شام میں خانہ جنگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات

شام میں خانہ جنگی ختم کرنے کیلئے مذاکرات

ویانا(آن لائن)شامی صدر بشار الاسد کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان شام میں خانہ جنگی ختم کرنے کی از سر نو کوششوں پر اتفاق ہو گیا ہے۔آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں شام کا اہم اتحادی ایران پہلی بار شریک ہوا تھا۔مذاکرات میں شریک ہونے والے مختلف ممالک کے وزرا نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ سے شام میں ایک نیا عمل شروع کرنے کے لیے کہا جائے جس کے تحت جنگی بندی ہو اور نئے انتخابات کرائے جا سکیں۔تاہم مذاکرات میں صدر بشار الاسد کے مستقبل پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ اس بابت تازہ مذاکرات دو ہفتوں میں ہوں گے۔دریں اثنا بات چیت سے قبل دمشق کے نواحی علاقے میں شامی حکومت کی جانب سے ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 57 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ویانا مذاکرات باغیوں کے حمایت کرنے والے امریکہ اور ان کے حلیفوں سعودی عرب و ترکی اور شامی حکومت کے غیر ملکی اہم حلیفوں ایران اور روس کے درمیان کی خلیج کو کم کرنے کے لیے ہوا تھا۔تقریبا آٹھ گھنٹے کی بات چیت کے بعد مذاکرات میں شامل وزرا نے متعدد نکات پر رضامندی ظاہر کی جن میں یہ نکات بھی شامل تھے: * اقوام متحدہ کو شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک نئے سیاسی سلسلے کی ابتدا کرنے کے لیے دعوت دینا جو قابل یقین، جامع اور غیر مسلکی ہو۔ * ایک نیا آئین تیار کرنا اور اقوام متحدہ کے تعاون سے انتخاب منعقد کرانا جس میں شام کے تمام باشندوں کی شمولیت ہو خواہ وہ کہیں رہتے ہوں یا کسی نسل و فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ * ملک اور بیرون ملک شام کے باشندوں تک انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد میں اضافہ اور ان تک رسائی۔ * اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر ملک گیر پیمانے پر جنگ بندی نافذ کرنا اور اس کے طریقہ کار پر کام کرنا وغیرہ شامل ہے ۔

مزید : عالمی منظر