وہ چار طرح کے کھانے جنہیں دوبارہ گرم کر کے کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، ماہر غذائیت نے بتا دیا

وہ چار طرح کے کھانے جنہیں دوبارہ گرم کر کے کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو ...
وہ چار طرح کے کھانے جنہیں دوبارہ گرم کر کے کھانا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، ماہر غذائیت نے بتا دیا
سورس: Pxhere.com (creative commons license)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کا بچا کھانا اگلے روز گرم کرکے کھانے کا رجحان پوری دنیا میں پایا جاتا ہے تاہم ماہرین غذائیات نے کھانے کی 4 ایسی اشیاءکے متعلق لوگوں کو متنبہ کر دیا ہے جنہیں دوبارہ گرم کرکے کھاناصحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یہ چار اشیاءانڈے، چاول، پالک اور آلو شامل ہیں۔
آسٹریلیا کی کم لنزے نامی ایک ماہر غذائیات نے اپنے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ مذکورہ اشیاءکو مائیکروویواوون میں دوبارہ گرم کرنا کسی طور خطرے سے خالی نہیں ہے۔انڈوں میں ’سیلمونیلا‘ نامی بیکٹیریا پائے جاتے ہیں جو زہرخورانی کا سبب بنتے ہیں۔ 
کم لنزے نے بتایا کہ چاولوں میں بیسیلس سیرس نامی بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں، جو عام طور پر مٹی میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بیکٹیریا آلو، مٹر اور چند دیگر سبزیوں میں بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ رات کے بچے ہوئے چاول دوبارہ گرم کرکے کھانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ 
کم لنزے کے مطابق پالک میں نائٹریٹس نامی کمپاﺅنڈز پائے جاتے ہیں جو دوبارہ گرم کرنے پر ٹوٹ کر دیگر ایسے کمپاﺅنڈز میں بدل جاتے ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں۔ آلو کو پکانے کے بعد دو گھنٹے تک کمرے کے درجہ حرارت میں رکھنا ہی بہت خطرناک ہے، اس سے ان میں ’کلوسٹریڈیم بوٹولینم‘ کی تعداد بہت بڑھ جاتی ہے، جو انسانی جسم کے عصبی خلیوں پر حملہ آور ہونے والی بیماری بوٹولزم کا سبب بنتے ہیں۔ تاہم کم لنزے نے بتایا کہ مرغی کے گوشت، بیف، دودھ اور مچھلی کو دوبارہ گرم کرکے کھانابالکل محفوظ ہوتا ہے۔

مزید :

تعلیم و صحت -