کپتان کی مٹھی اور مقبولیت کی ریت!

کپتان کی مٹھی اور مقبولیت کی ریت!
کپتان کی مٹھی اور مقبولیت کی ریت!

  

کراچی میں قومی حلقہ249 کے ضمنی انتخاب میں کوئی جھرلو نتائج مرتب کرتے وقت چلا ہے یا نہیں، یہ طے ہونا باقی ہے، البتہ تحریک انصاف کو رگڑا لگ گیا ہے،اس میں کسی کو کوئی شک نہیں، جھگڑا اب اِس بات پر ہو رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کا امیدوار ہارتے ہارتے اچانک جیت کیسے گیا۔ تحریک انصاف اس سارے معاملے سے پرے ہے، کیونکہ وہ اس انتخاب میں اتنا پیچھے چلی گئی کہ اُس کا ذکر بھی کرنا ضروری نہیں رہا،جس طرح چار سو میٹر کی دوڑ میں کوئی کھلاڑی بہت پیچھے رہ جائے تواُس پر کسی کی نظر ہی نہیں جاتی،اُسی طرح تحریک انصاف بھی اس الیکشن میں بے توقیر ہو کر رہ گئی ہے۔اُس کا ذکر اِس لئے ضروری ہے کہ یہ نشست اُس نے عام انتخابات میں جیتی تھی اور جیتی بھی، ایک ایسے شخص کو ہرا کر تھی، جس کا نام شہباز شریف ہے۔فیصل واوڈا ایک بڑے فاتح بن کر اُبھرے تھے اور اس وجہ سے وزارت بھی انعام میں پائی تھی،مگر اس بار جو کچھ ہوا، اُسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف پھر2002ء کی پوزیشن میں پہنچ گئی ہے،جب اُس کا نمبر پانچواں یا چھٹا ہوتا تھا، آج اُس سے زیادہ  ووٹ ٹی ایل پی اور پی ایس پی کے امیدواروں نے لئے،گویا تحریک انصاف تین میں رہی اور نہ تیرہ میں،اب بھی اگر تحریک انصاف کے متعلقین اِدھر اُدھر کے عذر پیش کر کے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کی مرضی ہے،زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف اپنے عہد ِ زوال سے گزر رہی ہے۔ہر نئے دن کے ساتھ زوال کی حالت پہلے سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ مثلاً نوشہرہ اور ڈسکہ کے انتخابات میں تحریک انصاف دوسرے نمبر پر رہی،لیکن کراچی کے ضمنی الیکشن میں پانچویں نمبر پر چلی گئی، چاروں صوبوں میں اب تک جتنے ضمنی انتخابات ہوئے ہیں۔ایک کے سوا تحریک انصاف سب میں شکست سے دو چار ہوئی ہے، حالانکہ اُس کی مرکز اور دو صوبوں میں حکمرانی ہے،تیسرے صوبے میں بھی وہ مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔گلگت بلتستان میں بھی وہی حکمران ہے۔ وسائل ہیں، میڈیا کوریج ہے،یعنی سب کچھ ہونے کے باوجود عوام ہیں کہ اُسے اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

اقتدار میں آ کر سیاسی جماعتیں اپنی مقبولیت کو بڑھاتی ہیں، اپنی گرفت مضبوط کرتی ہیں،لیکن تحریک انصاف اس حوالے سے بالکل ناکام نظر آتی ہے۔اب یہ تاویلیں گھڑنے کا کیا فائدہ کہ ماہِ رمضان میں ضمنی انتخاب رکھ دیا گیا، لوگ روزے اور کورونا کی وجہ سے ووٹ ڈالنے نہیں نکلے، کیا ماہِ رمضان اور کورونا صرف تحریک انصاف کے ووٹرز کی سر دردی تھی،کیا باقی جماعتوں کے ووٹرز مریخ سے ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ صاف ظاہر ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹر امید کھو چکا ہے۔ اسے یقین ہو گیا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔کپتان نے 2018ء میں کسی درخت کو بھی ٹکٹ دیا تو وہ جیت گیا،کیونکہ اُس وقت ایک لہر موجود تھی،ایک امید تھی عوام کے دِلوں میں، وہ نئے پاکستان کے نعرے کی دلآویزی کا شکار ہو گئے تھے،مگر اب تو سارے خواب چکنا چور ہو گئے ہیں۔فیصل واوڈا نے منتخب ہونے کے بعد اس حلقے میں کیا کام کیا،وہ اپنی بڑی موٹر سائیکل پر کاؤ بوائے کی طرح گھومتے رہتے تھے، ایسے نان سیریس لوگوں کو اپنی کابینہ کا حصہ بنا کر کپتان نے جو غلطی کی،اُس کا نتیجہ اب سامنے آ رہا ہے۔یہ کراچی کا وہ حلقہ ہے، جس میں ہر رنگ و نسل کا آدمی موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں سے کبھی پیپلزپارٹی،کبھی مسلم لیگ (ن) اور کبھی ایم کیو ایم جیتی، اس حلقے کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ پینے کا پانی سونے کے بھاؤ ملتا ہے، کسی نے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ نہ دی۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے یہ نعرہ لگایا کہ پانی ہم دیں گے،اس نعرے میں اتنی کشش تھی کہ عوام نے تحریک انصاف کو یہ نشست دے دی،اُس کے بعد فیصل واوڈا نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ حلقے میں عوام کو پانی ملا یا نہیں،اُن کا سارا زور ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر اپوزیشن کے بخیئے اُدھیڑنے پر رہا۔ارے بھائی یہ کوئی سٹیج تھوڑی ہے کہ جہاں زبان کی کمائی سے مقبولیت حاصل کر لو۔ سیاست تو ایک بے رحم شے ہے،اس کے سب سے بڑے فریق عوام ہوتے ہیں۔عوام کو نظر انداز کرو گے تو اُٹھا کے باہر پھینکنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

