کوٹ لکھپت ،بے دردی سے قتل ہونیوالی خاتون کے ملزموں کو پولیس گرفتار نہیں کر سکی

کوٹ لکھپت ،بے دردی سے قتل ہونیوالی خاتون کے ملزموں کو پولیس گرفتار نہیں کر ...

لاہور (کرائم سیل) کوٹ لکھپت کے علاقہ میں بے دردی سے قتل ہونیوالی خاتون تسلیم کے ملزمان کو پولیس کئی روز گزرنے کے باجود گرفتار نہیں کرسکی۔ شہر میں اندھے قتل بالخصوص خواتین کے قتل کے واقعات معمول بن گئے ہیں، روزانہ تین سے چار لاشیں مل رہی ہیں۔ ایسے گھناؤنے واقعات سے شہریوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے،ذمہ دار گروہ کی گرفتاری کے لئے حکومت کو سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔ بتایا گیا ہے کہ مہارشریف تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر کی رہائشی 35 سالہ تسلیم بنت احمد یار گزشتہ کئی سال سے ایم ایم عالم روڈ پر بیوٹی پارلر چلا رہی تھی۔ 16 اکتوبر 2015 کو کوٹ لکھپت کے علاقہ مین فیروز پور روڈ شنائی پل کے نیچے ایک شاپر بیگ میں ٹکڑوں میں تقسیم لاش کے کچھ حصے ملے جبکہ ایک دوسرا شاپر بیگ جوہرٹاؤن کے علاقہ سے اسی روز ملا جس میں اس خاتون کی لاش کے متعدد ٹکڑے موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اس خاتون کو بے دردی سے قتل کرکے لاش کو 12حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جبکہ مردہ خانے کی انتظامیہ کے مطابق لاش کے 12نہیں 16ٹکڑے ہیں۔ لاش کے ان ٹکڑوں کی موجودگی سے علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا۔ کوٹ لکھپت پولیس کے انچارج انویسٹی گیشن نور الحسن نے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے روزنامہ’’ پاکستان‘‘ کو بتایا کہ شروع میں خاتون نامعلوم تھی تاہم پولیس نے نادرا اور دیگرتفتیش کے دوران پتہ چلایا تو اس کی شناخت ہو گئی اور رہائش پر اطلاع دی گئی۔ پہلے خاتو ن کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا۔ شناخت ہونے پرمقدمہ بھائی کی مدعیت میں درج کرلیاگیا اوراس مقدمے کی مزید تفتیش مقامی ڈی ایس پی نشتر کالونی سید اقبال حسین شاہ کے سپرد کردی گئی۔ کوٹ لکھپت پولیس نے شبہ میں چار خواتین اور ایک مرد کو شامل تفتیش کیا تھا مگرانہیں بھی مقامی ڈی ایس پی کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی سیداقبال حسین شاہ نے اس مقدمے کے حوالے سے روزنامہ’’ پاکستان‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے موقف اختیار کیاہے کہ اس گھناؤنے قتل کی مختلف پہلوؤ ں سے تفتیش جاری ہے اورابھی تک اصلی قاتل گرفتار نہیں ہوسکے۔ خاتون کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ12 اور8 سالہ دو کمسن بچوں کی ماں اور طلاق یافتہ تھی۔ اس کے ماں باپ فوت ہوچکے ہیں۔ تین چاربھائی ہیں جو محنت مزدوری کرتے ہیں اور یہ خاتون سیون اپ گلبرگ ایم ایم عالم روڈ کے قریب مان نام سے بیوٹی پارلر کا کاروبار کرتی تھی۔ اس کی ساتھی خواتین کو شامل تفتیش کیا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ وہ اچھی شہرت کی مالک نہیں تھی۔ اس کے بچوں کو بھی شامل تفتیش کرنے کے علاوہ بھائیوں سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ جاری ہے،متوفیہ علیحدہ جبکہ بھائی بھی علیحدہ گھروں میں رہتے تھے ۔ ابھی تک ملزمان ٹریس نہیں ہوئے اور خاتون کے قتل ہونے کی وجوہات بھی معلوم نہیں ہوسکیں، امید ہے پولیس اصل ملزمان تک ضرور پہنچ جائے گی۔

مزید : علاقائی