سعودی عرب میں پاکستانی ڈرائیور کی شرمناک حرکت ، کفیل کی بیٹی کا اغواءاور جنسی زیادتی ، دوست کو بھی گناہ کی دعوت

سعودی عرب میں پاکستانی ڈرائیور کی شرمناک حرکت ، کفیل کی بیٹی کا اغواءاور ...
سعودی عرب میں پاکستانی ڈرائیور کی شرمناک حرکت ، کفیل کی بیٹی کا اغواءاور جنسی زیادتی ، دوست کو بھی گناہ کی دعوت

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی بیرون ملک جا کر طرح طرح کے گل کھلاتے ہیں اور جرائم کرتے ہیں جس سے وطن ِ عزیز پاکستان کا نام بدنام ہوتا ہے لیکن سعودی عرب جیسے مقدس ترین ملک میں ایک پاکستانی ڈرائیور نے ایسی شرمناک حرکت کی ہے کہ تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ۔

اماراتی نیوز ویب سائٹ 24/7میں شائع خبر کے مطابق ایک پاکستانی ڈرائیور نے اپنے سعودی کفیل کی بیٹی کو اغواءاور اپنے دوست کے ہمراہ اسے نہ صرف جنسی زیادتی کاشکار بنایا بلکہ موبائل فون سے اس کی تصاویر اور ویڈیو بھی بنا لی اور دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دینگے ۔ اس ذلیل اور بدبخت پاکستانی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی ڈرائیور اپنے سعودی کفیل کی بیٹی کو یونیورسٹی سے لینے گیا اور اسے واپس اس کے گھر پہنچانے کے بجائے اسے اغواءکر کے ایک گھر میں لے گیا جہاں اس نے اپنے ایک دوست کو لڑکی سے جنسی زیادتی کی دعوت دی ۔تاہم سعودی لڑکی نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس کو شکایت کر دی جس کے باعث پاکستانی ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے ۔ خبر سوشل میڈیا پر آنے کے بعد سعودی والدین کو وارننگ دی جا رہی ہے کہ نئے ڈرائیور ز یا ناقابل اعتبار ڈرائیورز کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو ہرگز ہرگز نہ بھیجیں ۔

سوشل میڈیاپر اس خبر کے رد عمل پر ایک سعودی طالبہ ماہا نے کہا ہے کہ ڈرائیورز کی جانب سے ہراساں کی جانب سے اکثر لڑکیاں پریشان ہیں ۔ ایک اور سعودی لڑکی لیلہ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کا تعلیمی اداروں کو جانے کے دوران کار میں سو جانا تشویش کا باعث ہے ۔سعودی لڑکی صیہام نے لکھا ہے کہ ڈرائیور کے ساتھ تنہا کار میں سفر کرنا خطرناک ہے ، یونیورسٹی بس یا پھر اکٹھے لڑکیوں کا سفر بہتر اور محفوظ ہے ۔

مزید : جرم و انصاف