یہی کراچی تھا جس نے تحریک انصاف کو قومی و صوبائی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشستیں دیں،اس کراچی کے لئے ابھی تک تحریک انصاف نے کیا کِیا ہے۔آج249 میں تحریک انصاف نشانِ عبرت بنی، کل کسی اور حلقے میں ضمنی انتخاب ہوا تو وہاں بھی عوام اُسے نشانِ عبرت بنانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔کراچی کا ووٹر تو ویسے بھی بہت باشعور ہے،اُس نے بہت زخم سہے ہیں،بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔اُس نے2018ء کے انتخابات میں سب لسانی و جماعتی حوالے پس پشت ڈال کر تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا،اس ووٹ کے بدلے میں اسے ملا کیا ہے۔وزیراعظم نے کراچی کے لئے بڑے بڑے پیکیج دیئے،مگر عملاً وہاں کوئی کام نہیں ہوا،پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے معاشی حوالے سے عوام کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔اشیائے خوردو نوش سے لے کر ادویات تک سب عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔اس حوالے سے تحریک انصاف کی حکومت صرف کراچی میں ناکام نہیں ہوئی،بلکہ پورے ملک میں یہی تاثر موجود ہے کہ حکومت نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ پورے عرصے میں اب تک سُکھ کا ایک لمحہ بھی حکومت عوام کو نہیں دے سکی، آٹے کی قطاروں سے نکلتے ہیں تو چینی کی قطاریں اُن کا مقدر  بن جاتی ہیں۔پٹرول چار روپے لیٹر سستا  ہوتا ہے تو بجلی چار روپے یونٹ مہنگی ہو جاتی ہے۔بری گورننس کا یہ حال ہے کہ ایک ہی شہر میں ایک چیز کے مختلف نرخ ہیں،جس کا جہاں داؤ لگ رہا ہے، لگائے جا رہا ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

کپتان کو مان لینا چاہئے کہ اب اُن کا کسی کو این آر او نہیں دوں گا، والا بیانیہ غیر موثر ہو چکا ہے۔ کرپشن کے خلاف ڈٹ جانے کی باتیں بھی عوام  کو متاثر نہیں کر پا رہیں۔وہ تو انتخابی مہم میں خود کہا کرتے تھے کہ جب کرپشن بڑھتی ہے تو مہنگائی بڑھ جاتی ہے اگر بقول اُن کے سخت اقدامات کی وجہ سے کرپشن کم ہوئی ہے تو مہنگائی کیوں کم نہیں ہو رہی۔آٹا، چینی، پٹرول اور ادویات کے حوالے سے کتنے بڑے بڑے سکینڈلز اسی حکومت کے دور میں سامنے آئے،اربوں روپے عوام کے لوٹے گئے،کسی ایک کا بھی کوئی نتیجہ نکلا،سب انکوائری کمیشنوں، جوائنٹ انوسٹی گیشن کے گورکھ دھندوں میں گم ہو کر رہ گیا۔ اب کپتان کے پاس ایسی کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ جسے گھما کر وہ باقی ماندہ مدت میں تحریک انصاف کا گراف اوپر لے جائیں گے۔ہر نیا دن عوام کے لئے نئی مشکلات لاتا ہے۔رفتہ رفتہ اُن کی موجودہ حکومت سے امید ختم ہوتی جا رہی ہے۔یہی صورت حال رہی تو آئندہ عام انتخابات میں ڈر ہے تحریک انصاف ترقی ئ معکوس کا شکار ہو کر2002ء والی پوزیشن پر آ جائے،یعنی کپتان کی بائیس سالہ محنت رائیگاں چلی جائے گی،مگر فی الوقت اقتدار کے مزے لوٹنے والے کسی فرد کو اس بارے میں سوچنے کی فرصت نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -