آداب عالیہ...!!!

آداب عالیہ...!!!
آداب عالیہ...!!!

  

صوفی بیوروکریٹ جناب قدرت اللہ شہاب نے خوب کہا تھا کہ مسجد نبوی شریف میں حاضری کے لیے کچھ" آداب عالیہ" ہیں....!!شہر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تقدس سے ناواقف کچھ" گنواروں " کی "نازیبا حرکت" سے دل میں گہرا غم،سر ندامت سے خم اور آنکھیں نم ہیں...اتنی بڑی "بے ادبی" کہ روح کانپ اٹھتی ہے اور معافی کے سوا کوئی چارہ نظر  نہیں آتا...معذرت کا وہی انداز، جو مایہ ناز کرکٹر جناب محمد یوسف نے اپنایا،نجات کا واحد راستہ ہے...."مناجات یوسف" گویا پوری امت کی طرف سے کفارہ ہے...ہم سیاہ کار کسی کو کیا الزام دیں کہ خود کسی کا "ماضی" اچھا نہیں تو کسی کا "حال" برا ہے..... بہتر ہے ہر کوئی جھولی پھیلا کر وہی" التجائے یوسف" دہرائے کہ اے اللہ کریم !حرم مدینہ میں جو کچھ ہوا ،میں اس پر پوری امت کی طرف سے تجھ سے معافی مانگتا ہوں....میں تو یہ بھی کہوں گا کہ کوئی محب وطن پاکستانی کسی اللہ والے بزرگ سے منت سماجت کرے کہ وہ در اقدس پر حاضر ہوکر ہماری طرف سے عرضی گذاریں کہ یارسول اللہ ﷺنظر کرم کیجئے کہ آپﷺ کریم آقا ہیں... اتنے کریم کہ فتح مکہ کے موقع پر اپنے دشمنوں کے لیے" لا تثریب علیکم الیوم" فرمادیا تھا ہم تو پھر آپ ﷺ کے امتی ہیں....!!!!

حرمین شریفین کے سفر میں "دو جملے "کسی بھی زائر کو مقناطیس کی طرح اپنی طرف کھنیچ لیتے ہیں.....ضیوف الرحمان اور ضیوف الرسول میں واقعی بڑی اپنائیت ہے.....اپنائیت کیوں نہ ہو کہ مکہ مکرمہ میں آپ اللہ کریم کے مہمان ہوتے تو مدینہ منورہ میں رسول  کریم ﷺ آپ کے میزبان ہوتے ہیں......ایسے مہمان نواز آقا کے مہمان کہ جو اپنے بیگانے میں تفریق نہیں کرتے....عدی بن حاتم کے لیے بھی چادر بچھا کر فرماتے ہیں کہ جب کسی قوم کا صاحب کرم شخص آئے تو اس کا اکرام  کرو.........مہمان کی ایسی تکریم کرنے والے آقا کریمﷺبھلا اپنے مہمان کی عزت میں فرق کیسے برداشت کرسکتے ہیں....؟؟؟ویسے بھی ہم کون ہوتے ہیں بارگاہ رسالت ﷺمیں آئے کسی مہمان کو اچھا برا کہنے والے......؟؟؟یہاں کوئی منطق ،فلسفہ اور تاویل نہیں چل سکتی کہ مدینہ کی گلی گلی بڑی مقدس ہے....وہاں نظریں جھکائے اور پلکیں بچھائے خاموشی سے آہستہ قدم چلنا ہی بہترین عمل ہے.....اپنے عہد کے بڑے خطیب جناب مولانا ضیا القاسمی کا ایک تڑپادینے والا اقتباس نظر سے گزرا......کہتے ہیں کہ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ قاسمی صاحب! شہر رسول میں رہتے30 سال ہو گئے مگر مدینہ شریف کی گلیوں میں کبھی کتا بھونکتے نہیں سنا...!!!

شہرت کے بھوکے لوگوں پر بھی حیرانی ہوتی ہے کہ کیسے یہ لوگ شاہوں کے شاہ جناب رسول کریم  ﷺے ہاں حاضری کے وقت" پروٹوکول "میں الجھ جاتے ہیں....؟؟؟بھلا اس سے بڑا "پروٹوکول" کیا ہو سکتا ہے کوئی شاہ مدینہﷺکا مہمان ٹھہرے......بلاوا آجائے تو وہاں فقیروں کی طرح جانا چاہئیے کہ اس دربار عالیہ کا یہی "پروٹوکول" ہے.....!!!

ممتاز دانشور جناب ممتاز مفتی نے اپنے سفرنامہ حج" لبیک" میں "آداب عالیہ" کے عنوان سے جناب قدرت اللہ شہاب کے "فقیرانہ انداز" پر مبنی ایک ایمان افروز باب لکھا ہے......مفتی صاحب لکھتے ہیں:وہ مسکرادئیے...ان کی مسکراہٹ میں بڑی بے بسی تھی....کل رات کو جب مسجد نبوی شریف شاہ مراکو" کے لیے خصوصی طور پر کھلی تھی، اس وقت آپ نے مسجد نبوی میں آنے سے کیوں انکار کر دیا تھا"؟؟ان کے چہرے کی سلوٹیں سرک سرک کر یوں ڈھیلی پڑ گئیں جیسے معذرت اور ندامت میں بھیگ گئی ہوں....دیکھیے نا وہ بولےکچھ اچھا نہیں لگتا... کیا اچھا نہیں لگتا؟؟؟اس طرح مسجد نبوی میں آنا کچھ اچھا نہیں لگتا...کس طرح؟.....کسی خصوصی حیثیت سے جب مسجد نبوی شریف خصوصی طور پر کھولی جائے....صاحب حیثیت لوگوں کے لیے کھولی جائے....میں....میں....میں....وہ اٹک اٹک کر رک گئے.....پھر سنبھل کر بولے"حضور  اکرم ﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضری دینے کے کچھ آداب ہونے چاہئیں.....اللہ اکبر....اللہ اکبر.....مسجد نبوی کے موذن کی اذان گونجی.....!!!!

 مفتی صاحب نے رسول کریمﷺے ایک دو مہمانوں کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ کیسے آقا کریم نے ان کا استقبال کیا.....؟؟؟وہ مدینے کی زیارت کو تڑپتی ایک بی بی کی " پرسوز کہانی "لکھتے ہیں:تقسیم ہند کے وقت حمیدہ 10 سال کی ایک خوب صورت لڑکی تھی....سکھوں کے ایک جتھے نے ان کے گاؤں پر حملہ کر دیا......وہ جاتے ہوئے حمیدہ کو بھی ساتھ لے گئے....وہاں پہنچ کر وہ حمیدہ کور بن گئی... پھر3 سال کے بعد وہ لہنا سنگھ کی بیوی بنا دی گئی.....اس کے گھر 2بچے پیدا ہوئے....اس کے باوجود وہ گھر حمیدہ کا گھر بنا نہ وہ ان بچوں کی ماں بن سکی....وہ صبح شام، دن رات دعا کرتی کہ یا اللہ مجھے اس" کال کوٹھری" سے نکال...پھر حالات نے ایسا رخ پلٹا کہ ہندوستانی پولیس حمیدہ کو پاکستان چھوڑ گئی.....بڑی مشکل سے اسے ماں باپ کا گھر مل گیا لیکن والدین نے اسے حقارت سے ٹھکرادیا.....وہ برادری کی وجہ سے مجبور تھے کیونکہ حمیدہ سکھ کی بیاہتا اور 2سکھ بچوں کی ماں تھی.....حمیدہ نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں گڑگڑا کر عرض کی، یا رسولؐ اللہ! مجھ پر میرا وطن تنگ ہو گیا ہے...میرے اپنے ماں باپ کے گھر کا دروازہ بند ہو گیا ہے....میرے لیے اب دنیا میں کوئی پناہ گاہ نہیں رہی......یارسولؐ اللہ! مجھے اپنے قدموں میں بلا لو....حضور  اکرم ﷺ کے قدموں میں امان پانے کی خواہش حمیدہ کے دل میں جنون بن گئی.....لیکن مدینہ منورہ پہنچنے کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی.....دو ایک سال میں  "جیسے تیسے" رقم اکٹھی ہوئی تو حمیدہ عازم مدینہ ہوگئی....جب وہ مدینہ کے قریب پہنچی تو اس کے دل پر وحشت سوار ہو گئی.....اسے خیال آیا کہ وہ تو "ناجائز کمائی" سے وہاں پہنچی ہے....وہ کس منہ سے مدینہ پاک داخل ہو سکتی ہے.....ناپاک جسم لیکر کس طرح مسجد نبوی میں حاضری دے سکتی ہے....روتے روتے حمیدہ کی گھگی بندھ گئی.......اسی حالت میں اس کی آنکھ لگ گئی.....حضور  اکرم ﷺتشریف لائے اور فرمایا:اٹھو حمیدہ ملال نہ کرو......دیکھو تمہارا جسم کتنا پاکیزہ ہے.....حمیدہ نے دیکھا کہ اس کا جسم منور تھا...... وہ جاگی تو اس نے اپنے آپ کو مسجد نبوی میں پایا......پھر حمیدہ نے زندگی مدینہ میں ہی گزار دی....

