گماں یقین میں ڈھل گیا

گماں یقین میں ڈھل گیا
گماں یقین میں ڈھل گیا

  

خبر تو بہت بری ہے ۔۔۔بہت ہی بری۔پرانہونی و انوکھی نہ تھی اور نہ ہی یہ غیر متوقع اور قیاس سے ہٹ کر تھی کہ باشعوراور باخبر اخبار نویس بگڑی رُتوں اور کڑی راتوں کی بابت پہلے ہی بتلا چکے تھے ۔برا ہو گماں کا کہ یقین میں ڈھل گیا،موت آئے فسانے کو کہ حقیقت میں بدل گیا اور مر مرجائے وہ وہم اور وسوسہ کہ اب کھٹکا ہی نہ رہا۔گاہ گاہ رفاقتیں اور رشتے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ جاتے ہیں۔۔۔کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ٹوٹنے سے ٹوٹتے ہیں نہ جڑنے سے جڑتے اور کبھی کبھی انسان سب کچھ پانے کے لئے بہت کچھ ہار بھی جاتا ہے ۔یہ معاشرہ اور ماحول ہی ایسا کہ جہاں گام گام پر یقین و اعتماد کو زک پہنچتی ،قدم قدم پر قربتیں اور فاصلے پیدا ہوتے اور لمحہ لمحہ ،دقیقہ دقیقہ ایک رشتہ ریت کے گھروندے کی طرح بکھر جاتا ہے ۔انسانی شخصیت کی پرت بھی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔کوئی تجارت و حرفت میں سرفراز ہوتا ہے تو کوئی سائنس و ٹیکنالوجی میں سرخرو ٹھہرتا ہے ۔کوئی باپ تو اچھا ہوتا ہے لیکن بھائی اچھا نہیں ہوتا اور کوئی بیٹا تو اچھا ثابت ہوتا ہے مگر شوہر نہیں۔زندگانی کے ہر محاذ پر ہر کوئی کامیاب و کامران تھوڑی ہوتا ہے ۔۔۔کہیں نہ کہیں خلا،خلوت،ناکامی اور تشنگی کاسامنا کرنا پڑتا ہے اسے۔

خان صاحب کی تلون مزاجی اور سیماب صفتی علیحدگی کی وجہ بنی کہ ریحام کے منصوبے اور معاملات؟دید نہیں شنید ہے کہ اسد عمر کا ریحام نے بنی گالہ میں داخلہ بند کر دیا تھا ،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین بھی ریحام کے کردار سے خوش کب تھے ۔کہیں ان خائفوں کے ٹولے نے تو کوئی جنتر منتر نہیں پھونک دیا ؟کیا واقعی ریحام اپنے مستقبل کے لئے خان کو بطور سیڑھی استعمال کرنا چاہتی تھی؟کہیں علیحدگی کے بعد مالی معاملات کا فائدہ تو اس کی نظر میں نہ تھا ؟خان صاحب کی انا کے ناگ نے کہیں خود کو تو نہیں ڈس لیا ؟سمندر پار بیٹھی سفید فام آدم زادی نے تو کہیں کوئی چال نہیں چل دی ؟کیا بہت سی وجوہات نے مل کر تخریب کا تلچھٹ تو تیار نہیں کر دیا تھا؟وجوہات ،تشکیکات،توجیہات اور معاملات جو بھی رہے ہوں۔۔۔کم ازکم خان صاحب کے لئے یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ان کے تقدیسی بت،طلسماتی شخصیت اور اساطیری کردار پر اب کی بار ضرب لگی ہے اور بڑی بھاری وکاری لگی ہے ۔ان کے ممدوح شارحین چاہے جو مرضی تاویل تراشتے اور تاویل گھڑتے پھریں۔۔۔سیاسیات سے شناسا لوگ تو ان کے سیاسی مستقبل پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے دیکھا کئے ۔

کہا جاتا ہے کہ ایک لیڈر کی پہچان ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ معاملہ فہم ہو، اپنی فراست سے آنے والے ایام کی جھلک دیکھنے کی صلاحیت پاتاہو ۔خان صاحب کے ساتھ بار ہا الٹ ہوا کہ انہوں نے معاملے کو سمجھنے کی بجائے اپنے ہی جذباتی رنگ میں دیکھا،ہوش کی جگہ جوش اور تحمل کی جگہ طیش کا ثبوت دیا۔ذرا بیتے دنوں کو یادکیجئے جب وہ سابقہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی بلائیں لیتے نہ تھکتے تھے،پھر ایک دن یکایک انہیں الہام ہوا کہ وہ دھاندلی میں شریک تھے ۔بعنیہٖ 35پنکچروں کے قصے کو اتنے تواتر سے دہرایا کہ جھوٹ پر سچ کا شبہہ ہونے لگا۔اگر وہ واقعتاپہلے ان معاملات سے بے خبر تھے تو یہ بھی ایک طرح سے ان کی ناکامی و نااہلی تھی کہ وہ لیڈر ہی کیسے تھے جو معاملے کو بھانپ نہ سکے ؟سیاسی مسائل پر ان کی نااہلیاں اور ناکامیاں تو خیر ایک دوسرا موضوع ہیں جنہیں قصہ گو اور قصیدہ نویس بھی مانتے اور گردانتے آئے ہیں۔سیاسی کمیاں ،کوتاہیاں ایک چیز ہیں اور نجی ناکامیاں چیزے دیگر است۔ظاہر وباہر ہے جو شخص ذاتی معاملات میں معاملہ فہم نہ ہو وہ ملکی و قومی مسائل میں مسیحا کیسے ہو سکتا ہے ؟خان صاحب کو لمحہ بھر کے لئے سیاسی گھوڑے سے اتر کر اور خوشامدیوں کے جلو سے نکل کر اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ انہوں نے کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں؟خان صاحب اگر واقعتا آئینہ کے روبرو ہوں تو انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سیاست میں جس طرز کلام اور گفتار کو انہوں نے متعارف کروایا وہ درست ہے؟مخالفوں پر بے سرے اور بے تکے الزام کیا انہیں زیب دیتے ہیں ؟

ہر گز ہرگز کوئی کلام نہیں کہ کسی کے نجی معاملات میں مداخلت اور ذاتی مسائل پر رائے زنی شرفا ء کا شیوا نہیں۔بھائی اس حقیقت میں بھی کلام کہاں کہ لیڈروں کی زندگیاں پبلک لائف ہوتی ہیں اور اسے ہر شخص کے لئے کھلی کتاب کی مانند ہونا چاہئے۔ ہمارے لیڈر اگر ہم سے حقِ حکمرانی مانگتے ہیں تو پھر ہر کسی کو بھی اس کا حق حاصل کہ وہ بھی رہبرؤں اور رہنماؤں کو ہر طرح سے پرکھے۔ان کی ہر معاملے میں خبر لی جائے اور ہر مسائل پر اپنی فہم کے مطابق رائے دی جائے ۔بات دو شادیوں کی ناکامی کی نہیں کہ یہ ناصر پان والایا بھولادودھ والے کا معاملہ نہیں جو بے چارے کونسلری کے امیدوار تک نہیں۔ارے باباکپتان عمران خان کا مسئلہ ہے جوبزعمِ خویش عقل کل ،یکتائے روزگاراور نادرِزمانہ ہے ۔چوبیس گھنٹے،سات دن ،ایک ماہ کیا پورا سال ان کی شان میں قصیدے گھسیٹنے والے پتہ نہیں ان کے بارے کیا کیا باور کرایا کئے۔آج اسی عالم عاقل کی ذہنی صلاحیت،دور اندیشی،خرد مندی اور معاملہ فہمی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹا پڑا ہے کہ ۔۔۔’’مولوی مدن کس برتے پر مانگتا ہے تتہ پانی‘‘۔ سوشل میڈیا پر انصافین تو خیر اداس اور سہمے ہوئے ہیں مگر کپتان کے مخالفین طرح طرح کے سوالات لے اڑ ے ہیں اور ایسی ایسی باتیں عام ہیں کہ پناہ بخدا۔دل لگتی کہئے تو اب کی بار خان صاحب کی علیحدگی نے ان کا بت پاش پاش کرڈالا ہے ۔بارہ ماسی کے بھاڑے تو خیر ان کے حق میں دلائل دینے کے لئے ید طولیٰ رکھتے ہیں لیکن غیر جانبدار اور ذی شعور لوگ اب خان صاحب کی فہم اور معاملہ فہمی میں تذبذب کا شکار ہو اچاہتے ہیں ۔ خان صاحب ملکی تبدیلی کو کسی دوسرے کے سپرد کرنے پر راضی ہوں تو پھر وہ اپنی نجی تبدیلی کے بارے میں بھی سوچیں۔ہیجان اور افراتفری ،جذباتی و ہنگامی اقدامات سے لمحہ بھر کو شورش توپیداکی جا سکتی ہے مگر اس سے شعور بیدار نہیں ہوتا۔سنجیدہ و فہمیدہ طبقے حیران و ہراساں ہیں کہ اگر وقت چال الٹی چل جائے اور زمام کا ر کپتان کے ہاتھوں میں تھما بھی دی جائے تو کیا خان صاحب ملکی معاملات چلا اور سنبھال سکیں گے؟پے بہ پے ان کی خانگی کارکردگی تو اتنی قابل رشک نہیں کہ ان پر اعتبا ر کیا جا سکے ۔ تکلف برطرف!کپتان کے باب میں خوش گپیاں اور خالی خولی نعرے بازیاں اپنی جگہ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ وہ کسی المیے کو تو جنم دے سکتے ہیں پرکسی تبدیلی کی بِنا نہیں اٹھا سکتے بابا!

مزید : کالم