کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ زور شور سے جاری

کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ زور شور سے جاری

ہاکی کے کھیل میں ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کرنے کے دعوے تو کئے جارہے ہیں لیکن اس حوالے سے عملی طور پر کچھ ہوتا نظر نہیں آتا اس کی مثال جونئیر ہاکی ٹیم کی حالیہ ایونٹ میں کارکردگی ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ پاکستان میں ہاکی کے کھیل کی ترقی کا آغاز ہوگیا ہے سینئر ٹیم ہو یا جونیئر ٹیم کارکردگی بہت مایوس کن ہے جبکہ نئی مینجمنٹ کوبھی اپنے فرائض سنبھالے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی عملی طور پر ان کی جانب سے بھی کوئی مثبت کارکردگی سامنے نہیں آئی ہے اس کھیل کو ماضی کی طرح ترقی کے دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں لیکن اس حوالے سے عملی طور پر کچھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے اب دیکھنایہ ہے کہ کیا مستقبل میں اس حوالے سے کچھ کیاجاتا ہے کہ نہیں اس کے لئے اب اگلے ایونٹ کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے ملائیشیا میں ہونے والے 8ویں جونیئر ایشیا کپ کی تیاریوں کیلئے قومی جونیئر ہاکی ٹیم کے ممکنہ35 کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ ہیڈ کوچ اولمپیئن طاہر زمان، اسسٹنٹ کوچز ذیشان اشرف اور محمد عرفان کی زیر نگرانی ہاکی سٹیڈیم جوہر ٹاؤن لاہور میں جاری رہا ۔کیمپ کے دوسرے روز کھلاڑیوں نے دو سیشن میں ٹریننگ کی۔کھلاڑیوں کو شارٹ کارنر، دفاع، اٹیکنگ، فنشنگ وغیرہ میں پریکٹس کروائی گئی ۔ کیمپ میں شریک 35 کھلاڑیوں میں پانچ گول کیپر ز طلال خالد، علی حیدر، حافظ علی عمیر، منیب الرحمان چار فل بیکس مبشر علی شاہ، فیصل شاہ، حسن محمد انور، عاطف مشتاق، 9 ہالوز میں مصطفی، فیضان، محمد قاسم، زاہد اللہ، محمد جنید کمال، ابوبکر محمود، غضنفر علی، عماد شکیل بٹ، محمد عدنان 17فارورڈز میں محمد عتیق، شان ارشاد، محمد دلبر، محمد عدنان انور، محمد نوید، رانا سہیل ریاض، محمد رضوان محسن صابر، سہیل انجم، وسیم اکرم، عمر حامدی، نوہیز زاہد ملک، محمد بلال محمود، اویس الرحمان، محمد اظفر یعقوب اور فہد اللہ شامل ہیں جبکہقومی جونیئر ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ طاہر زمان نے کہا ہے کہ سلطان آف جوہر جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی سامنے آنے والی کمزوریوں کو لاہور میں جاری جونیئر ہاکی ٹیم کے تربیتی کیمپ میں دو ر کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے اور امید ہے کہ کیمپ کے اختتام تک کافی حد تک ان پر قابو پالیا جائے گا ہاکی سٹیڈیم جوہر ٹاؤن لاہور میں ٹریننگ کیمپ کے دوران انہوں نے کہاکہ سلطان آف جوہر جونیئر ہاکی ٹورنامنٹ میں بری پرفارمنس کو کھلاڑی ذہن سے بھلا چکے ہیں ۔اور ایشیا کپ میں نئے ولولہ اور جذبہ سے میدان میں اتریں گے بہرحال اب کیا ہوتا ہے اس حوالے سے جو کہا جارہا ہے اس کا عملی طور پر کیا رزلٹ ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا لیکن یہ ضرور ہے کہ محنت کیجائے تو پاکستان کی ہاکی ٹیم ضرور کامیابی سے ہمکنار ہوسکتی ہے اور امید ہے کہ پاکستانی ٹیم اس ایونٹ میں شرکت سے قبل بہت زیاد محنت کرے گی جو ضرور رنگ لیکر آئے گی۔

***

مزید : ایڈیشن 1