مفتی صاحب اسی طرح کا ایک اور واقعہ نقل کرتے ہیں:عالم ایک عیاش تاجر تھا....دنیا کی سیاحت کے لیے پاکستان سے نکلا.....اتفاق سے پہلے سعودی عرب جا پہنچا......سوچا چلتے چلتے عمرہ ہی کر لیں.....مکہ معظمہ پہنچ کر اس نے شدت سے محسوس کیا کہ وہ ایک غلیظ شے ہے.....یہ احساس اس پر طاری ہوتا گیا.....پھر اس نے محسوس کیا کہ لوگ حیرت اور نفرت سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں.....عالم سر پر پاؤں رکھ کر مکے سے بھاگا......سوچنے لگا کہاں جاؤں؟مدینے شریف جانے والی ایک بس نے اسے اٹھایا.....مدینہ شریف داخل ہونے سے پہلے اسے خیال آیا اگر یہاں بھی پناہ نہ ملی تو؟؟اس پر خوف طاری ہو گیا.....وہ بس سے اتر گیا....ڈرتا ڈرتا پیدل شہر میں داخل ہوا......پھر عالم نے خواب کے عالم میں دیکھا کہ شہر کے باہر حضور  اکرم ﷺ خود کھڑے تھے......کریم آقاﷺے فرمایا....آجاؤ عالم  ڈرو نہیں.....پھر عالم" فقیر مدینہ" بن کر دنیا سے گیا...... 

بات ہو رہی تھی مسجد نبوی شریف کے آداب عالیہ کی.....وہاں تو کرخت لہجے میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ برداشت نہیں چہ جائیکہ نفرت انگیز نعرے لگائے جائیں.....جناب ممتاز مفتی مسجد نبوی کے "کریمانہ نظم "کا ایک اور واقعہ لکھتے ہیں کہ مجھے قدرت اللہ شہاب نے بتایا کہ مسجد نبوی میں بچے کھیلیں یا شور مچائیں تو انہیں کوئی نہیں روکتا.....پاکستان کا ایک فوجی افسر عمرہ کرنے لیے ایک مہینے کی چھٹی پر یہاں آیا....مسجد نبوی شریف میں اس نے دیکھا کہ بچے شور کر رہے ہیں.....اسے بے حد غصہ آیا....کہنے لگا یہ سراسر زیادتی ہے...اس نے بچوں کو ڈانٹا......اس پر اس کے ساتھی نے جو مدینہ منورہ کی ڈسپنسری میں تھا،اس کو منع کیا کہ بچوں کو نہ ڈانٹے....افسر "نظم و نسق "کا متوالا تھا.....اس نے ڈاکٹر کی ان سنی کر دی.....رات کو اس موضوع پر دونوں میں بحث چھڑ گئی....ڈاکٹر نے کہا حضور اکرم ﷺ یہ پسند نہیں کرتے کہ بچوں کو ڈانٹا جائے.....اسی رات افسر نے خواب دیکھا کہ حضورﷺخود تشریف لائے اور خشمگیں لہجے میں فرمایا "اگر مسجد میں بچوں کی موجودگی پسند نہیں کرتے تو مدینہ سے چلے جائیے.....اگلے روز پاکستان کے فوجی ہیڈکوارٹرز سے ایک تار موصول ہوا جس میں اس افسر کی چھٹی منسوخ کر دی گئی تھی اور اسے فورا ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا حکم دیا گیا تھا...... میں نے قدرت سے پوچھا کہ آپ کو اس واقعہ کا کیسے پتہ چلا....؟؟؟انہوں نے جواب دیا کہ مجھے ڈسپنسری کے ڈاکٹر نے بتایا، جس کے پاس وہ افسر ٹھہرا ہواتھا........آداب عالیہ نہ آتے ہوں تو یہ بڑی بدقسمتی بن جاتی ہے....!!کریم آقا ﷺمیرے ماں باپ آپ پر قربان.....نظرکرم فرما دیجیے.....!!!

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -