مسجد نبوی کی بے حرمتی اور اگر مگر کی کہانی

مسجد نبوی کی بے حرمتی اور اگر مگر کی کہانی
مسجد نبوی کی بے حرمتی اور اگر مگر کی کہانی

  

 سب سے پہلے ہمارے دوستوں نے فیس بک پر یہ پوسٹ لگائی کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے مسجد نبوی کی بے حرمتی کے افسوسناک واقعہ کی حمایت کرنے والوں کو دوستوں کی فہرست سے نکال رہے ہیں۔ اس کے بعد”اگر مگر“کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اوریہ سلسلہ تو کل رات ہی عروج پرپہنچ گیاتھا جب نفرت کی انتہاء پر پہنچے ہوئے دونوں فریق مسجد نبوی کی آڑ میں اپنی سیاست چمکا رہے تھے۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کو دوستی کی فہرست سے نکالنے کے لیے بھی بہت رکھ رکھاؤ سے کام لیا جا رہا تھا۔کسے منہ توڑ جواب دینا ہے اور کس کالحاظ کرنا ہے۔مسجد نبوی کے مقابلے میں کسے زیادہ احترام دینا ہے اور کس کے پرخچے اڑا دینے ہیں یہ سب تماشا میں رات سے ہی دیکھ رہاتھا۔وہ مسجد نبوی کے باہر کا راستہ تھا یا مسجدکی راہداری تھی۔وہ جگہ روضہ رسول ؐسے قریب تھی یا دور۔وہاں کوئی بازارتھا یا نہیں۔ مجھے ان سوالات سے کوئی غرض نہیں۔ کچھ ویڈیوز میں کچھ لوگ یہ وضاحتیں کررہے ہیں کہ جس جگہ شہباز شریف، مریم اورنگزیب، شاہ زین بگٹی اور بلاول بھٹو کے خلاف نعرے بازی ہوئی وہ جگہ بیت الخلاء کے قریب ہے۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ چور کو مسجد نبوی میں چور نہ کہیں تو کیا کہیں۔ کچھ لوگوں کا استدلال ہے کہ ارض مقدس کاسفر خدا کے بلاوے کے بغیر نہیں ہوتا اورکچھ لوگ کہتے ہیں کہ دولت مند کوتو ارض مقدس کابلاوا سال میں باربار بھی آجاتا ہے اس لئے ہم ان دلائل کونہیں مانتے کہ ان کے بقول وزیراعظم شہبازشریف اپنے اقتدار اور دولت کے بل بوتے پر شاہی مہمان بنے ہیں۔ وہ یہ تاویلیں بھی دیتے ہیں کہ ایسا واقعہ پہلی بارنہیں ہوا۔ ایسی نعرے بازی ماضی میں بھی ہوچکی ہے۔ یہاں اس سے زیادہ خوفناک واقعات رونما ہوئے جو تاریخ کاحصہ ہیں حتی کہ جنازوں پر تیر بھی چلائے گئے۔ لیکن مجھے اس اگرمگر سے کوئی غرض نہیں۔میں صرف یہ جانتاہوں کہ یہ سارا ہنگامہ ان چھتریوں کے نیچے ہوا جو مسجد نبوی کے چاروں جانب موجودہیں اورانہی سے گزر کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں،عبادات کرتے ہیں۔انہی چھتریوں کے نیچے دن اور رات میں نماز بھی ادا کی جاتی ہے۔سو جس جگہ کو نماز کیلئے استعمال کیاجارہا ہو اور زائرین مسجد نبوی کی زیارت کے موقع پر ان چھتریوں کے نیچے نمازیں پڑھیں اور قریب ہی موجود روضہ رسولؐ کی دیوار کی طرف منہ کرکے نعت خوانی کریں تو میں کیسے مان لوں کہ وہ جگہ مسجد نبوی کاحصہ نہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس رات ہوا جسے شب قدرکہا جاتا ہے اورجسے ہزاروں راتوں سے افضل قراردیاگیا ہے اورجس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں یہی نزول قرآن کی رات ہے اوراسی لئے رمضان المبارک میں عمرے کیلئے جانے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی یہ رات مسجد نبوی میں ہی گزرے۔وزیراعظم شہبازشریف کے ہمراہ سعودی عرب کے دورے پر جانے والوں نے بھی مسجد نبوی میں عبادت کے لیے اسی رات کاانتخاب کیاتھا اوروہ عبادت کیلئے ہی وہاں گئے تھے لیکن عمران خان کے حامی بہت فخر کے ساتھ اعلان کرتے رہے کہ ہم نے غداروں کو یہاں عبادت نہیں کرنے دی۔حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں جیسے یزید اورشہید کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ظالم اورمظلوم کافرق باقی نہیں رہا۔ منصف اورمجرم ایک ہی کٹہرے میں موجود ہیں اسی طرح اب یہ تمیز بھی ختم ہوگئی ہے کہ کون سی بات باعث توقیر ہے اورکون سی باعث تکفیراور یہ اس وجہ سے ہوا کہ ہم نے عام لوگوں کو تقدس کے منصب پر فائز کردیا ہے۔ہم اپنے رہنماؤں کو دیوتا اور ہرقسم کی غلطی سے مبرا سمجھتے ہیں۔افسوسناک بات ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان میں ریاست مدینہ کا شور مچانے والے بالآخر نفرت کے کھیل کو مدینہ کی گلیوں تک ہی لے گئے۔ اس واقعہ سے ایک روز قبل ہی سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے بہت رعونت کے ساتھ یہ پیشگوئی کی تھی کہ ان کا وہاں جوحال ہوگا پوری دنیا دیکھے گی اور اب بھی وہ اس واقعہ کاشرمناک انداز میں دفاع کررہے ہیں۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس واقعہ سے ایک روز قبل عمران خان کے قریبی دوست مختلف ممالک سے عمرے کیلئے سعودی عرب پہنچے ان کی تصاویر اور ان کی ٹوئٹر سرگرمیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔ بیرون ملک مقیم عمران خان کے دوست صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکونے سعودی عرب روانگی سے قبل مانچسٹر ایئرپورٹ سے انیل مسرت، عامرالیاس اور اعجازالحق کے ہمراہ اپنی تصویر اپ لوڈ کی اور لکھا کہ ہم روحانی سفر پرروانہ ہورہے ہیں۔ ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کے بعد انہوں نے ویڈیو کے ہمراہ مذمتی ٹویٹ بھی کی اورانہی ویڈیوز میں بعدازاں حملہ آور کے طورپر ان کی اپنی جھلک بھی دکھائی دیتی رہی۔

آج جب جمعہ کی شام میں یہ کالم تحریر کررہا ہوں، سابق وزیراعظم عمران خان ملتان میں کارکنوں سے خطاب کرکے واپس جاچکے ہیں۔ ملتان کی تقریر میں انہوں نے وہی اشتعال انگیز گفتگوکی جو وہ اس سے پہلے بھی بارہاکرچکے ہیں۔ اب تک وہ یوم القدس کے حوالے سے توایک ٹویٹ کرچکے ہیں جس میں انہوں نے مسجد اقصی میں اسرائیلی فوجیوں کے داخلے اور مسجد کی بے حرمتی کی مذمت کی تاہم تاحال مسجد نبوی کی بے حرمتی کے افسوسناک واقعہ پر ان کاکوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ سعودی عرب میں کچھ گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں تاہم گرفتارشدگان کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا جارہا۔وفاقی وزیرداخلہ نے البتہ سرکاری طورپر مطالبہ کیا ہے کہ سعودی حکومت اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف یہ کہ تادیبی کارروائی کرے بلکہ انہیں ڈی پورٹ بھی کیاجائے تاکہ حکومت پاکستان خود ان کے خلاف کارروائی عمل میں لاسکے۔سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ ہم جن انتہاؤں پرپہنچ چکے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔ کیا یہ سفر کسی المیے پر جا کر اختتام پذیر ہوگا اورکیا جس طرح اسی شب اسلام آباد میں سابق ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی قاسم سوری اور ان کے دوستوں پر ہوٹل میں حملہ کیاگیا آنے والے دنوں میں ہم ایسے اورواقعات بھی دیکھیں گے اور کسی بڑے نقصان کے بغیر ہمیں سکون اور اطمینان نہیں آئے گا۔یہ وہ خدشہ ہے جو اس وقت سب کے ذہنوں میں موجود ہے لیکن ہم بات زبان پر نہیں لارہے کہ اس کیلئے بہرحال حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اوریہ حوصلہ کوئی سرپھرا ہی کرسکتا ہے لیکن میرا خیال ہے ہمیں بھی کسی حوصلے سے کام لینے کی بجائے اگر مگر پر بات ختم کر دینا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -