قبائلی عوام کا ایف سی آر کے خاتمہ کیلئے 16نومبر کو بھرپور احتجاج کا اعلان

قبائلی عوام کا ایف سی آر کے خاتمہ کیلئے 16نومبر کو بھرپور احتجاج کا اعلان

پشاور (پاکستان نیوز )قبائلی عوام نے گو ایف سی آر گو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اس قانون کے خاتمے کے لیئے 16 نومبر کو اسلام آباد میں بھر پور احتجاج کا اعلان کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ ایف سی آر کی حمایت کرنے والے کو قبائلی اپنا دشمن تصور کرینگے ، فاٹا کو پاٹا میں ضم کرنے کی حمایت کی گئی ، فاٹا لائرز فورم کے زیر اہتمام قبائلی علاقوں کی آئینی حیثیت کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس میں تمام قبائلی رہنما ، عمائدین مشران اورقبائلی اراکین قومی اسمبلی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قبائلی علاقوں سے ایف سی آر قانون کے مکمل خاتمے تک احتجاجی تحریک جاری رکھی جائیگی ۔یہ اعلان گزشتہ روز نشتر ہال پشاور میں فاٹا لائرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ فاٹا کی آئینی حیثیت کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مقررین کی جانب سے کیا گیا۔ کانفرنس میں فاٹا لائرز فورم کے عہدیداروں سمیت رکن قومی اسمبلی آخونزادہ چٹان ، الحاج شاہ جی گل ، سینئر وکیل لطیف آفریدی ، سپریم کورٹ کے وکیل غلام نبی ایڈوکیٹ ، جماعت اسلامی کے سابق رکن قومی اسمبلی ہارون رشید ، پی پی پی کے جنگریز خان مہمند ، اے این پی کے نثار مہمند ، شیخ خانزادہ باجوڑی ، قبائلی خواتین اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ کانفرنس کے شرکا سے اپنے خطاب میں الحاج شاہ جی گل ، آخونزادہ چٹان ، لطیف آٖفریدی اور غلام نبی ایڈوکیٹ سمیت تمام مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے وجود میں آنے اور روس کو شکست دینے کے بعد سے قبائلی عوام کو سب نے تن تنہا چھوڑ دیا۔ قبائلی علاقوں میں لاگو کیئے جانے والے قانون ایف سی آر کو مقررین نے قالا قانون قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو چیلنج کیا کہ اگر وہ اس قانون کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے تو اسے پنجاب میں لاگو کرکے بتائیں ۔مقررین نے واضح کیا کہ قبائلی عوام پر پولیٹیکل ایجنٹ آمریت کی بد ترین شکل میں موجود ہیں اور مظالم کی انتہا کردی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی روح سے قبائلی بھی پاکستان کا حصہ بتائے گئے ہیں لیکن یہ صرف لکھت پڑت کی حد تک ہی ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں لاگو ایف سی آر آئین پاکستان کی مکمل نفی کرتا ہے ۔انکا کہنا تھا کہ فاٹا کی آئینی حیثیت بدلی جائے ۔ کانفرنس کے تقریباً تمام ہی مقررین نے فاٹا کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ضم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ 16 نومبر 2015 کو تمام قبائلی جو ایف سی آر کا مکمل خاتمہ اور قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی حمایت کرتے ہیں احتجاج کے لیئے اسلام آباد کی سڑکوں پر ہونگے ۔

مزید : پشاورصفحہ اول