مزدور اور طبقاتی جنگ……

  مزدور اور طبقاتی جنگ……

  

دنیا بھر میں مزدور طبقہ معاشی ترقی میں اہم کردار کرتا ہے اس کی وجہ سے اشیاے خوردو نوش پوری دنیا کو میسر آتی ہیں لیکن ان کا معیاری زندگی اور معاشی حالات میں کئی عشروں سے کوئی واضع تبدیلی نظر نہیں آئی ھے ایک طبقاتی جنگ شروع ھے جس میں تعلیمی جنگ 'معاشی جنگ 'سیاسی جنگ اور معاشرتی جنگ شامل ھے مزدور عرصہ سے کام میں اور مزدوری کرنے میں مصروف ھے ان کو قانونی حقوق بھی حاصل ھیں اور معاشی حقوق کا جہاں قنل عام ھو وھاں وہ لیبر کورٹ بھی جا سکتا ھے دنیا بھر کے مزدورں کا عالمی دن منانے کا مقصد ان کے حقوق کا تحفظ اور روز گار میں بہتری لانا شامل ھے پاکستان میں ورکرز ویلفئر فنڈز مزدورں کے بچوں کو فری کتابیں بلا معاوضہ تعلیم کی سہولیات کے علاوہ جہیز فنڈز اور مزدوروں کی بجیوں کے لیے شادی میں بھی امداد کرتا ھے اور مزدوروں کے لیے پاکستان میں تقریبا کافی اضلاع میں ان کی رھائش کے لیے کالونیاں تعمیر کی گئی ھیں ان کے بچوں کو حکومت کی طرف سے وظیفہ اور دیگر سہولیات میسر کی جاتی ھیں 

 انسانی تاریخ میں محنت و عظمت اور جدوجہد سے بھرپور استعارے کا دن یکم مئی ہے۔ 1884ء  مین شکاگو میں سرمایہ دار طبقے کے خلاف اٹھنے والی آواز، اپنا پسیہ بہانے والی طاقت کو خون میں نہلا دیا گیا، مگر ان جاں نثاروں کی قربانیوں نے محنت کشوں کی توانائیوں کو بھرپور کر دیا۔ مزدوروں کا عالمی دن کار خانوں، کھتیوں کھلیانوں، کانوں اور دیگر کار گاہوں میں سرمائے کی بھٹی میں جلنے والے لاتعداد محنت کشوں کا دن ہے اور یہ محنت کش انسانی ترقی اور تمدن کی تاریخی بنیاد ہیں۔

 ملکی لیبر قوانین پر نظر ثانی کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی لیبر قوانین کے معیار کے مطابق لائے جا سکیں۔انڈسٹریل ریلشن ایکٹ 2012 اور صوبائی مزدوروں کے قوانین بین الاقوامی، مزدور تنظیم (ا?ئی ایل او) جس کی پاکستان نے توثیق کی ہوئی ہے بشمول کنونشن 87 برائے انجمن سازی اور کنونشن 98 برائے حقوق تنظیم سازی و اجتماعی سودا کاری، کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

 پاکستان میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے باعث ملک کی متعدد صنعتیں اور کارخانے بند ہیں اور یہاں کام کرنے والے افراد کو متعدد معاشی اندیشوں اور خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود چھوٹی بڑی صنعتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو یا تو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے یا غیر معینہ مدت کے لیے بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنے کا کہا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کئی کارخانے، ملیں، اور فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں یا بند ہونے کے عمل میں ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والوں کو نکالے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

 پاکستان کے بہت سے لوگ دنیا کے دوسرے ممالک میں مزدوری کرکے روزگار سے وابستہ ھیں اور زر مبادلہ کا ذریعہ بھی ھیں حکو مت ان کے ذریعہ اپنی خارخہ پالیسیوں پر نظر ثانی بھی کرتی ھے اوورسیز پاکستانیوں کے لیے حکومت نے وزارت بھی قائم کی ہوئی ہے پاکستانی مزدور دنیا بھر میں کام کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ طبقاتی تقسیم کو کس طرح ختم کرنا ہے اس کا ایک طریقہ ھے اپنے فرائض اور حقوق کا ہر شخص خیال رکھے مغربی فلسفہ دانوں نے تو اپنے فلسفہ میں مزدور کو منافع کا حقدار ٹہرایا ہے مزدور کی عظمت کو تسلیم کرنا ہی قوموں کی ترقی کا سبب ہی مزدور ھماری قوت و طاقت ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -