بے ایمان قوم کی نشانیاں

بے ایمان قوم کی نشانیاں
بے ایمان قوم کی نشانیاں

  

میَں پیشن گوئیاں کرنے والا کوئی پیشہ ور نجومی نہیں ہوں۔ آپ بھی ذرا آنکھیں کھول کر کسی مُلک کے عوام کی اچھی ، بُری عادات کا موازنہ کریں گے تو آپ کو بھی اپنی رائے دینے میں آسانی ہو جائے گی،جو عوام مذہب کے ساتھ، ملک کے ساتھ ، ایک دوسرے کے ساتھ، یہاں تک کہ لین دین اور تجارت میں کھلے عام بے ایمانی کریں، اُن لوگوں کو پہچاننے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔ اپنے بچپن میں مجھے جو مسلمان اپنے اِردگرد نظر آتے تھے وہ تو سیدھے سادے لوگ ہوتے تھے۔ اُن دِنوں ہماری مسجدوں کے باہر دروازے پر نہ اہل سنت کی مسجد یا اہلِ حدیث کی مسجد لکھا ہوتا تھا۔ معاشرے میں جھوٹ کم کم بولا جاتا تھا۔ دیواروں پر سفید چونے سے لکھے ہوئے شاہی حکیموں اور عاملوں کے اشتہار البتہ جھوٹ کا پلندہ ہوتے تھے۔ چھوٹی عدالتوں میں جھوٹے گواہ بکثرت ملتے تھے، لیکن اس کے علاوہ زندگی کے تمام معاملات میں جھوٹ خال خال نظر آتا تھا۔ ہمارے تاجر دیانت دار ہوتے تھے۔ کبھی کبھار سننے میں آتا تھا کہ فلاں دوکاندار ملاوٹ والی ہلدی مرچ فروخت کرتا ہے۔ اُس وقت ڈبوں میں تیار شدہ مصالحوں کا رواج نہیں تھا۔ جوں جوں ٹیکنالوجی نے ترقی کی اور ہمارے معاشرے میں مال و زر کمانے کی ہوس بڑ ھی تو سب سے پہلے بے ایمانی ہمارے تجارتی حلقوں میں آنی شروع ہوئی۔ جعلی بڑانڈ اصلی نام سے بکنے کے لئے مارکیٹ میں آ گئے۔چین جو 1975ء تک ایک سویا ہوا ملک تھا اور ابھی اُس کو سرمایہ دارانہ نظام کا چسکا نہیں لگا تھا، وہ بھی جعلی اور نمبر 2 قسم کا مال بنا کر سستے داموں ہمارے جیسے ملکوں کو فروخت کرنے لگا۔ ہم پہلے ہی بددیانتی کی راہوں پر گامزن ہو چکے تھے ، چین کا ساختہ ، غیر معیاری سامان ہماری مارکیٹوں میں پھیل گیا۔

چین کے تاجروں نے بے ایمانی کرنے کے نئے نئے راستے ہمارے لالچ زدہ تاجروں کو سکھائے ۔ انڈر اِنوائسنگ کی وجہ سے کسٹم ڈیوٹی کم دینی پڑتی تھی۔ ہمارے تاجروں نے چین کے چالاک بیوپاریوں سے مل کر اربوں روپے کا کسٹم بچایا اور اپنے کالے دھن میں اضافہ کیا۔ کالا سرمایہ مزید معاشی ، سیاسی اور سماجی بُرائیاں اپنے ساتھ لایا۔ چینیوں نے ہمارے لالچی تاجروں کو دھوکہ دہی کے مزید گُر سکھائے۔ چین سے جو مال بھی پاکستان میں تاجر امپورٹ کرتے ہیں، اُن تاجروں کو تین قسم کی پرائس لسٹ چین سے مال کے ساتھ آتی ہے۔ ایک لسٹ تو اصل ہوتی ہے جو کاروباری معاہدے کے مطابق ہوتی ہے ۔ دوسری لسٹ بھی چین سے ہی آتی ہے، لیکن اُس لسٹ میں مال کی قیمت بڑھا چڑھا کر لکھی ہوتی ہے۔ پاکستانی تاجر اس لسٹ کو اپنے مال کے خریدار کو دکھاتا ہے یہ بتا کر کہ جو مال وہ فروخت کر رہا ہے اُس کی قیمتِ خرید حسبِ لسٹ ہے، جس پر وہ کم سے کم منافع کا حقدار ہے یعنی جو مال دوکاندار کو 40 روپے میں پڑتا ہے اُس مال کی قیمتِ خرید جعلی لسٹ کے مطابق 60 یا 80 روپے ہو سکتی ہے۔ گاہک جب جعلی قیمتِ خرید کی لسٹ دیکھتا ہے تو Bargain کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا۔ تیسری لسٹ کسٹم حکام کے لئے ہوتی ہے جو کسٹم ڈیوٹی بچانے کے لئے Underinvoiced مال کے ساتھ آتی ہے۔ چائنا سے جو بھی مال پاکستانی تاجر منگوا رہاہے وہ Underinvoiced ہو گا اور 3 لسٹوں والا ہوگا۔ بے ایمانی کرنے کا یہ سائنسی طریقہ حکومت کے کارندے پکڑ سکتے ہیں اور اپنے اِنکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں حکومتی آمدنی بڑھا سکتے ہیں، لیکن حکومتی کارندے بھی بے ایمان ہیں۔

ہمارے جیدّ قسم کے دینی عالموں نے اپنی اپنی مذہبی سیاسی جماعت بنائی ہوئی ہے۔ بعض دینی جماعتوں نے مدرسے بھی بنائے ہوئے ہیں، اکثر مدرسے جائز آمدنی اور جائز مقصد کے لئے کام کر رہے ہیں، لیکن اِن ہزاروں مدرسوں اور سینکڑوں مذہبی جماعتوں کی آمدنی جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعے آتی ہے۔ مدرسوں اور جماعتوں کے لئے خواہ چندہ اکٹھا کیا جاتا ہو، خواہ قربانی کی کھالوں اور فطرانوں ، صد قا ت یا عطیات کے ذریعے سرمایہ اِکٹھا کیا گیا ہو، اُس کا اکثر حصہ اِن مدرسوں اور دینی جماعتوں کے سربراہوں اور اُن کے حواریوں کی جیب میں جاتا ہے۔ آج کے کئی دینی عالم، حکومت سے اور عوام سے مفادات حاصل کرنے کے لئے جھوٹ اور مکر کا سہارا لیتے ہیں۔ اَب مفتی شفیع، مفتی محمود ، شاہ احمد نورانی، عبیداللہ انور اور پیر کرم علی شاہ جیسے ایماندار عالم کہاں ہیں۔جنرل ضیاء کے زمانۂ حکومت میں ریاکاری، بے ایمانی اور جھوٹ نے مزید زور پکڑا، جنرل ضیاء کو خوش کرنے کے لئے ہر سرکاری دفتر میں ظہر اور عصر کی نماز لازماً پڑھنی پڑتی تھی۔ اِنسانی فطرت ہے کہ اگر اُسے کوئی اچھے سے اچھا کام بھی تاکیداً کہا جائے گا تو اِنسان ایسے زبردستی کے حکم کو خوشی سے قبول نہیں کرے گا۔ نتیجہ اس کا یہ نکلا کہ صلوٰۃ کے نام پر دفتروں میں دو تین گھنٹے کی غیر حاضری عام ہونے لگی۔ سرکاری عملہ نماز کے بہانے دفتروں سے غائب ہو کر اپنے ذاتی کام دفتری اوقات میں کرنے لگا۔ جنرل ضیاء کی فہم اِسلام ایک پیشہ ور امام مسجد سے زیادہ نہ تھی۔وہ ’’لااکرہ فی الدین‘‘ کا مطلب نہیں سمجھتا تھا۔ اُس کی مُلائیت کی وجہ سے سرکاری عملہ حکومت سے بھی اور اللہ تعالیٰ سے بھی بے ایمانی کرتا تھا۔

ہمارے سندھی معاشرے میں لڑکیوں کی قرآن سے شادی کر دینا سراسر اللہ تعالیٰ سے بے ایمانی ہے۔ جھوٹے پیر، مخدوم اور سجادہ نشین عوام کی سادگی سے فائدہ اُٹھا تے ہیں جھوٹ اور بے ایمانی کی بنیاد پر ہمارے آج کے سیاسی اکابر دن رات بے ایمانی کے ہتھکنڈے تلاش کرتے رہتے ہیں۔ عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں جعلی ترقیاتی منصوبے بناتے ہیں اور اُن منصوبوں میں ایسی کلاسک بے ایمانیاں کرتے ہیں کہ اُن کو نہ ہی نیب پکڑ سکتی ہے اور نہ ہی انسدادِ بد عنوانی کا محکمہ اور اگر یہ محکمے کچھ کارروائی کرتے بھی ہیں تو وہ خود بے ایمانی کا شکار ہو کر ملزموں کو بے گناہ قرار دے دیتے ہیں۔ ہمارے وکلاء حضرات جن کی ناموری اس لئے ہوتی ہے کہ وہ ہر مقدمہ اپنے موکل کے حق میں جیت جاتے ہیں ، وہ بھی اپنی جیت کے لئے جھوٹ، بے ایمانی اور رشوت کا سہارا لیتے ہیں ہماری چھوٹی عدالتیں جھوٹ اور بے ایمانی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

ہمار ا محکمہ اِنکم ٹیکس اور ہماری حکومت کے کچھ اِقدامات بے ایمانی کو تقویت دیتے ہیں آج اگر محکمہ اِ نکم ٹیکس چاہے تو قانون بنوا سکتا ہے کہ ہر ریسٹورنٹ والا ایسی چھپی چھپائی کیش میمو استعمال کرے جسکو انکم ٹیکس کے محکمہ نے خود چھپوایا ہو اور اُس کی سیریل نمبرنگ علاقائی محکمہ اِنکم ٹیکس نے کی ہو۔ قانونی طور پر ریسٹورنٹ کی کیش کاؤنٹر پر کیمرہ لگا ہو، جو ہر کیش میمو کی تصویر ریکارڈکر سکے۔ کھانے کا آرڈر لینے والا ویٹر جوں ہی آرڈر لے وہ کیش کاؤنٹر پر موجود کمپیوٹر میں enter کرے۔ اگر یہ اِقدامات کر لئے جائیں تو ٹیکس چوری جو ریسٹورنٹ کرتے ہیں کم از کم 80فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ دراصل مالی بے ایمانیوں اور ٹیکس چوری کے راستے حکومتی اور سیاسی اکابر ملِ جُل کر خود تلاش کرتے ہیں۔ سرکاری سرپرستی میں بے ایمانی انعامی بانڈوں کی شکل میں ہوتی ہے۔ انکم ٹیکس ریٹرن میں آپ کروڑوں کے پرائیز بونڈ ظاہر کر دیں، آپ سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا کہ پرائز بونڈ خریدنے کے لئے رقم کہاں سے آئی۔ بے ایمانی صرف مال اور تجارت کے معاملے میں ہی نہیں ہوتی۔ ایمانداری کا تعلق ہمارے اخلاق اور کردار سے بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العصر میں ایمان کی تعریف (Defination) نیک اعمال اور حق کا ساتھ دینے کے مترادف بتاتے ہیں۔ ہم پاکستانی مسلمان تو بہت زیادہ خسارے میں ہیں۔ ہم اپنے سے کم تر لوگوں سے خوش گفتاری اور نرم سلوک کرنے میں بھی کنجوسی دِکھاتے ہیں۔ ہم وقت کی پابندی نہیں کرتے۔ ہم قانون کی پاسداری کرنے میں موقع پرستی سے کام لیتے ہیں۔ ہم کسی کی جائز تعریف کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں۔ اِلزام تراشی خواہ سیاسی ہو یا ذاتی، ہم اس قبیح روّئیے سے بھی نہیں چُوکتے۔ سورۃ العصر کے مطابق ہمارے یہ تمام روئیے ایمان کی کمزوری کا شاخسانہ ہیں۔ بے ایمانی صر ف لین دین میں ہی نہیں ہوتی، بلکہ ہماری اِخلاقیات میں بھی ہوتی ہے۔ غور کریں تو مغرب کے گوروں نے اور مشرقِ بعید کے غیر مسلم ممالک نے اپنی اِخلاقیات کے زور پر ہی دنیا میں نام پیدا کیا ہے ورنہ اِن قوموں کے افراد کے ذاتی کرداروں پر کئی سوالات اُٹھتے ہیں۔ گورے مرد اور خواتین اپنی ذاتی زندگی میں کتنے ہی قابلِ اعتراض ہوں،اُن کا سماجی اخلاق ہم مسلمانوں سے بہت بہتر ہوگا۔ اِخلاق کی کمزوری بھی بے ایمانی کے زمرے میں آتی ہے۔ اسلام میں ایمانداری بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے دین میں تو ٹریفک قانون شکنی بھی ایمان کی کمزوری میں شمار ہوتی ہے۔ سورۃ العصر کی تشریح کو پڑھ کر دیکھ لیجئے۔

ahmad_manzoor@hotmail.com

مزید : کالم