بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن کی غلطیوں کی بھرمار

بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن کی غلطیوں کی بھرمار

لاہور(رپورٹنگ ٹیم)بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں الیکشن کمیشن نے غلطیوں کی بھرمار کر دی۔ کہیں شیر کی جگہ ہیرا اور کہیں بالٹی چھپ گئی۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی کی وجہ سے کئی جگہوں پر ووٹنگ کا عمل شروع نہ ہوسکا۔ لاہور میں کئی جگہوں پر کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی دو سو چوہتر یونین کونسلوں میں الیکشن کا عمل تو شروع ہو چکا ہے لیکن نہ صرف ووٹرز بلکہ امیدواروں کی جانب سے بھی بے شمار شکایات سامنے آرہی ہیں۔یونین کونسل 185 میں الیکشن کمیشن کی طرف سے فراہم کئے گئے بیلٹ پیپر پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار برائے جنرل کونسلر رانا سجاد کے انتخابی نشان شیر کی جگہ بالٹی چھپ گیا جس کی وجہ سے پولنگ کا عمل روکنا پڑا۔ کاہنہ چونگی کے علاقے میں یونین کونسل 231 میں امیدوار جاوید اقبال جو کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار تھے ان کے انتخابی نشان شیر کی جگہ ہیرا چھپ گیا۔یونین کونسل 86 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ساجد کمبوہ کے بیلٹ پیپر پر شیر کے نشان کی جگہ ڈھول چھپ گیا۔ جوہر ٹاون کے علاقے سمسانی میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں ہاتھا پائی ہوئی جس کی وجہ سے پولنگ کاعمل بھی رک گیا جبکہ کاہنہ کے علاقے سلطانپورہ سے پولیس نے مسلح شخص مبین کو حراست میں لے لیا۔کئی یونین کونسلوں میں آزاد اور پی ٹی آئی کے امیدواروں نے انتخابی عملہ پر جانبداری کے الزام بھی لگائے ہیں۔

مزید : صفحہ اول