ریسکیو15، ریسپانس ٹائم ساڑھے 7منٹ، گھنٹوں لیٹ پہنچنا پولیس کا معمول بن گیا

ریسکیو15، ریسپانس ٹائم ساڑھے 7منٹ، گھنٹوں لیٹ پہنچنا پولیس کا معمول بن گیا

لاہور(ملک خیام رفیق )پولیس ریسکیو15کا ریسپانس ٹائم ساڑھے 7منٹ ہے لیکن اکثراوقات پولیس لیٹ پہنچتی ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سنجیدہ کالز کو ترجیح دی جاتی ہے تاہم عام نوعیت کے معاملات پر تا خیر ہو سکتی ہے ریسکیو15ایمرجنسی پر فرضی اور مذاق کے طور پر کال کرنے والوں کے لیے قانون میں 3سال قید ،جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہیں ، ایک محتاط اندازے کے مطابق ریسکیو15پر پولیس موصول ہونے والی کالز میں سے 95فیصد بوگس نکلتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو15 پر تقریبا95فیصد کالز فرضی ، مذاق کے طور پر یا پھر وقت گزاری کیلئے کی جاتی ہیں ،جس میں فون کرنے والے افراد کا مقصد محض قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مذاق کرنا مقصودہوتا ہے لیکن اب پولیس حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ فون پر مذاق کرنے والوں کے خلاف ٹیلی گراف ایکٹ 1885ء کے تحت کاروائی کی جائے گی ۔جس کیلئے ایک ایسا سافٹ ویئر خصوصی طور تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے اسے تمام ہیلپ لائنوں پر انسٹال کیا جائے گا اوراس سافٹ ویئر کے ذریعے ایسے فون کرنے والوں کا سراغ لگایا جاسکے گا جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کا وقت اور وسائل ضائع کرتے ہیںیہ سافٹ ویئر ایسے تمام نمبروں کو بھی بلاک کردے گا جہاں سے عموماً شرارت کے طور پر کالیں کی جاتی ہیں۔پولیس حکام نے اب ان بوگس کالوں کے سدباب کے لئے کالوں کو بلاک کرنے کے لیے یہ ٹیکنالوجی حاصل کی ہے تاکہ ایسی فون کال کرنے والوں کی آواز کی شناخت کرکے اس کی مدد سے انہیں ٹیلی گراف ایکٹ 1885ء کے سیکشن 25ڈی کے تحت گرفتار کیا جاسکے،سیکشن 25ڈی میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی فرد جو کسی سرکاری یا نجی ٹیلی فون کا استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کو تنگ کرتا ہے یا دھمکی دیتا ہے، تو ٹیلی گراف اتھارٹی اس ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی اور ایسے شخص کو تین سال قید، جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر