بھارت میں ایک نہایت ہی مزاحیہ چیز پر پابندی لگانے کی تیاریاں، سردار جی خوش

بھارت میں ایک نہایت ہی مزاحیہ چیز پر پابندی لگانے کی تیاریاں، سردار جی خوش
بھارت میں ایک نہایت ہی مزاحیہ چیز پر پابندی لگانے کی تیاریاں، سردار جی خوش

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) وزیراعظم نریندر مودی کا دور بھارت میں پابندیوں کا دور بن کر رہ گیا ہے۔ کبھی اظہار رائے پر پابندی، کبھی موسیقی پر پابندی تو کبھی گائے ذبح کرنے پر پابندی۔ اب ان پابندیوں میں ایک ایسا اضافہ ہونے کا امکان ہے کہ جس کے بعد اکثر لوگوں کی محفلوں کا مزہ کرکرا ہو کر رہ جائے گا۔

’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک خاتون سکھ وکیل ہروندر چودھری نے بھارتی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے کہ سکھوں اور سرداروں کے خلاف لطیفوں پر پابندی عائد کی جائے، اور سپریم کورٹ نے اس درخواست پر غور کے لئے اسے قبول بھی کرلیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ سکھوں کے متعلق بنائے گئے لطیفے ان کے بنیادی انسانی حقوق، عزت اور وقار کے منافی ہیں، لہٰذا مختلف ویب سائٹوں پر پائے جانے والے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے شیئر کئے جانے والے سرداروں کے لطیفوں پر پابندی عائد کردی جائے۔

مزید جانئے: جب امریکا میں مسلمان ٹرک ڈرائیوروں کو شراب سے بھرا ٹرک چلانے کا حکم دیا گیا تو انہوں نے کیا کیا؟ ایمان بھی نہیں گنوایا، اور کروڑ پتی بھی بن گئے

سکھ وکیل کا کہنا ہے کہ ان لطیفوں میں سرداروں کو تضحیک کا نشانہ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ سکھ ایک احمق قوم ہیں۔ وکیل محترمہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں سرداروں کے متعلق بنائے گئے لطیفوں کی وجہ سے بیرون ملک بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان کے بچے اپنے نام کے ساتھ سنگھ لکھنے پر تیار نہیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس گوپالا گاﺅڈا نے درخواست گزار کو بتایا کہ بہت سے سکھ ایسے بھی ہیں کہ جو ان لطیفوں کا برا نہیں مناتے بلکہ ان سے محظوظ ہوتے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً عالمی شہرت یافتہ سکھ مصنف خوشونت سنگھ کی بھی مثال دی جنہوں نے خود سکھوں کے متعلق بے شمار لطائف کو اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ اس تبصرے کے ساتھ ہی عدالت نے درخواست کا جائزہ لینے کے لئے اسے قبول کرلیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس