طالبہ ہلاکت کیس، مرکزی ملزمان کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا

طالبہ ہلاکت کیس، مرکزی ملزمان کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا

  

لاہور(نامہ نگار) نجی یونیورسٹی کی طالبہ مریم کی ہلاکت کے کیس میں مرکزی ملزم اسامہ منیر اور اویس سے طالبہ مقتولہ مریم کا ڈی این اے میچ نہیں ہوسکا ذرائع کے مطابق ملزمان کے ڈی این اے کی  رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھی ارسال کردی گئی  تفصیلات کے مطابق نجی یونیورسٹی کی طالبہ مریم کی نعش نجی ہسپتال میں اسقاط حمل کے بعد چھوڑ کرکے فرار ہونے والے دونوں ملزم ڈی این اے رپورٹ میں بے قصور قرار پائے گئے ہیں ڈی این اے رپورٹ کے مطابق اسامہ منیر اور اویس کا مقتولہ سے ڈی این اے میچ نہیں ہو فرانزک سائنس ایجنسی نے ڈی این اے رپورٹ تیار کرکے سیل کردی  ذرائع کے مطابق پولیس نے اصل ملزم تک پہنچنے کیلئے کوششیں جاری ہیں اسامہ اور اویس نامی ملزم کے فون کالز ڈیٹا سے پولیس کو اصل شواہدنہیں ملے سکے،ملزمان پرالزام ہے کہ انہوں نے مریم کے اسقاط حمل کے دوران مدد کی تاہم نجی ہسپتال میں اسامہ نے مقتولہ کا خود کو شوہر ظاہر کیا جس کی فرانزک رپورٹ آ چکی موبائل ڈیٹا کے مطابق ملزمان اسقاط حمل کے دوران نجی کلینک میں مقتولہ کے پاس موجود رہے پولیس نے ایک بار پھر سے کیس کا دوبارہ سے جائز لینا شروع کردیا ۔

ملزمان کے خلاف تھانہ نواب ٹاؤن پولیس نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔ 

مزید :

علاقائی -