یکم مئی ……مزدوروں کا عالمی دن!!

یکم مئی ……مزدوروں کا عالمی دن!!

  

      سراج الحق 

       امیر جماعت اسلامی پاکستان 

مزدوروں کے عالمی دن یکم مئی کے موقع پرہر سال سرکاری اور پرائیویٹ سطح پر ملک بھر میں تعطیل ہوتی ہے اور تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ان تقریبات،سیمینارز اور جلسے جلوسوں میں مزدوروں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی جاتی ہے اور اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مزدوروں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی راہ میں جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں دور کیا جائے گا،اسی طرح کے نعروں، وعدوں اور دعوؤں میں آٹھ گھنٹے کا دن گزر جاتا ہے اور جونہی سورج غروب ہوتا ہے۔رات کی سیاہی چھاتی ہے تو مزدور کا مقدرپھرانہی تاریکیوں میں گم ہوجاتا ہے۔ محض یکم مئی کو یوم مزدوراں منا لینے سے مزدوروں کے مسائل حل نہیں ہوتے۔مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق تعلیم، صحت، چھت اور روز گار کی ضمانت اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ لیبر قوانین بھی صرف رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد کو سامنے رکھ کر بنائے جاتے ہیں حالانکہ کھیتوں میں دن بھر محنت کرنے والے،اینٹوں کے بھٹوں پرخون پسینہ ایک کرنے والے،ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں کام کرنے والے کروڑوں مزدور ایسے ہیں جن کو کبھی کسی ادارے نے رجسٹرڈ نہیں کیا۔ یہاں مزدور،محنت کش اور کسان کی محنت کا پھل سرمایہ دار اور جاگیردار کھاتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ مزوروں اور کسانوں کے حقوق غصب کرنے والا ٹولہ ہی ان کی وکالت کی ڈرامہ بازی کرکے انہیں بار بار دھوکہ دیتا ہے۔ ہمارا اصل ہدف یہ ہے کہ محنت کشوں کی محنت کا پھل جس پر ان کے بچوں اور گھر والوں کا حق ہے کسی جاگیر دار اور وڈیر ے کو نہ کھانے دیا جائے۔ 

موجودہ حکومت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود معیشت میں بہتری آنے کی بجائے مزیدابتری آئی ہے،بجلی گیس اور تیل کی قیمتوں میں ہر ماہ اضافہ کردیا جاتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران مختلف مدوں میں بجلی کی قیمت میں پانچ روپے تک اضافہ کیا جا چکا ہے۔ بجلی کا ایٹم بم گرانے کے بعد سوئی گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ کمپنیوں نے گیس کی قیمت میں 220فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پیٹرول 109تک فی لیٹر فروخت ہونا حکومت کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ لوگ اب نعرے لگاتے ہیں کہ پی ٹی آئی،مہنگائی لائی۔ اس وقت ملک میں بجلی اور گیس کا سنگین بحران ہے جس کی وجہ سے کارخانے اور صنعتی یونٹ شدید دباؤ کا شکار ہیں،کارخانوں اور فیکٹریوں کو تالے لگ رہے ہیں۔ ہزاروں مزدور بے روزگار ہورہے ہیں جس کے اثرات ان سے وابستہ خاندانوں اور زیر کفالت لاکھوں افراد پر پڑ رہے ہیں۔ کرونا وبا کے دوران 15لاکھ سے زیادہ افراد نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ جب کہ چھ ماہ میں 22لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کا بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ کرونا کی عالمی وبا نے سب سے زیادہ مزدوروں کی پریشانیوں میں اضافہ کیا،دیہاڑی دار مزدورجو دن بھر کی محنت کے بعد دو وقت کا کھانا لے جاتا تھا اب وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا اپنے بچوں کو فاقوں سے سے بلکتے دیکھ رہا ہے۔ حکومت نے اپنے انتخابی جلسوں اور منشور میں ایک کروڑ نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک کسی ایک نوجوان کو نوکری نہیں ملی، ہزاروں نوجوان حالات سے تنگ آکر ملک سے باہر بھاگ رہے ہیں اور قانونی و غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑ رہے ہیں،جس کا اکثر بڑا بھیانک انجام ہوتا ہے،حکومت کی ساری توجہ نئے وعدے اور دعوے کرنے پر مرکوز ہے،حکومت نے کہا تھا کہ ہم ساڑھے تین سو ڈیم خیبر پختونخواہ میں بنائیں گے مگر ابھی تک ایک ڈیم بھی نہیں بنا،عوام کی بنیادی ضروریات تعلیم،صحت،روز گار،چھت، امن عامہ کا قیام اور جان و مال کا تحفظ ہے۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام شعبوں میں حکومت بری طرح ناکام نظر آتی ہے اور ہر شعبہ زبوں حالی کی تصویر بن چکا ہے۔بے روز گاری مسلسل بڑھ رہی ہے۔تعلیم سرکاری شعبے سے نکل کر پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے اور یہ اتنی مہنگی ہے کہ ایک متوسط طبقہ کیلئے اس کا حصول ناممکن ہوتا جارہا ہے۔پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسوں اور مہنگی کتابوں اور کاپیوں کی وجہ سے ہر فرد پریشان ہے۔ایک مزدوراور دیہاڑی دارشخص تو ان سکولوں میں بچوں کو پڑھانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

حکومت نے مزدور کی کم ازکم ماہانہ اجرت میں محض دوہزارروپے کا اضافہ کیا ہے جبکہ بدترین مہنگائی اور کرونا کی وجہ سے کاروبار کی بندش سے مزدور اور محنت کش طبقہ جن بے پناہ مسائل کا شکار ہے ان سے نجات کیلئے کوئی ٹھوس حل تلاش نہیں کیا گیا۔حکومت کو چاہئے تھا کہ مزدور کی کم ازکم ماہانہ اجرت میں دس ہزار کا اضافہ کرتی،EOBIکے پنشنرز کو بھی محض آٹھ ہزار ماہانہ دیا جارہا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیر ے کے مترادف ہے ضرورت ہے کہ ان ناتواں بزرگوں جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک و قوم کی خدمت کی ہے انہیں ریلیف دینے اور ان کی دعائیں لینے کیلئے انہیں کم از کم 15000ماہانہ پنشن دی جاتی جس سے وہ اپنا گزارہ کرنے کے قابل ہوجاتے۔

اب میں گوادر کے ہزاروں ماہی گیروں کو درپیش مشکلات کی طرف آتا ہوں۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری بلا شبہ گیم چینجر اور خطے کی معاشی ترقی کیلئے ایک انقلابی منصوبہ ہے جس سے علاقے کی تقدیر بدل جائے گی،لیکن کیا تقدیر ہمیشہ سرداروں،جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کی ہی بدلتی رہے گی یا اس کا کوئی فائدہ غریب مزدور کو بھی پہنچے گا۔ضرورت تو اس بات کی ہے کہ کھانا سب سے پہلے ان لوگوں کو ملے جو بھوک سے نڈھال ہیں لیکن یہاں سب سے پہلے کھانے پر وہ ٹوٹ پڑتے ہیں جن کی پہلے ہی توندیں نکلی ہوئی ہیں۔

سمندری طوفانوں میں سمندر کے اند رجاں بحق ہونے والے ماہی گیروں کے بچوں کو مالی امداد فراہم کی جائے اور ان کے بچوں کی سرپرستی کی جائے۔ماہی گیروں  کے روزگار کو مزید بہتر بنانے، ماہی گیری کے آلات خریدنے کیلئے بلا سود قرضے فراہم کئے جائیں۔ وہ ماہی گیر جو غلطی سے کسی ملک میں سرحد پار چلے جاتے ہیں ان کے خاندان کی مالی امداد کی جائے اور ان کی رہائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ بینڈ سیزن (جون، جولائی) میں ماہی گیروں کیلئے راشن وغیرہ کی مد میں سبسڈی کا اعلان کیا جائے۔ ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کیلئے فشریز ویلفیئر بورڈ قائم کیا جائے۔ ان ماہی گیروں کو گزارہ الاوئنس فراہم کریں جو ضعیف العمری یاکسی بیماری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔کشتی سازی کو صنعت کا درجہ دیا جائے۔ کشتی سازوں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں اورا نکی سرپرستی کی جائے۔ ماہی گیروں کے بچوں کو مختلف محکموں کی آسامیوں کیلئے روزگار دینے کیلئے ایک کوٹہ مقرر کیا جائے۔ مچھلی کے انڈوں کے موسم میں ماہی گیری پر مخصوص علاقوں کی بنیاد پر پابندی لگائی جائے۔ 

وزیر اعظم نے اپنے دورہ جنوبی پنجاب کے موقع پر کسانوں کیلئے کسان کارڈ کا اعلان کیا مگر کسانوں کو درپیش اصل مسائل اور مشکلات کے حل کیلئے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں لائے۔کسان اور کاشتکار پانی،کھاد اور زرعی ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے نئی فصلوں کی  کاشت کیلئے سخت پریشان ہیں،خاص طور پر جنوبی پنجاب کا کسان پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے۔وڈیروں اور جاگیر داروں نے کسان کو یرغمال بنا رکھا ہے۔کسان اپنے معصوم بچوں اور خواتین کے ساتھ دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے،بنجر زمین کو قابل کاشت بنانے کیلئے وہ اپنا خون پسینہ ایک کردیتا ہے مگر حکومت کی طرف سے وہی زمینیں جاگیرداروں کے حوالے کردی جاتی ہیں اور کسان بیچارہ ساری زندگی غلامی اور بے بسی میں گزار دیتا ہے،وزیر اعظم کو چاہئے تھا کہ وہ بے زمین ہاریوں اور کاشتکاروں کو وہ زمینیں الاٹ کرنے کا اعلان کرتے جنہیں آباد کرنے کیلئے ان کی کئی نسلیں زمین کی خوراک بن گئی ہیں مگر وزیر اعظم اس بار بھی اپنی عادت کے مطابق وعدوں اور دعوؤں کے علاوہ کچھ نہیں کرسکے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر مزدوروں کو کارخانوں اور کسانوں کو زمینوں کی پیداوار میں حصہ دار بنائے گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -