جسٹس منظور احمد ملک کا ذہنی مریض قیدیوں سے متعلق فیصلہ ہماری رہنمائی کرتا رہے گا: چیف جسٹس

جسٹس منظور احمد ملک کا ذہنی مریض قیدیوں سے متعلق فیصلہ ہماری رہنمائی کرتا ...

  

  اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس گلزاراحمد نے جسٹس منظور ملک کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس منظور احمد ملک کے بہترین اور تاریخی فیصلوں میں ایک فیصلہ ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کا ہے،یہ فیصلہ عدلیہ کی تاریخ میں ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں جسٹس منظور ملک کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔چیف جسٹس گلزار احمد نے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جسٹس منظور احمد ملک کو انکی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں،عدلیہ کیلئے انکی خدمات سے وکلا اور ججز ہمیشہ مستفید ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس منظور احمد ملک کے بہترین اور تاریخی فیصلوں میں ایک فیصلہ ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کا ہے،یہ فیصلہ عدلیہ کی تاریخ میں ہماری رہنمائی کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ یہ وہ موضوع ہے جس پر پہلے کوئی فیصلہ موجود نہیں،جسٹس منظور احمد ملک کے فیصلے کی اقدام متحدہ کے ماہرین نے بھی کی ہے،اقوام متحدہ نے جسٹس منظور احمد ملک کا یہ فیصلہ دنیا کو بطور نظیر استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس منظور احمد ملک کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،جسٹس منظور احمد ملک کی کامیاب عملی زندگی کے اختتام پر انکو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل خوش دل خان نے کہاکہ جسٹس منظور ملک نے بے سہارا لوگوں کو قانونی معاونت فراہم کرنے کی تنظیم تشکیل دی، جسٹس منظور ملک نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ تیس ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس منظور ملک نے سپریم کورٹ میں بیس ہزار مقدمات سنے اور نمٹائے، سپریم کورٹ کی مقدس ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارے بنیادی حقوق اور آزادی کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہاکہ عدلیہ کی آزادی میں بار کا کردار صف اول کا رہا ہے، عدلیہ کی آزادی پر انتظامیہ یا کسی ادارے کا حملہ ہو بار ہمیشہ ایک چٹان کی طرح ان کے سامنے کھڑی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے نے عدلیہ کی آزادی کو مزید مضبوط کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے فیصلے نے ظلم و ستم کی طاقتوں کو شکست دی۔انہوں نے کہاکہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے عدلیہ کی آزادی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے تمام ادارے آئین کے مطابق اپنے دائرے میں رہیں، عدالت پر اکثر انتظامیہ نے اپنے مقاصد کیلئے دباؤ ڈالا۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جسٹس منظور ملک نے وکالت کے دور سے ہی فلاحی کاموں کا آغاز کیا، جسٹس منظور ملک نے ضرورت مندوں کیلئے فری لیگل ایڈ سوسائٹی قائم کی۔ سیکرٹری سپریم کورٹ بار نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جسٹس منظور احمد ملک کی زندگی ابتدا سے لیکر آج تک نہایت شاندار رہی۔ 

چیف 

مزید :

صفحہ اول -