بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ،پرانی شراب نئی بوتل میں

بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ،پرانی شراب نئی بوتل میں
بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ،پرانی شراب نئی بوتل میں

  

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ یہ کہنا کسی بھی طرح غلط نہ ہو گا کہ ان انتخابات سے ایک دن قبل عمران خان اور ریحام خان کی طلاق نے تحریک انصاف کو بہت بڑا دھچکا دیا ہے۔ یقیناًتحریک انصاف کا کارکن اس طلاق سے سارا دن پریشان نظر آیا۔اس میں جوش بھی نہیں تھا۔ اور یہ سب پنجاب اور سندھ کے نتائج سے ظاہر ہوگیا۔ عمران خان بھی سارا دن خاموش رہے۔اسی طرح جہانگیر ترین بھی لودھراں سے دو دن سے غائب ہیں۔ حالانکہ لودھراں میں جہانگیر ترین کے حلقہ میں ضمنی انتخابات بھی ہونا ہے۔ اس لئے یہ بلدیاتی انتخابات جہانگیر ترین کے لئے بہت اہم تھے۔ انہوں نے تحریک انصاف سے امیدوار بھی کھڑے کئے تھے۔ لیکن عمران خان اور ریحام خان کی طلاق کی وجہ سے وہ آخری دو دن لودھراں نہیں گئے۔ اور نہ ہی انہوں نے امیدواروں سے کوئی رابطہ کیا۔ جس کی وجہ سے لودھراں کے نتائج بھی جہانگیر ترین کے حق میں نہیں آئے۔لاہور کی حد تک تو چودھری سرور متحرک نظر آئے لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع میں انتخابات میں شاہ محمود قریشی نظر نہیں آئے۔ گو کہ جہانگیر ترین تو آخری دو دن میں غائب ہوئے۔ جبکہ شاہ محمود قریشی تو کافی دن سے غائب ہیں۔ لاہور میں علیم خان بھی اتنے متحرک نظر نہیں آئے۔ شائد وہ اپنے ضمنی انتخاب میں اتنی انرجی لگا چکے تھے کہ مزید انرجی لگانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ اس لئے وہ بھی اتنے متحرک نظر نہیں آئے۔

بلدیاتی انتخابات کا یہ پہلا مرحلہ پنجاب میں پر امن رہا۔ سندھ میں خیر پور کے واقعہ نے اس کو خون سے نہلا دیا۔ اس سے قبل کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات بھی خون میں ہی نہلائے گئے تھے۔ پنجاب میں پر امن رہنے کا کریڈٹ بہر حال سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین کو جا تا ہے۔ جنہوں نے یہ تجویز دی کہ پنجاب بھر میں ہر قسم کے اسلحہ پر پابندی لگا دی جائے۔ اس میں لائسنسی اسلحہ بھی شامل تھا۔ یہ کیپٹن امین کی پرانی تھیوری ہے کہ اگر اسلحہ کے لائسنس ختم کر دئے جائیں۔ تو امن ہو جائے گا۔ اسی لئے سی سی پی او لاہور نے الیکشن سے ایک دن قبل چیئرمین اور وائس چیئرمین کے تمام امیدواران کو فون کئے کہ اسلحہ پر پابندی ہے۔ بہر حال یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اسلحہ پر پابندی کے فیصلہ نے پنجاب میں پر امن انتخابات دئے ہیں۔ کیا اس تجربے نے کیپٹن امین کی اس تجویز کو درست نہیں ثابت کر دیا کہ معاشرے کو ہر قسم کے اسلحہ سے پاک کرنا چاہئے۔ کسی کے پاس کوئی اسلحہ نہیں ہونا چاہئے۔ ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کو منسوخ کردینا چاہئے۔

ویسے تو تحریک انصاف نے پنجاب اور بالخصوص انتخاب ہارنے کے بعد دھاندلی کی بات تو کرنی ہے۔انہوں نے انتخابی نتائج کا اندازہ کرتے ہوئے دھاندلی کا شور شروع بھی کر دیا ہے۔ لیکن شائد انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے تو ریکارڈ جانی نقصان ہو اتھا۔ فیفن کی رپورٹ کے مطابق 106پولنگ سٹیشن پر پولنگ روکی گئی۔ جماعت اسلامی نے تحریک انصاف کے حلیف ہوتے ہوتے ان میں دھاندلی کا الزام لگایا۔ جس کو بعد میں قبول بھی کیا گیا۔

سندھ کے بلدیاتی انتخابات پیپلزپارٹی کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ہیں۔ پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ سندھ پیپلزپارٹی کا قلعہ ہے۔ پیپلزپارٹی اس وقت شدید دباؤ میں ہے۔ اس کے حوالے سے شدید قیاس آرائیاں بھی موجود تھیں۔ بہر حال پیپلزپارٹی نے سندھ میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنا پہلا ووٹ کاسٹ کیا ہے۔ انہوں نے انتخابات سے قبل اس عمل میں دلچسپی بھی لی۔ بہر حال شائد یہ انتخابات بلاول کے لئے بھی ٹریننگ کا موقع تھا۔

پنجاب کے 12 اضلاع میں انتخابات ہوئے لیکن فیصل آباد فوکس میں رہا۔ رانا ثنا اللہ اور چودھری شیر علی کے درمیان تناؤ اور دھڑے بندی نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ لیکن نتائج نے چودھری شیر علی کی سیاست کو تقریبا دفن ہی کردیا۔ کیونکہ چودھری شیر علی کے بیٹے چودھری عامر علی چیئرمین کا انتخاب ہار گئے ہیں۔رانا ثنا ء اللہ نے چودھری شیر علی کو ہرا دیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ چودھری شیر علی کے لئے مسلم لیگ (ن) میں دروازے بند ہوتے جارہے ہیں ۔ اور فیصل آباد کے نتائج نے ان کے لئے مزید راستے بند کر دیئے ہیں۔ شائد اب چودھری شیر علی کو خود ہی مسلم لیگ (ن) چھوڑ دینی چاہئے۔ ورنہ انہیں آہستہ آہستہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا جائے گا۔ رانا ثنا ء اللہ اور چودھری شیر علی کے درمیان بنیادی طور پر 19 یونین کونسل میں مقابلہ تھا۔ لیکن ان میں سے اکثریت رانا ثنا اللہ نے جیت کر فیصل آباد میں اپنی برتری قائم کر دی ہے۔

بہر حال پنجاب اور سندھ کے پہلے مرحلہ کے نتائج نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی اس دلیل کو مزید تقویت دی ہے کہ ان نتائج نے 2013 کے انتخابی نتائج کی توثیق کر دی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس دلیل کو بھی تقویت ملی ہے کہ بلدیاتی انتخابات ہمیشہ حکمران جماعت ہی جیتتی ہے۔ کے پی کے میں تحریک انصاف جیتی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی جیتی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو برتری ملی۔ بس یہی ہیں بلدیاتی انتخابات ۔ جس کا ہمیں بہت عرصہ سے ا نتظارتھا۔ یہ نظام کیا دے گا۔ اس پر بھی کوئی سوالیہ نشان نہیں ۔ سب کو معلوم ہے۔ کچھ نیا نہیں ہے۔ بس پرانی شراب نئی بوتل میں۔

مزید : کالم