تحریک انصاف کے انتخابی کیمپوں میں فضا بو جھل اور سوگوار کیوں تھی ؟

تحریک انصاف کے انتخابی کیمپوں میں فضا بو جھل اور سوگوار کیوں تھی ؟
تحریک انصاف کے انتخابی کیمپوں میں فضا بو جھل اور سوگوار کیوں تھی ؟

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

پنجاب اور سندھ میں پہلے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات کے نتیجے کا اعلان ہوگیا، کامیابیوں اور ناکامیوں کی فہرست بھی بن گئی، جماعتی بنیادوں پر یہ پہلے بلدیاتی انتخابات تھے اس لئے ان میں سیاسی جماعتوں کی دلچسپی بھی زیادہ تھی، ویسے تو ہر بلدیاتی الیکشن میں سیاسی جماعتیں کسی نہ کسی انداز میں شریک ہوتی ہیں۔ ان کے امیدوار بھی ہوتے ہیں جن کی وہ حمایت کرتی ہیں لیکن امیدواروں کو ٹکٹ پہلی مرتبہ جاری ہوئے تھے، پنجاب میں الیکشن میں دلچسپی زیادہ تھی کیونکہ یہاں مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کا براہ راست مقابلہ تھا، ابھی لاہور کے حلقہ 122کے ضمنی انتخاب کی یادیںتازہ تھیں، اگرچہ اس حلقے میں ایاز صادق دوبارہ جیت گئے تھے، لیکن جیت کے ووٹوں کامارجن کم ہونے کی وجہ سے بہت سے تجزیہ کار اور اینکر پرسن دور دور کی کوڑیاں لارہے تھے، بہت سے ایسے تھے جو اس فتح کو سرے سے فتح ہی ماننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ ان کے نزدیک اتنے کم مارجن سے فتح تو شکست ہی کے مترادف تھی، اسی بنیاد پر وہ مسلم لیگ (ن) کے زوال کی پیش گوئیاں بھی کرنے لگے تھے، اور ان کا خیال تھا کہ لاہور اب مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ سے نکلاکہ نکلا، بلدیاتی الیکشن کے بعد ہم نے ان تجزیہ کاروں کو ڈھونڈا تو ان کا کوئی سراغ نہ ملا، وزیراعلیٰ شہباز شریف نے تو اس الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی فتح کو اس انداز سے دیکھا ہے، کہ ان نتائج نے 2013ءکے انتخابی نتائج پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے، بعض دوسروں کے نزدیک ان انتخابی نتائج کا اثر 2018ءکے انتخابات پر بھی پڑے گا، ایک اور تجزیہ نگار کا خیال تھا کہ لودھراں میں جو امیدوار جیتے ہیں وہ چونکہ صدیق بلوچ گروپ سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کے حامی متصور ہوتے ہیں اس لئے اس حلقے میں دوماہ بعد جو ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے اس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو، اور نقصان جہانگیر ترین کو ہوگاالیکشن والے دن ہم نے لاہور کے اکثر و بیشتر حلقوں میں گھوم پھر کر دیکھا تو تحریک انصاف کے امیدواروں کے کیمپوں میں وہ رونق نظر نہ آئی، ایک صاحب سے جو شعروسخن کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھ دیا:

تھی وہ اک شخص کے تصور سے

اب وہ رعنائی خیال کہاں

ہم نے کہا شعر وسخن کے پردے میں چھپنے کی کوشش نہ کرو، صاف صاف مدعا بیان کرو تو انہوں نے کہا اگر آپ تحریک انصاف کے کیمپوں میں وہ رونقیں دیکھنا چاہتے ہیں جو حلقہ این اے 122کے ضمنی انتخاب میں لگی ہوئی تھیں تو اس کی وجہ تو علیم خان تھے، جنہوں نے اپنے ورکروں کو متحرک کیا ہوا تھا، انہیں انتخابی دفاتر کھول کر دیئے ہوئے تھے، دفاتر کے اخراجات بھی فراخ دلی سے پورے کئے جارہے تھے، اب گلی محلے کے ان الیکشنوں میں تو وہ صورت حال نہیں ہوسکتی ، عرض کیا علیم خان تو اسی لاہور میں ہیں اور اسی پارٹی میں ہیں کیا اب کی بار وہ اپنی پارٹی کے امیدواروں کی ضروریات کا خیال نہیں رکھ رہے تو ان کا کہنا تھا، ظاہر ہے اب ان کی دلچسپی کا درجہ وہ نہیں ہے جو ان کے اپنے الیکشن میں تھا۔

الیکشن سے ایک روز پہلے عمران خان اور ریحام خان کی طلاق کی خبر بھی پارٹی کارکنوں کو مغموم کرگئی تھی، اگرچہ بعض لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اس خبر سے ان کا الیکشن متاثر نہیں ہوتا، لیکن یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اس خبر نے کارکنوں خصوصاً خواتین کارکنوں کو رنجیدہ ضرور کیاتھا، یہی وجہ تھی کہ تحریک انصاف کے انتخابی کیمپوں کی فضا سوگوار تھی، جس سے مخالفین یہ اندازہ لگارہے تھے کہ یہ بوجھل فضا متوقع شکست کی وجہ سے ہے، جبکہ ایک دوسری رائے یہ تھی کہ الیکشن کا نتیجہ تو جو بھی ہو، اس خبر نے انہیں اداس کر دیا ہے۔ ہم خود ایک کیمپ میں گئے جہاں ہمارے جاننے والے امیدوار تھے، ان سے پوچھا ”کیا پوزیشن ہے “ تو انہوں نے بتایا کہ عمران خان کے ذاتی غم نے ہم کارکنوں کو بھی دکھی کردیا ہے اور ہمارے کارکن اب دلجمعی سے ووٹروں کو لانے لے جانے کا کام نہیں کرسکتے۔

ایک تہائی اضلاع کا الیکشن ہوچکا ہے جبکہ دو تہائی اضلاع کا الیکشن دوسرے اور تیسرے مرحلے میں ہوگا، ایک مسلم لیگی ورکر سے ہم نے پوچھا کہ اگلے مرحلے میں آپ صورت حال کو کس طرح دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا جیت کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کو جو نفسیاتی برتری حاصل ہوگئی ہے اگلے مرحلے پر اس کا اثر بھی پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور کے نتائج کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کا ورکر بہت زیادہ پرامید ہوگیا ہے اور اگلے دونوں مرحلوں کا نتیجہ بھی ملتا جلتا ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ حلقہ این اے 122کے نتیجے کے بعد دور کی کوڑیاں لارہے تھے وہ بھی مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں۔

2013ءکے عام انتخابات کے بعد ضمنی انتخابات کنٹونمنٹ بورڈوں کے انتخابات اور اب بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ 2013ءکے الیکشن میں کوئی دھاندلی وغیرہ نہیں ہوئی تھی اور اگر کہیں پولنگ میں کوئی بے ضابطگیاں یا بے قاعدگیاں روارکھی گئیں یا عملہ پوری طرح تربیت یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے کہیں کسی بیلٹ پیپر کے کاﺅنٹر فائل پر ووٹر کا نشان انگوٹھا وغیرہ نہیں لگ سکا تو اس کا الیکشن کے حقیقی نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا، اور جن لوگوں نے دھاندلی کو مسئلہ بناکر پورے ملک میں ایک ہیجانی فضا پیدا کررکھی تھی ضمنی انتخابات میں پے درپے شکستوں اور اب بلدیاتی انتخابات میں ناکامی کے بعد ان کی بے قراری کو قرار آجانا چاہئے اور جو تھوڑی بہت کسر باقی ہے وہ اس وقت پوری ہوجائے گی جب تینوں مراحل مکمل ہو جائیں گے اور تمام تر شکوک وشبہات شیشے کی طرح صاف ہوجائیں گے۔

مزید : تجزیہ