یورپی یونین کی پاکستان بارے قرارداد ، ملک کی تمام دینی قیادت نے دبنگ اعلان کردیا 

یورپی یونین کی پاکستان بارے قرارداد ، ملک کی تمام دینی قیادت نے دبنگ اعلان ...
یورپی یونین کی پاکستان بارے قرارداد ، ملک کی تمام دینی قیادت نے دبنگ اعلان کردیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان کے تمام مذاہب و مکاتب فکر کے قائدین اور حکومت پاکستان یورپی یونین کی قرارداد کو مسترد کرتی ہے ، یورپی یونین کی قرارداد حقائق سے لا علمی اور بے بنیاد جھوٹے پراپیگنڈہ کی بنیاد پر ہے ، پاکستان میں گذشتہ چھ ماہ کے دوران ناموس رسالتﷺ و توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے ایک شکایت بھی نہیں ہے ، آزاد ی اظہار ، آزادی مذہب اور توہین مقدسات کے درمیان فرق واضح ہے ،پاکستان کے قوانین پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق اور تحفظ کی ضمانت ہیں، پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق کا آئین پاکستان محافظ ہے ، یورپی یونین ، امریکی مذہبی آزادی کےسفیر کو دعوت دیتےہیں کہ وہ صحیح حقائق جاننےکی کوشش کریں،اقلیتوں کاتحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جو وہ ادا کر رہی ہے 

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم پاکستان برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر مولانا  اسد اللہ فاروق، علامہ زبیر عابد، مولانا حافظ کاظم رضا، مولانا محمد خان لغاری ، مولانا عبد الوہاب روپڑی ، پادری عمائنول کھوکھر، مولانا محمد شفیع قاسمی ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا اسلم صدیقی ، مولانا عبد القیوم فاروقی ، قاری شمس الحق ،مولانا قاری عبد الحکیم اطہر، قاری مبشر رحیمی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کے قوانین پر تمام اقلیتیں متفق ہیں، توہین مذہب و توہین رسالت کے قانون کا غلط استعمال نہیں ہو رہا ہے ، بعض افراد اور ادارے غلط اور بے بنیاد پراپیگنڈہ کر کے پاکستان کے وقار ، عزت او رتعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں ، یورپی یونین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنا وفد حقائق جاننے کیلئے پاکستان بھیجے۔ پاکستان کی عدلیہ نے آئین و قانون کے مطابق فیصلے کیے ہیں، چھ ماہ کے عرصہ کے دوران جبری مذہب کی تبدیلی کے واقعات میں انتہائی کمی ہوئی ہے ، توہین مذہب و ناموس رسالتﷺ کے قانون کا غلط استعمال کا ایک کیس بھی نہیں ہے، یورپی یونین نے حقائق کےبرخلاف قرارداد منظور کی ہے، آزادی اظہار آزادی مذہب کا مطلب قطعاً دوسرے مذاہب کے مقدسات کی توہین کی اجازت نہیں دیتا ہے، پاکستان تمام مذاہب کے مقدسات کے احترام کیلئے عالمی قانون سازی چاہتا ہے ،مسلمانوں کیلئے تمام انبیاء کی ناموس اور آسمانی کتب کا تحفظ عظمت ایمان کا حصہ ہے،پاکستان غلیظ اور فساد پھیلانے والی تحریروں ، تقریروں کی کسی صورت حمایت نہیں کر سکتا، پوری پاکستان قوم وزیر اعظم پاکستان کے اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالتﷺ کے خاتمے کے مؤقف کے ساتھ ہے،الجزیرہ ٹی وی کے سروے کے مطابق امت مسلمہ نے عمران خان کو اسلامک فوبیا اور توہین ناموس رسالت کے خاتمے کیلئے اپنائے جانے والے مؤقف پر امت مسلمہ کا ترجمان اور رہنما قرار دیا ہے۔

دریں اثناء حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان تین روزہ دورے پر سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان کی دعوت پر تشریف لے جا رہے ہیں جہاں وہ سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان اور سعودی عرب کے سیاسی ومذہبی قائدین سے ملیں گے اور عمرہ ادا کریں گے جبکہ مدینہ منورہ میں رسول اکرم ﷺ کے روضہ اطہر پر حاضری دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم دورہ سعودی عرب کے درمیان سعودی عرب کی سیاسی و مذہبی قیادت ، اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے اسلامک فوبیا ، توہین ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے عالمی قانون سازی کے بارے میں بھی عملی اقدامات پر بات چیت کریں گے۔

مزید :

قومی -