اس تصویر کے پیچھے چھپی کہانی آپ کو رونے پر مجبور کردے گی

اس تصویر کے پیچھے چھپی کہانی آپ کو رونے پر مجبور کردے گی
اس تصویر کے پیچھے چھپی کہانی آپ کو رونے پر مجبور کردے گی

  

دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) یہ ایک حقیقی تصویر ہے جو کہ 1889ءمیں شام میں بنائی گئی۔ جس شخص کو کندھوں پر اٹھایا گیا ہے وہ ایک کوتاہ قد عیسائی شخص سمیر ہے، جو اپنی انتہائی پست قامت کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھا، جبکہ جس شخص نے اسے اٹھایا ہوا ہے وہ ایک مسلمان ہے جو کہ نابینا ہے اور اس کا نام محمد ہے۔

مزید جانئے: دوسری شادی کرنے کے خواہشمند مردوں کے لئے سب سے بڑی خوشخبری آگئی، خواہش رکھتے ہیں تو اپنی پہلی بیگم کو یہ خبر ضرور پڑھالیں

سمیر دمشق کی مصروف سڑکوں پر نقل و حرکت کے لئے محمد پر انحصار کرتا تھا جبکہ محمد نابینا ہونے کی وجہ سے سمیر کی مدد پر انحصار کرتا تھا۔ یہ دونوں تنہا تھے اور ہمیشہ اکٹھے رہتے تھے کیونکہ ایک دوسرے کی مدد کے بغیر ان کے لئے زندگی بسر کرنا ممکن نہ تھا۔ ان میں سے ایک چلنے سے قاصر تھا تو دوسرا دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ جب سمیر کی موت ہوگئی تو محمد کے لئے بھی زندگی کو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا۔ وہ ایک ہفتے تک اپنے ساتھی کی یاد میں تڑپتا رہا اور پھر خود بھی اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ محبت اور ایثار کی یہ خوبصورت مثال اسی ملک شام سے تعلق رکھتی ہے کہ جہاں آج خانہ جنگی برپا ہے اور انسان ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس