حکومت اپنی رٹ بحال کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، مشتاق احمد 

حکومت اپنی رٹ بحال کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، مشتاق احمد 

  

نوشہرہ (بیورورپورٹ) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ سینٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ یہ کیسی ریاست ہے کیسے ریاستی ادارے ہیں جب ریاستی اداروں کو علم ہے کہ کسی علاقے میں خونریز تصادم کا خطرہ ہے اورکسی  ظالم کی ظلم سے مظلوم محفوظ نہیں اور پھر بھی پولیس خاموش بیٹھی ہو تو اس سے زیادہ تشویشناک صورتحال اور کیا ہو سکتی ہے حکومت اپنی رٹ بحالی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے ایسے حکمرانوں کو حکمرانی کا حق ہی نہیں حاصل اب حکمرانوں کو مستعفی ہونا چاہیے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ کے علاقہ بانڈہ ملا خان میں 5افراد کی بیدردی سے قتل ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جماعت اسلامی ضلع نوشہرہ کے ضلعی امیر رافعت اللہ خان، امیر نوشہرہ کینٹ سرکل افتخار احمد خان، سابق ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا سمیع الرحمان یوسفی اورحزب مجاہدین کے مولانا گوہر الرحمان بھی موجود تھے سینٹر مشتاق احمد خان نے میڈیا سے بات چیت کے دوران مزید کہا کہ جب ملزمان نے ان مقتولین کے رشتہ دارکو قتل کیا تھا اور ان مقتولین نے ایک اخباری پریس کانفرنس میں پولیس سے تحفظ فراہمی کا مطالبہ کیا تھا ا گر پولیس اس وقت ان مقتولین کو تحفظ فراہم کرتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچ جاتی انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پولیس،سول انتظامیہ اور عوامی اشتراک  سے جرگہ نظام کو تشکیل دے کر ہر یونین کونسل سطح پر ان تمام تنازعات کو حل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جو بعدازاں بڑی بڑی دشمنوں کا سبب بن جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں حکومت اور حکمران دونوں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے نہ تو ملزمان کو گرفتار کرتی ہے اور نہ مظلوموں کو انصاف فراہم کرتی ہے اس لئے اس ملک کا سارا نظام بربادی کی طرف جارہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اتنی قتل عام تو کسی دو ممالک کی جنگوں میں بھی نہیں ہوتیں جتنا قتل عام ہمارے اس معاشرے میں ریاستی اداروں کی غفلت، لاپرواہی اور ناقص پالیسوں کی وجہ سے ہو گئیں ہیں اب ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ ریاست تو والدین جیسی ہو تی ہے اور کوئی بھی والدین اپنے بچوں کی برائی نہیں چاہتی تو پھر ریاست پاکستان کے حکمران کیوں ہو ش کے ناخن نہیں لیتے اور اس قوم کو اتفاق و اتحاد کی تلقین کیوں نہیں کرتے انہوں نے کہا کہ اس ملک کے حکمرانوں نے اس ملک سے سزا و جزا کے عمل کو مشکوک بنا دیا ہے اس غریبوں کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -