زلزلہ سے متاثرہ سینکڑوں خاندان آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں، عوامی تحریک

زلزلہ سے متاثرہ سینکڑوں خاندان آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں، عوامی تحریک

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان عوامی تحریک کے سینئر رہنماؤں نے کے پی کے کے زلزلہ سے متاثرہ اضلاع کے دورہ کے بعد واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ زلزلہ سے متاثرہ اضلاع کے درجنوں گاؤں کے سینکڑوں خاندان آج بھی حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن اپنی مدد آپ کے تحت 500 خاندانوں میں ادویات ،خوراک ،کمبل ،خیمے تقسیم کررہی ہے اور 200 رضا کار متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔فوج کے جوانوں کے سوا متاثرہ اضلاع میں کوئی ادارہ نظر نہیں آرہا۔ رہنماؤں نے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور کی قیادت میں زلزلہ سے متاثرہ اضلاع کا دورہ کیا ۔اس موقع پر خیبرپختونخوا عوامی تحریک کے صدر خالد درانی ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی، سیکرٹری کوآردینیشن ساجد بھٹی ،منہاج ویلفیئر کے ڈائریکٹر سید امجد علی شاہ ،عبدالحفیظ چودھری و دیگر موجود تھے۔میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کی برہ راست نگرانی منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر حسن محی الدین کررہے ہیں اور سربراہ عوامی تحریک ڈاکٹر طاہر القادری لمحہ بہ لمحہ امدادی سرگرمیوں کی رپورٹ لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے اعلانات تاحال صرف اعلانات ہی ہیں۔وہ اس آفت کے حوالے سے سیاست نہ کرنے کا اعلان کر کے سیاست کررہے ہیں اوروہ خیبرپختونخوا کی مخالف سیاسی حکومت کو نیچا دکھانے کیلئے اعلان پر اعلان اور صرف گرم جوشی کے مظاہرہ تک محدود ہیں عملاً انکی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہمارے کارکنوں نے بتایا ہے کہ متاثرہ اضلاع کے عوام حکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے احتجاج کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکمران فی الفور اپنے اعلانات پر عمل کریں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر سردی کی شدت سے بچانے کیلئے خیمے ،کمبل ،خوراک ،ادویات دینے کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں کو تعمیر مکمل کروائیں تاکہ وہ باحفاظت اپنے گھروں میں منتقل ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایک ناکام سروے کمپنی بن کررہ گیا ہے اور اسکی حالت یہ ہے کہ یہ نقصانات کے حوالے سے جو اعداد و شمار قوم کو جاری کرتا ہے وہ بھی درست نہیں ہوتے ۔افسران دفاتر میں بیٹھ کر زبانی جمع خرچ تک محدود رہتے ہیں ،انہیں ایمرجنسی سے نمٹنے کے قابل بنانے کیلئے اس ادارے کی تشکیل نو ناگزیر ہو گئی ہے۔

مزید : علاقائی