بینک آف پنجاب کے منافع میں 22  فیصد اضافہ  

  بینک آف پنجاب کے منافع میں 22  فیصد اضافہ  

  

لاہور(پ ر)بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 30 اپریل 2021 کو منعقد ہوا جس میں سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے غیر آڈٹ شدہ مالیاتی حسابات کی منظوری دی گئی۔بورڈ نے 2021 کی پہلی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا جائزہ لیا اور بینک کی مجموئی کار کردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بورڈ نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ  بینک کے تمام مالیاتی اشارے مثبت ہیں اور بینک مقرار کردہ اہداف کو حاصل کر لے گا۔سال 2021کی پہلی سہ ماہی کے دوران بینک کا نیٹ انٹرسٹ مارجن 16% اضافہ کی ساتھ 6.87 ارب  روپے ہو گیا جو کے سال 2020 کی پہلی سہ ماہی کے دوران 5.90 ارب روپے تھا۔ اسی طرح بینک کی نان مارکاپ انٹرسٹ آمدن 27% اضافہ کے ساتھ 2.53 ارب روپے کی سطح پر رہی جو پچھلے سال کی پہلی سہ ماہیکے دوران2.00 ارب روپے کی سطح پر تھے۔اس طرح سال 2021 کی پہلی سہ ماہی میں بینک نے 1.83  ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع کمایا ہے جو کی پچھلے سال اسی مد ت کے دوران 1.50 ارب روپے سے 22% زیادہ ہے۔سال 2021 کی پہلی سہ ماہی کے دوران بینک کی فی حصص آمدن 0.69 روپے رہی جو کے گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران 0.57 روپے تھے۔31 مارچ 2021کو بینک کے کل اثاثہ جات 1059.8ارب روپے تک پہنچ گئے جو کہ 31 دسمبر 2020کو 1095.4 ارب روپے تھے۔بینک کے ڈپازٹ 826.9 ارب روپے رہے جبکہ سرمایہ کاری اور قرضہ جات بالترتیب504.00 ارب روپے اور 467.4 ارب روپے رہے۔بینک کی اکوٹی 48.5 ارب روپے رہی جبکہ کیپٹل ایڈ یکوسی  ریشو 14.30% ہو گئی جبکہ مطلوبہ شرح 11.5% ہے۔پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی نے بینک کو طویل مدت ریٹنگAA  دی ہے جبکے قلیل مدت کے لئےA1+ کی ریٹنگ بلند ترین سطح پر ہے۔بینک کا برانچ نیٹ ورک 639 برانچوں پر مشتمل ہے جس میں 105 تقویٰ اسلامی برانچیں اور 18 سب برانچیں بھی شامل ہیں۔علاوہ ازیں بینک کا 623اے ٹی ایم پر مشتمل نیٹ ورک صارفین کو 24/7 کی بینکنگ سہولیات  فراہم کر رہا ہے۔

مزید :

کامرس -