5 فی صد سے کم ہے ہو سکتا ہے یہ شرح فی الاصل 3/4 فی صد ہو گویا جو شرح سامنے آرہی ہے حقیقت سے 20 فیصد کم ہے مریضوں کی اصل تعداد جاننے کے لئے معلوم شدید متاثرین کی تعداد کو 20 سے ضرب دے کر مریضوں کی حقیقی تعداد جانی جا سکتی ہے اس طرح ہندوستان میں حقیقی متاثرین، معلوم شدہ مریضوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ موجودہ حالات میں ہندوستان بڑی تیزی سے وبا کے ہاتھوں ہلاک ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی ہوتی نظر آ رہی ہے پہلی اور دوسری لہر کا ہم شدت سے شکار نہیں ہوئے لیکن ہم نے اس پر رب کریم کا شکر گزار ہونے کی بجائے ویسے ہی سرکش اور نافرمان قوم کا رویہ اختیارکئے رکھا۔ ہم نے نہ تو توبہ استغفار کا راستہ اختیار کیا اور نہ ہی عالم اسباب میں مہارت اور چابکدستی کا رویہ اختیار کیا نتیجہ ہمارے سامنے آرہا ہے،بلکہ آگیا ہے ہم مکمل لاک ڈاؤن کی سمت جارہے ہیں قدرت ہمیں جس انجام سے بچانا چاہتی تھی ہم اس طرف جا چکے ہیں لگتا ہے کہ کورونا کے حوالے سے ”محشر“ برپا ہوا ہی چاہتا ہے۔ہمارے پاس اب، اس سے بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ایسا کیوں ہوا ہے؟سب سے اہم بات کورونا کے حوالے سے رائے عامہ کی تشکیل میں ہم بحیثیت قوم ناکام ہوئے ہیں۔ اگر 79 فی صد لوگ احتیاطی تدابیر کا اہتمام نہیں کر رہے ہیں تو اس کی وجہ کورونا کو ہلاکت خیز نہ سمجھنا ہے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فائدہ صرف ہمیں ہی ہونا ہے ہماری زندگی کی حفاظت ہو گی ہلاکت کے امکانات کم ہوں گے،لیکن عامتہ الناس یہ بات سمجھنے یا ماننے کے لیے تیار نظر نہیں آرہے ہیں حکومتی کاوشیں اسی وجہ سے بار آور ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں سمارٹ لاک ڈاؤن حکومت کی سوچی سمجھی پالیسی ہے ہمارے عمومی قومی حالات کے عین مطابق بھی لگتی ہے کیونکہ ٹوٹل لاک ڈاؤن ہماری انفرادی معیشت کے لیے ہلاکت انگیز ثابت ہو سکتا ہے اسلئے اب تک سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعے ہی معاملات کو قابو میں رکھنے کی کاوشیں کی جا رہی تھیں لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ ہمیں اب ایک قدم فوری طور پر آگے بڑھانا ہو گا اب ہمیں بھوک کے ذریعے موت یا کورونا کے ذریعے موت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔ حکومت عوام کو کورونا سے مرنے سے بچانے کے لئے مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جانے کا فیصلہ کر چکی ہے عملاً ایسا ہی نظر آرہا ہے اور جلد یا بدیر لاک ڈاؤن کی طرف آنے میں ہی عافیت نظر آرہی ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -