وزیراعظم کا غلط فیصلوں کا اعتراف، پارٹی ٹکٹ دیتے غلطیاں ہوئیں، آج سوچتا ہوں فلاں کو وزیر کیوں بنایا، پیسہ باہر لے جانیوالے غدار، طاقتور کو قانون کے تابع لائینگے: عمران خان 

وزیراعظم کا غلط فیصلوں کا اعتراف، پارٹی ٹکٹ دیتے غلطیاں ہوئیں، آج سوچتا ہوں ...

  

گلگت،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ سے بڑے غلط فیصلے بھی ہوجاتے ہیں،اپنے غلط فیصلوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں پارٹی ٹکٹ دیتے ہوئے بڑی غلطیاں ہوئیں، آج سوچتا ہوں فلاں کو وفاقی وزیر کیوں بنایا، ہمارے سابق حکمران چھٹیوں میں لندن جاتے ہیں، ان کے بچے اور جائیدادیں باہر ہیں۔ گلگت بلتستان کیلئے پیکیج کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ طاقتور کو قانون کے تابع لائیں گے، نیب نے ہمارے دور میں بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالا، ملک سے پیسہ باہر لے جانیوالے سب سے بڑے غدار ہیں، اقتدار میں آکر یہ لوگ پیسہ ملک سے باہر بھیجتے ہیں، پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لے جانیوالے دہرا نقصان پہنچاتے ہیں، طاقتور لوگ جب چوری کرتے ہیں تو ملک کو تباہ کر دیتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ جس ملک میں انصاف نہ ہو وہ کبھی عظیم نہیں بن سکتا، چھوٹا چور محدود طبقے کو اور طاقتور پورے ملک کو نقصان پہنچاتا ہے، انصاف کے بغیر کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ان کا کہنا تھا گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے پیکیج لے کر آئے ہیں، بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے سبب ہمارے پاس پیسہ کم ہوتا ہے، کم پیسے کے باوجود ایسا پیکیج بڑا کارنامہ ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کرنے کا تاثر تھا، اسلام آباد سے گلگت بلتستان کے معاملات نہیں چلائے جاسکتے، گلگت بلتستان کی اصل صلاحیت سیاحت ہے، سیاحت کے فروغ کیلئے منصوبے کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے، گلگت بلتستان میں ایئر پورٹ کی تعمیر کے منصوبے پر غور کریں گے، سکردو میں بین الاقوامی پروازیں لائی جاسکیں گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 5 سال میں ترقیاتی کاموں پر 370 ارب خرچ کیے جائیں گے،  وزیر اعظم عمران خان کو دورہ گلگت میں ڈائریکٹر جنرل اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او)کی جانب سے بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے ایس سی او کے زیر انتظام منصوبوں کا افتتاح کیا جن میں سی پیک خنجر اب تا راولپنڈی آپٹک فائبر کیبل کا پہلا مرحلہ، گلگت بلتستان کے 39 مقامات میں گھروں تک آپٹک فائبر تار کی رسائی، ایس سی او  کے اشتراک سے قراقرم یونیورسٹی میں انکیوبیشن سنٹر کا قیام، معروف کوہ پیما مرحوم علی سدپارہ کی یاد میں K-2 بیس کیمپ پر جدید ٹرانسیور اسٹیشن کا قیام اور گلگت بلتستان کے  دور دراز علاقوں میں رابطہ کے لیے VSAT حب کا قیام شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے آپٹک فائبر کیبل کے دوسرے مرحلے اور ہنزہ میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کے قیام  کا سنگ بنیاد بھی رکھا -وزیر اعظم کو احساس پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں جاری امدادی منصوبوں اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی پر معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بریفنگ دی۔وزیر اعظم کو بتایا گیا  کہ  فی الوقت گلگت بلتستان کے3 اضلاع میں احساس نشوونما مراکز قائم ہو چکے ہیں۔گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں احساس کے پرائمری تعلیمی وظائف کے ساتھ ساتھ ثانوی تعلیمی وظائف کا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر گلگت بلتستان بھر کیلئے احساس نشو نما، احساس ثانوی تعلیم وظائف اوراحساس“ایک عورت- ایک اکاونٹ”کا اجراکیا۔وزیر اعلی گلگت بلتستان نے وزیر اعظم کو گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور اس حوالے سے لیے گئے اقدامات کے بارے بریف کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیبھر پور مواقع موجود ہیں جن سے کثیر زر مبادلہ حاصل ہوگا اور مقامی معیشت مستحکم ہوگی۔ وزیر اعظم نے تاکید کی کے سیاحت کے منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جائے۔وزیر اعظم نے گلگت بلتستان حکومت کے ویب پورٹل، چیف منسٹر ٹاسک مینجمنٹ سسٹم اور چیف منسٹر کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح بھی کیا۔ اس سسٹم کے اجرا سے عوامی شکایات کے جلد ازالے میں مدد ملے گی اور سرکاری کارروائی میں جدت اور محکموں کے درمیان رابط کاری مستحکم ہوگی۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سی پیک منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر توانائی حماد اظہر، وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر صنعت و مخدوم خسرو بختیار، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف، عبدالرزاق داؤد،چیئرمین بورڈ آف انوسٹمنٹ عاطف بخاری، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم کو مختلف شعبوں میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق بریف کیاگیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت نے نہ صرف گزشتہ حکومت کی طرف سے شروع کردہ منصوبوں کو مکمل کیا بلکہ ڈھائی سال کے عرصے میں ایک بڑی تعداد میں نمایاں منصوبوں کو بھی مکمل کرنے میں کامیاب رہی ہے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ منصوبوں کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ اس کے برعکس کے کس نے منصوبوں کا آغاز کیا موجودہ حکومت کی جانب سے زیادہ تر منصوبوں کو مکمل کیا جاچکا ہے سپیشل اکنامک زونز بشمول رشکئی، دھابیجی، علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اور گوادر انڈسٹریل زونز غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کررہے ہیں۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ چین زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں تعاون کو بڑھا  رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاک چین  مضبوط تعلقات، وقت کی آزمودہ اور گہری جڑوں پر مبنی پاک چین دوستی کا مظہر ہے اور یہ ہماری ترقیاتی حکمت عملی کا اہم جزو ثابت ہوگا۔ انہوں نے خاص طور پر زور دیا کہ صنعت کاری   برآمدات میں اضافے  اور درآمدی متبادل پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے اور ہماری پالیسیاں اس کے مطابق مرتب ہونی چاہیے۔ 

وزیراعظم عمران خان

مزید :

صفحہ اول -