ڈیزل سکینڈل میں ملوث 52واسا افسر بچ نکلنے میں کامیاب

ڈیزل سکینڈل میں ملوث 52واسا افسر بچ نکلنے میں کامیاب

لاہور(جاوید اقبال)واسا میں جعلی ترقیاتی سکیموں اور جعلی رسیدوں پر ڈیزل سکینڈل میں ملوث 52افسر صاف بچ گئے ہیں ان افسروں کیخلاف کروڑوں روپے کی کرپشن میں برائے راست ملوث ہونے کے الزامات ثابت ہونے پر مقدمہ درج کرایا گیا تھا اور ان سے ریکوری کر کے ان خلاف پیڈ اایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی ریکوری کر کے ان خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی تھی مگر یہ افسرتاحال پر کشش سیٹوں پر تعینات ہیں ۔اس سکینڈل کا مرکزی ملزم سہیل سندھو سابق ایکسئین داتا گنج بخش ٹاؤن وہ بھی برخاست نہیں کیاجا سکا اور نہ ہی اس سے ریکوری کی جاسکی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ان افسروں میں 5ڈائریکٹرز8ایکسئیز،10ایس ڈی اوز،4ڈپٹی ڈائریکٹرز 6سب انجنئیر،3اسسٹنٹ ڈائریکٹر ز کے علاو ہ اکاؤنٹس ،ایڈمن ،آڈٹ ،فنانس کے ملازمین بھی ملوث پائے گئے جن کیخلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہوا ۔اس کے باوجود یہ افسر آج بھی اپنی سیٹوں پر براجمان ہیں اور محکمے کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔واضح رہے کہ موجودہ ایم ڈی چوہدری نصیر نے ایک ذمہ دار فرض شناس اور ایماندار آ فیسر کا عملی رول ادا کیا اور اپنی تعیناتی بطور ایم ڈی واسا سے ایک سال قبل کے افسروں کی ناصرف لوٹ مارپکڑی بلکہ اس کی آزادانہ اور شفاف انداز میں تحقیقات کرائیں جس میں داتا گنج بخش ٹاؤن کے سابق ایکسئین سہیل سندھو اور سابق ڈائریکٹر وارثی مرکزی ملزم قرار پائے اس ٹاؤن میں واقعہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کے ملکیتی پٹرول پمپ سے ان افسروں نے کروڑوں روپے کا ڈیزل،لبریکنٹس ،پٹرول جعلی رسیدوں پر جاری کروا کر پی گئے اسی طرح 4مختلف سب ڈویژنوں میں فرضی اور بوگس ترقیاتی سکیموں کے نام پر کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے ہڑپ کر گئے جس کیخلاف اینٹی کرپشن نے ان افسرون کیخلاف مقدمہ درج کرایا گیا ۔ان افسروں کیخلاف تاحال کاروائی نہیں ہو سکی اور یہ آج بھی پرکشش عہدوں پر تعینات ہیں اس حوالے سے واسا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کارروائی کی گئی ہے کچھ افسروں کی ترقیاں ر ک گئی ہیں باقی کیخلاف کارروائی جاری ہے جو بھی کرپشن میں ملوث ہے اس کیخلاف ضرور ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 1