کرونا کارونا: فیکٹریاں، لومز، بھٹے بند، ہزاروں مزدور بے روز گار: گھروں میں فاقے 

کرونا کارونا: فیکٹریاں، لومز، بھٹے بند، ہزاروں مزدور بے روز گار: گھروں میں ...

  

 ملتان (سٹی رپو رٹر)حکومت پنجاب کی جانب سے جبری مشقت(بقیہ نمبر51صفحہ6پر)

 کے خاتمہ اور انیٹوں کے بھٹہ،ورکشاپ، پٹرول پمپس، ہوٹلوں سمیت دیگر مقامات پر ہونے والی چائلڈ لیبر کے خاتمے کے دعوی دھرے کے دھرے رہ گئے اینٹوں کے بھٹو ں، فیکٹریوں سمیت دیگر مقامات پر مزدووں کا استحصال جاری ہے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو حکومت کی جانب سے مقرر کر دہ نرخ 1250 روپے(ایک ہزار اینٹ کی بنوائی)کے بجائے 850 روپے دیئے جا رہے ہیں،شہر کے مختلف مقامات ایم ڈی اے چوک، بوہڑ گیٹ، چونگی نمبر6، ممتاز آباد، چوک کمہاراں والا، معصوم شاہ روڑ، دہاڑی دار مزدور، کام کی تلاش میں سارا سارا دن بیٹھنے پر مجبور ہیں ٹھیکہ داری سسٹم نے مزدوروں کے ساتھ ہونے والے ظلم نے مزید اضافہ کر دیا ہے کرونا وائرس کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے فیکٹریاں، لومز، بھٹے بند ہونے کی وجہ سے مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں لیکن حکومتی اداروں کی جانب سے تاحال ان کی مالی امداد یا بہتری کے لئے کسی قسم کے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جبکہ دوسری طرف  مختلف اداروں میں نجکاری کے نام پر مزدوروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین، کھیتوں میں کام کرنے والے دیہی مزدور اور غیر صنعتی لیبر کے قوانین آج تک نہیں بن سکے،بھٹو دور میں مزدوروں کیلئے جو قوانین بنے ان پر عمل درآمد انہیں ہواجسکی وجہ سے مزدور استحصال کا شکا رہوا ہے  مہنگائی، بد امنی اور بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ سے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہے گذشتہ سال 15مارچ سے پاکستان میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے باعث انڈسٹری، پاور لومز، مارکیٹیں، بھٹہ، تعمیراتی کام سمیت دیگر کاروباری سر گرمیاں بند ہونے کے باعث دہاڑی دار مزدور بے روزگار ہو گئے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ کچھ اداروں کو مختلف شرائط کے ساتھ کھول دیا گیا تھالیکن کرونا کی تیسری خوف ناک لہر کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ دوبارہ سے شروع ہو گیاہے جس کی وجہ سے دہاڑی دار مزدوروں دوبارہ سے بے روزگارہو رہے ہیں لیکن حکومتی اداروں کی جانب سے تاحال بھی ان کے لئے کسی قسم کے کوئی اقداما ت نہ کئے گئے ہیں گزشتہ ادوار میں حکومت پنجاب کی جانب سے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں اور ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے صوبہ بھر میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے اس سلسلے میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپس، ورکشاپوں اور ہوٹلو ں پر کام کرنے والے بچوں کو بھی آئندہ 4 ماہ میں سکولوں میں داخل کرایا جائے گا‘پنجاب کے ہر بچے کو سکول میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیابھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو ہر ماہ ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ جبکہ ورکشاپ اور ہوٹلوں پر کان کرنے والے بچوں کو دو ہزار روپے وظیفہ دیا جانا تھااسی طرح بچوں کے والدین کو 2 ہزار روپے سالانہوظیفہ بھی مقرر کیا گیا تھا‘ لیکن تین سال گذرنے کے باجود کسی ہوٹل، ورکشاپ اور پٹرول پمپ پرکام کرنے والے بچے کو سکول میں داخل کیا گیا نہ انہیں ماہانہ وظیفہ جاری کیا گیا ہے جبکہ ااسی طرح اینٹو ں کے بھٹوں پر کام جبری مشقت کے قانون پر عمل در آمد ہو سکا ہے جس کی وجہ مزدور شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

یوم مئی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -