زلزلہ متاثرین کے لئے حکومتِ پنجاب کے اقدامات

زلزلہ متاثرین کے لئے حکومتِ پنجاب کے اقدامات
زلزلہ متاثرین کے لئے حکومتِ پنجاب کے اقدامات

  

وزیراعلیٰ پنجا ب میا ں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ 26اکتو بر کو آنے والے زلزلہ متا ثرین کی بحا لی کے لئے پنجا ب حکو مت متا ثرہ علا قوں کے بھا ئی بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ان کی ہر ممکن امداد کی جا ئے گی اور ان کا ہر طرح سے خیا ل رکھا جا ئے گا اور متا ثرین کی بحا لی حکو مت کی ترجیحا ت میں سر فہرست ہے شہباز شریف نے کہا ہے کہ قدرتی آفت کے باعث جن کے پیارے بچھڑ گئے ہیں ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں متاثرین کو تنہا نہیں چھو ڑیں گے یہ درد مند ادنہ احساسات و جذبا ت ایک ایسی قیا دت کے ہو سکتے ہیں،جن کے دل کی دھڑکنیں عوام کے ساتھ دھڑکتی ہو ں، جس کی گورنمنٹ کرافٹ کا بنیا دی انتظا می فلسفہ دکھوں سے نجا ت سما جی و معاشی مشکلا ت کے پنجوں میں جکڑے جبر سے نجا ت دلا کر ان کی زندگیو ں میں آسودگی ، شادما نی اور خو شحا لی کو عام کر نا ہو۔26اکتوبر بروز پیر 2بج کر 9منٹ پر افغانستان کے مقام بد خشاں سے زلزے کی تباہ کن لہریں اٹھیں ان لہروں کا دورانیہ صرف 90سیکنڈ تھا اور جیو لا جیکل سروے کے مطا بق اس زلزلے کے لئے زیر زمین ہلچل 200 کلو میٹر سے زیا دہ گہرے مقام پر ہو ئی اس زلزلے کے جھٹکے مُلک کے تمام مقاما ت پر محسوس کئے گئے ، 90سیکنڈ کے دورانیہ کا زلزلہ اپنے پیچھے 251 افراد کی موت، 2ہزار سے زائد افراد کو زخمی ،8453مکانات کی تبا ہی پر منتج ہُوا ہے۔

8اکتو بر 2005ء کے زلزے کی طرح اب بھی تباہی اور بر بادی کا مرکز پا کستا ن کے شمالی علا قہ جات ہیں ، اکتو بر کا مہینہ پاکستا ن کے شما لی علا قہ جا ت کے بھا ئی اور بہنوں کے لئے ستم گر ثابت ہو ا ہے اس عظیم قومی المیہ کے موقع پر ایک صاحب دل انسان دوست اور دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کے مشن کو اپنے نظریا تی و فکری سیاسی فلسفے کا داعی کیسے لا تعلق رہ سکتا ہے اس لئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو ٹیلی فون کر کے اپنی مکمل امداد کا یقین دلا یا اور فوری طور پر ٹیمیں تشکیل دینے کے احکا ما ت جا ری کئے جو نقصانا ت کے تخمینے کا اندازہ لگا ئیں گی ٹیمیں چیف سیکرٹری پنجا ب کی سربر اہی میں کا م کر رہی ہیں اور ان کی روشنی میں مر بو ط و جا مع امداد کے میکنزم کو تشکیل دیا جا ئے گا یہ حکمت عملی لا نگ ٹرم اہداف کے حصول کی مظہر ہے وزیراعلیٰ پنجا ب شہباز شریف نے خیبر پختونخوا اور شما لی علاقہ جا ت میں فوری طور پر ان حکو متوں کے ریلیف اقدامات میں عملی شرکت کے لئے پی ڈی ایم اے اور محکمہ صحت کے اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات عمل میں لانے کی ہدایات جاری کی ہیں جن پر فوری طور پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے دستیاب اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر 95ٹرکوں پر مشتمل راشن، امدادی اشیاء اور خیمے روانہ کیے جا چکے ہیں 41ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹا ف ،ایمبو لینسوں کے ساتھ ریسکیو ڈیپارٹمنٹ کے 65اہلکار بھی خد ما ت سرانجا م دے رہے ہیں میڈیکل ٹیمو ں نے علا ج معالجہ شروع کر دیا ہے ریسکیو ٹیمیں متعلقہ علا قوں میں مصروف عمل ہو گئی ہیں اس عمل کی نگرانی کے لئے وزیر اعلیٰ کی ہد ایت پر سیکرٹری صحت حکو مت پنجا ب بھی وہا ں موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجا ب نے صوبہ پنجا ب میں زلزلے سے پہنچنے والے نقصانا ت کے تخمینے کے لئے پی ڈی ایم اے کو صوبے بھر کی عما رات کا سروے کر نے کے احکا ما ت جاری کئے ہیں اور صوبہ بھر میں زلزلے سے ڈی جی خان ، میا نوالی، راولپنڈی ، خوشاب ، قصور کے 6افراد کے لواحقین کو 24گھنٹے کے اندر اندر 5لا کھ روپے فی کس ما لی اعانت کے چیک جاری کئے جا چکے ہیں، جو وزیراعلیٰ پنجاب کی زلزلہ متاثرین کے ساتھ درد مندی کا عملی ثبوت ہیں اور یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجا ب نے قصور کے دیہات دوست پور میں زلزلہ سے جابحق ہو نے والے محمد اسحاق کے لواحقین سے ملا قات کی ان کے گھر پہنچے ، لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا اور مرحوم کے بیٹے کو سرکاری ملا زمت دینے کے احکامات جاری کئے اور اس گاؤں کے متاثرین کے لئے 13لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔

قدرتی آفات کے سامنے انسان بے بس ہے ، قدرتی آفات جیسے سونا می ، سیلا ب اور زلزلہ کا دورانیہ چند سانحوں سے لے کر چند دنوں تک ہو تا ہے، مگر یہ اپنے پیچھے تبا ہی و بربا دی کا ایک ایسا چیلنج چھو ڑ جاتی ہیں، جس سے نمٹنے کے لئے معاشروں اور ریا ستوں کو کئی دہا ئیاں لگ جا تی ہیں 8اکتوبر 2005ء کے نتیجہ میں کشمیر اور شما لی علا وہ جا ت میں ایک لا کھ سے زائد ہلا کتیں ہو ئی تھیں لاکھوں گھر مسما ر ہو ئے تھے ، سینکڑوں دیہا ت صفا ہستی سے مٹ گئے تھے اور انفراسٹیکچر مکمل طور پر تبا ہ ہو گیا تھا ایسی تبا ہی کے سوائے فضا ئی رابطے کے زلزلہ متا ثرین تک امداد پہنچانے کا کو ئی وسیلہ نہ رہا تھا،مگر ہما ری قوم کے حوصلے کی داد دینی چاہئے کہ صرف چند سالو ں میں عوام کے عظیم حوصلے ، پو لیٹیکل لیڈر شپ کی کمٹمنٹ اور ریلیف اور بحا لی کے ادارہ جا تی مثالی خد ما ت کے نتیجہ میں تبا ہ حال علا قے از سر نو آباد ہو گئے اور وہاں پر زندگی معمو ل کے مطا بق لو ٹ آئی ۔زلزلہ ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کے وقو ع پذیر ہو نے کا جدید سائنسی ترقی کے با وجو د پیشن گوئی کا سائنسی گر ابھی تک دریافت نہ کر سکی ۔البتہ سائنس نے اتنی ترقی ضرور کر لی ہے کہ اب زلزلے کے مر کز کا تعین کر نے کے قابل ہو گئی ہے زلزلے کی وجوہات کی سائنسی تاویلا ت مو جو د ہے اور زلزے کی شدت و پیما ئش کے لئے سائنسی آلے مو جو د ہیں پا کستا ن کے میٹرالو جیسٹ ماہر ین ارضیا ت کے مطا بق زلزلہ آنے کی مختلف النوع سائنسی تاویلا ت مو جو د ہیں امریکہ کی معروف تحقیقاتی ادارے یو نیورسٹی آف میسا جوسٹ انسٹیٹیو ٹ آف ٹیکنا لو جی کے ڈیپا رٹمنٹ برائے ارضیات اور ما حو لیا ت کے پر وفیسر کے مطا بق زمین کا اندرونی حصہ ایک بڑے جڑے ہو ئے سسٹم کے تحت کا م کر تا ہے زلزلہ جب آتا ہے تو زمین کی سطح سے 35کلو میٹر نیچے مو جو دکرسٹ کو کچھ ہفتوں تک کمز ور کر دیتا ہے زلزلہ زمین کی کرسٹ کی لچک دار خصوصیا ت میں چھ ہزار کلو میٹر تک کے علا قے میں تبدیلیاں لا تا ہے اور اس کے نتیجہ میں زمین کی دبا ؤ برداشت کر نے کی صلا حیت کو ہفتوں تک کمز ور کر دیتا ہے زلزلے سطحی مو ج جب ایک ایسی ہی فالٹ رینج کے قریب سے گزرتی ہے تو اس کی رگڑ سے زمین کی سطح کو جو ڑ کر رکھنے والی خصوصیا ت اس دبا ؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کی کمزور صلا حیت کی حا مل ہو نے کے باعث زیر زمین ارضیا تی توازن درہم بر ہم ہو تا ہے اور اس ارضیا تی انتشار کے نتیجہ میں زلزلے کا با عث بننے والے مقام کی رینج میں واقع علاقے کسی وقت بھی زد میں آسکتے ہیں پا کستا ن میں بہت سے علا قے زلزلے کے فالٹ رینج میں واقع ہیں اور وطن عزیز کے شما لی علا وہ جا ت میں زلزلو ں کا با عث ہندو کشن ریجن ہے اور اس زلزلے کا کو ہ ہندو کش میں مرکز و محور 193کلو میٹر کی گہرائی میں تھا ، شما لی علا قہ جا ت کی طرح کر اچی سمیت سندھ اور بلو چستا ن کا ساحلی علا وہ خطر نا ک فالٹ لا ئن زون پٹی پر واقع ہے اور یہا ں پر زلزلہ و سونا می کے شدید خطرات رہیں گے ما ہر ین ارضیا ت کے مطا بق بحیرہ عرب میں تین پلیٹس جن میں عربین پلیٹس، یو رشین پلیٹس ، انڈین ، آسٹریلین پلیٹس اور ا ن کا جنگشن مو جو د ہے ان پلیٹس میں ارضیا تی تواز ن میں انتشار و خلفشار کسی بڑی تبا ہی پر منتہج ہوسکتا ہے ۔ درج با لا معروضا ت سے تکلیف اور پریشان کن حقیت ابھرتی ہے کہ پا کستا ن کا ارضیا تی ڈھا نچہ خطر نا ک زلزلو ں کی زد میں رہے گا، جس سے خو ف نا ک انسانی المیے جنم لیتے رہیں گے اور دُکھ ، اذیت اور مو ت کا رقص ابلیس ہما رے آنگنوں میں اپنا رقص جا ری رکھے گا یہ صورت حا ل ہما ری قومی سلا متی و بقا کے لئے ایک سنگین چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے جس کے لئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کے ما ہرین کو جد ید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں پا کستا ن میں زلزلے کی فالٹ رینچ کے تعین اور ان علا قوں میں ایسی عمارات کی تعمیر جن میں مکانات و سرکاری انفراسٹرکچر شامل ہیں کی تعمیر کے ایسے ڈیزائن تشکیل دینے ہوں گے، جن میں زلزلے کے جھٹکوں کو جذب کر نے کی بدرجہ اتم صلا حیت مو جو د ہو۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے پاکستا ن میں تا ریخ کے بڑے سیلا ب 2010ء کے موقع پر جو حکمت عملی ترتیب دی تھی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پنجا ب میں 2014ء اور 2015ء کے دوران سیلا ب ایسی قدرتی آفت سے بطریق احسن نبر د آزما ہو نے کے لئے حکومتی مشینری پو ری طرح سے تیار تھی وزیر اعلیٰ پنجا ب علا ج کے لئے لندن میں مقیم تھے وہی سے ویڈیو لنک کے ذریعے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کی نگرانی کی اور پہلی فرصت میں ضلع لیہ پہنچے اور متاثرین سیلا ب کی بحا لی کے لئے جا مع پر وگرام کی مسلسل نگرانی کی اور مقام اطمینان ہے کہ سیلا ب کے دوران ایک بھی قیمتی انسانی جا ن کا نقصان نہ ہوا ، شہباز شریف ایک ایسی سیا سی قیا دت کے طور پر ابھرتے دکھائی دیتے ہیں جن کی وسعت قلب کی کشادہ دلی ، انسان دوستی کا دائرہ صرف ان کے اپنے صوبے تک محدود نہیں ہے،بلکہ گزشتہ برسوں میں بلوچستان میں زلزلہ آیا تھا تو اپنے بلوچ بھا ئیوں کی اس دکھ و مصیبت کی گھڑی میں پی ڈی ایم اے اور پنجا ب کے دیگر ادارے بلوچستا ن کے دور دراز علا قوں میں اپنے بلوچ بھا ئیوں کے دکھ با نٹنے کے لئے ان کے درمیان تھے اور اب خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے متاثرین زلزلہ کے ساتھ اظہار ہمدردی اورعملی ریلیف سر گر میوں کے لئے سی ایم پنجا ب کی ہد ایت پر اداروں کے اہلکار و افسران خد ما ت سرانجا م دے رہے ہیں اور پنجا ب کے یہ سرکاری اہلکار صوبے کے عوام کی جانب سے بھائی چارے اور دکھ با نٹے کے داعی کے طور پر مو جو د ہیں، کیونکہ پنجا ب کے وزیر اعلیٰ اور صوبے کا ہر فرد شما لی علا قہ جا ت کے مصیبت زدہ بھا ئیوں کے دکھ درد کو اپنا درد سمجھتا ہے، جس کے مداوے کے لئے پنجا ب کے مختلف ادارے خد مت خلق کے لئے مصروف عمل ہیں ۔

مزید :

کالم -